واپڈا اورنسٹ کے درمیان مفاہمتی یاد داشت پر دستخط

واپڈا اورنسٹ کے درمیان مفاہمتی یاد داشت پر دستخط

لاہور(کامرس رپورٹر)واپڈا اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے درمیان آج ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے جس کے تحت دونوں ادارے ملک میں پانی کے وسائل کے بہتر استعمال کو فریوغ دینے کے لئے مل جُل کر کام کریں گے اور پاکستان کو درپیش آبی مسائل کے حوالے سے تربیت اور تحقیق کی مشترکہ سرگرمیوں میں بھی باہمی تعاون کریں گے ۔چیئرمین واپڈا ظفر محمود اور نسٹ کے ریکٹر انجینئر محمد اصغر نے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کئے ۔ جس کے اہم نکات میں مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد ، پانی کے استعمال کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا ، پانی سے متعلق معاملات کے بارے میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں میں اضافہ ، معلومات کا تبادلہ ، سائنسی اور تکنیکی افراد کا باہمی تبادلہ اور اُن کی تربیت اور نسٹ کے طلباء کی واپڈا منصوبوں میں انٹرن شپ جیسے امور شامل ہیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ آبی وسائل کے مؤثر نظم و نسق اورزندگی کے مختلف شعبوں میں پانی کے محتاط استعمال کو فروغ دینے کے لئے واپڈا تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کر رہا ہے اور ملک کے نامور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر اس حوالے سے کام بھی کر رہا ہے ۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ قبل ازیں واپڈا اسی نوعیت کی تین مفاہمتی یاد داشتوں پر مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو ، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے ساتھ بھی دستخط کر چکا ہے ملک کو درپیش آبی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ کی وجہ سے ملک میں پانی کی فی کس دستیابی میں کمی ، پانی ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت ، پانی کی حقیقی قیمت کا عدم تعین ، بے تحاشا پمپنگ کی وجہ سے زیرزمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح اور گھریلو ، صنعتی اور زرعی شعبوں میں پانی کا ضیاع اِن مسائل میں سرِ فہرست ہیں ۔

اُنہوں نے کہا کہ مذکورہ مسائل کے حل کے لئے تمام فریقین کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمتِ عملی کی تشکیل ناگزیر ہے۔اِس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے NUST کے ریکٹر نے کہا کہ زندگی کے تمام شعبوں میں پانی کا باکفایت اور زیادہ سود مند استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ واپڈا اور NUST کے درمیان مفاہمتی یاد داشت واٹر سیکٹر میں ایک مثبت قدم ہے اور دونوں اداروں کے باہمی تعاون کی بدولت آبی وسائل کے بارے میں بہتر گورننس اور مؤثر نظم و نسق کے فروغ میں مدد ملے گی ۔

مزید : کامرس


loading...