کیا ایرانی صدر حسن روحانی اگلا صدارتی الیکشن لڑسکیں گے ؟

کیا ایرانی صدر حسن روحانی اگلا صدارتی الیکشن لڑسکیں گے ؟

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

  ایرانی صدر حسن روحانی، جنہوں نے گزشتہ برس امریکہ اور پانچ دوسرے ملکوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کرکے عالمی برادری میں ایران کی تنہائی ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اس وقت سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے حامیوں کے دباؤ کا شکار ہیں۔ اس معاہدے کیلئے ایران کے امریکہ اور مغربی طاقتوں سے طویل مذاکرات ہوئے، ایران کی جانب سے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے مذاکرات کئے اور ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے میں کامیاب ہوگئے جسے دنیا بھر میں سراہا گیا اور جواد ظریف کی بطور مذاکرات کار مہارت کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ایران نے اس معاہدے کے نتیجے میں اگرچہ اپنے جوہری پروگرام پر بعض پابندیاں قبول کیں لیکن اس کے بدلے میں اسے جو کچھ حاصل ہوا اسے ایرانی عوام نے تحسین کی نظر سے دیکھا۔ ایران پر جو اقتصادی پابندیاں عائد تھیں ان کی وجہ سے ایرانی معیشت پر برے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ ایرانی کرنسی (ریال) کی قیمت مسلسل گر رہی تھی، مہنگائی بڑھ رہی تھی۔ ایرانی تیل کے دنیا میں خریدار کم ہو رہے تھے اور بھارت جیسے ممالک جو پابندیوں کے باوجود تیل خرید رہے تھے وہ بھی ادھار کر رہے تھے۔ اب تک بھی بھارت نے پوری ادائیگی نہیں کی اور عالمی پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ ہی ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں سرمایہ کاری کردی۔ اگرچہ اس کا مقصد چاہ بہار سے ایران کے راستے افغانستان اور وسط ایشیائی ملکوں تک رسائی ہے تاہم بھارت کو گوادر کی بندرگاہ کی ترقی بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور اس کی خواہش ہے کہ چاہ بہار کو گوادر کے مقابلے کی بندرگاہ بنا دیا جائے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ چاہ بہار نسبتاً چھوٹی بندرگاہ ہے۔ عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد صرف بھارت ہی ایران میں سرمایہ کاری کیلئے داخل نہیں ہوا اور بھی کئی ملکوں نے سرمایہ کاری کیلئے پیش قدمی کی۔ ایرانی ہوا بازی کی تاریخ میں سب سے بڑا معاہدہ بھی بوئنگ اور ایئر بس کمپنیوں کے ساتھ ہوگیا کیونکہ ایران کی ہوائی کمپنیاں پابندیوں کی وجہ سے پرانے جہازوں سے کام چلا رہی تھیں اور نئے جہاز پابندیوں کی وجہ سے خریدے نہیں جاسکتے تھے۔ فالتو پرزے نہ ملنے کی وجہ سے بھی بہت سے جہاز گراؤنڈ ہوچکے تھے۔

