اقتصادی راہداری کے تحت نئے اور جدید شہربسائے جائیں گئے: علی آغا

اقتصادی راہداری کے تحت نئے اور جدید شہربسائے جائیں گئے: علی آغا

فیصل آباد (بیورورپورٹ) چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالہ سے مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے جامع حکمت عملی اور نجی شعبہ کی مشاورت سے نئے اور جدید شہر بسائے جائیں گے جو مقامی لوگوں کی تمام تر معاشی و سماجی ضروریات کو پورا کر سکیں گے۔ یہ بات نیو اکنامک سٹی کے پراجیکٹ منیجر علی آغا نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں مقامی تاجر وں اور صنعتکاروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی ایم 2- موٹر وے پر لللہ کے مقام پر بسائے جانے والے مجوزہ شہر کے بارے میں ابتدائی مشاورت کر چکے ہیں تاہم پنجاب حکومت اس سلسلہ میں مقامی تاجروں کی مزید مشاورت کو ضروری سمجھتی ہے تا کہ اقتصادی راہداری سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس سے لوگوں کی ضروریات ، خواہشات اور توقعات کو بھی پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ لللہ کی جگہ کا تعین بھی حتمی نہیں تھا تاہم اس سلسلہ میں غیر ملکی مشاورت فرم کو ذمہ داریاں سونپی گئیں تا کہ پنجاب کے مختلف مقامات کی رینکنگ کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں بھی لللہ پہلے نمبر پر آیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ سی۔پیک یونیورسٹی اور سی پیک ٹی وی کے علاوہ دریاے سندھ کے ذریعے واٹرٹرانسپورٹ کی سہولت بھی تجویز کر رہے ہیں۔

جو عام ٹرانسپورٹ سے دس گنا سستی ہوگی۔ امریکی مشاورتی کمیٹی فراسٹ اینڈ سلیوان کی محترمہ سمیتا خاور نے سٹڈی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس کمپنی کی سٹڈی کے تین حصے ہیں ۔ پہلا یہ کہ کیا مارکیٹ نیا شہر بسانے کی اجازت دیتی ہے۔ دوسرا اس کیلئے نئے شہر کی جگہ کا انتخاب اور تیسرا مرحلہ اس پر عملدرآمد کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے تقاضوں کیلئے صنعت اور اربن ڈویلپمنٹ کو یکجا کرکے ہی منظم اور مربوط ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے بعد پاکستان میں گزشتہ پچاس سالوں میں کوئی نیا شہر نہیں بنایا گیا جس کی وجہ سے نئے شہر کا قیام ضروری ہے اور اس سلسلہ میں پنجاب حکومت سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ اربن ڈویلپمنٹ یونٹ کے ندیم خورشید نے بتایا کہ نئے شہر بسانے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ حکومت موجودہ شہروں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سے قبل ورلڈ بنک کے تعاون سے فیصل آباد کا ماسٹر پلان تیار کر چکے ہیں اور اس کے بعدگزشتہ 2 سالوں میں صرف فیصل آباد میں 40 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی۔ انہوں نے فیصل آباد کی ایم تھری انڈسٹریل ایسٹیٹ کے علاوہ پنجاب کے 5 صنعتی علاقوں کو سپشیل اکنامک زون قرار دینے کو موجودہ حکومت کا اہم کارنامہ قرار دیا اور بتایا کہ حکومت صوبے کی تمام انڈسٹریل ایسٹیٹس میں مشترکہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی لگا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس نئے شہر کو بسانے کے سلسلہ میں ملک بھر کے علاوہ چین اور ترکی میں روڈ شو بھی کئے جائیں گے ۔ تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی خواہش ہے کہ سب سے پہلے اس سے مقامی تاجروں اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچایا جائے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر چوہدر ی محمد نواز نے بتایا کہ وہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ہمراہ چین جا رہے ہیں اس دورے کا مقصد بھی پنجاب کی ترقی کیلئے چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔ انہوں نے اس سے قبل اپنے دورہ چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے ترقی کیلئے کئی سال پہلے ہی منصوبہ بندی کر لی تھی ہمیں بھی آئندہ دس سال بعد نئے اور جدید شہر بسانے کی ضرورت ہوگی اور اس کیلئے موجودہ سٹڈی ناگزیر ہے انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت بہت سے چینی سرمایہ کار پاکستانی صنعتکاروں سے مل کر مشترکہ منصوبے لگانے کیلئے بھی تیار ہیں جس کو تربیت یافتہ اور ہنر مند افراد ی قوت بنانے کیلئے ہمیں ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فیصل آباد چیمبر نے سی پیک پر اپنے ممبران کو ضروری معلومات مہیا کرنے کیلئے ملک کا پہلا سی پیک سیل قائم کر دیا ہے جس سے عام لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اربن یونٹ آئندہ بھی اس قسم کے منصوبوں کے حوالے سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ سوال و جواب کی نشست میں رانا سکندر اعظم ، احمد حسن اور امتیاز احمد نے بھی حصہ لیا۔ بعد میں ظفرا للہ سلیمی نے پراجیکٹ منیجر علی آغا کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی خصوصی شیلڈ پیش کی جبکہ شاہد ممتاز باجوہ نے مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔

مزید : کامرس


loading...