پابندیوں کے خاتمے سے ایران کو ملنے والے فوائد اپنی جگہ، تاہم ایران میں صدر حسن روحانی کے بعض مخالفین کے نزدیک جوہری معاہدے کے باوجود امریکہ نے ایران کے متعلق اپنا طرزعمل نہیں بدلا۔ بوئنگ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی ابھی تک توثیق نہیں کی گئی۔ نتیجہ کے طور پر اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہوسکا۔ جوہری معاہدے پر ان جزوی اعتراضات کی وجہ سے ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے سخت گیر حامی چاہتے ہیں کہ صدر حسن روحانی کو دوسری مدت کیلئے صدارتی امیدوار نہ بننے دیا جائے۔ ایران میں مجلس خبرگان رہبری صدر سمیت الیکشن میں حصہ لینے والے ہر امیدوار کا جائزہ لے کر منظوری دیتی ہے کہ وہ الیکشن لڑ سکتا ہے یا نہیں، اگرچہ صدر حسن روحانی کے حامیوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے تاہم اگر صدر روحانی کو الیکشن لڑنے سے ہی روک دیا گیا تو وہ کوئی کردار ادا نہیں کرسکیں گے۔ 2013ء کے صدارتی انتخاب میں صدر حسن روحانی نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی، ان کا نعرہ تھا کہ وہ ایران کی سفارتی تنہائی ختم کریں گے اور معیشت کو مضبوط بنائیں گے چنانچہ انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی اس سلسلے کا آغاز کردیا، جوہری معاہدہ ان کی تاریخی کامیابی تھی لیکن اس وقت صدر روحانی کو سپریم لیڈر کی جانب سے جس دباؤ کا سامنا ہے اس کی وجہ سے وہ خود یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ رضاکارانہ طور پر اگلے انتخابات میں امیدوار بننے سے معذرت کرلیں۔ ایرانی آئین کے مطابق ایک صدر دو ٹرم کیلئے الیکشن لڑ سکتا ہے، ماضی میں جتنے بھی صدر منتخب ہوئے دو ٹرم کیلئے ہی ہوئے۔ اب اگر صدر روحانی الیکشن نہ لڑیں یا انہیں الیکشن میں امیدوار بننے سے ہی روک دیا جائے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی ایرانی صدر ایک ہی ٹرم کے بعد عہدے سے فارغ ہو جائے گا۔ روحانی کے پیشرو محمود احمدی نژاد سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے قریب تھے اور انہی کی طرح مغرب کے متعلق سخت نظریات رکھتے تھے۔ امریکہ کے بارے میں بھی دونوں رہنماؤں کے خیالات میں زیادہ فرق نہ تھا، وہ اسرائیل کو بھی ہدف تنقید بنانے میں پیش پیش رہتے اور ہالو کاسٹ کے اسرائیلی نظریئے کو بھی مبالغہ قرار دیتے تھے۔ ایران اورامریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو اگر ایران کے بعض حلقے پسند نہیں کرتے تو خود امریکہ میں بھی اس معاہدے کی زبردست مخالفت ہوئی۔ کانگریس کے بعض ارکان نے تو ایرانی صدر کو خط لکھ مارا کہ وہ امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کریں ورنہ اگلا امریکی صدر اس معاہدے کو ختم کردے گا تاہم صدر اوباما اس معاملے پر ڈٹے رہے اور انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدے کی منظوری دی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرکانگریس نے اس معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو وہ صدارتی ویٹو کا استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے تاہم اس کی نوبت نہیں آئی۔ اب اگلی صدر اگر ہیلری کلنٹن منتخب ہوتی ہیں تو اوبامہ کی یہ پالیسی جاری رہے گی البتہ ڈونلڈ ٹرمپ منتخب ہوگئے تو جوہری معاہدے کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ جو ارکان کانگریس اس معاہدے کے مخالف ہیں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو کانگریس سے خطاب کی دعوت بھی دیدی تھی جہاں انہوں نے اوباما کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا۔ صدر روحانی کے مخالفین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ وعدے کے مطابق ایرانی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے ایرانی معیشت کی ترقی نہیں ہوسکی، نہ ہی توقع کے مطابق ایران میں غیر ملکی سرمایہ کاری آسکی ہے۔

ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندر مختلف نقطہ ہائے نظر کے حامل حکام کے درمیان سرد جنگ جاری ہے اور اگلے صدارتی انتخابات تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سخت گیر علماء ایسا ایرانی صدر چاہتے ہیں جو سید علی خامنہ ای سے ہدایات لے چونکہ صدر حسن روحانی کی پالیسیوں کی وجہ سے ایران عالمی تنہائی سے باہر نکل رہا ہے اور ان کی پالیسیاں ثمر بار ہو رہی ہیں لیکن علی خامنہ ای کے حامی پریشان ہوکر ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر تل گئے ہیں۔ ان کایہ خیال ہے کہ اگر صدر روحانی کو اگلے انتخابات میں حصہ لینے دیا گیا تو بھی ان کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مزید : تجزیہ


loading...