اتفاق شوگرملز اور کشمیر شوگر ملزکو407ملین سیلز ٹیکس کے بھجوائے گئے نوٹسزکیخلاف ان لینڈ ریونیو ٹربیونل کاحکم کالعدم

اتفاق شوگرملز اور کشمیر شوگر ملزکو407ملین سیلز ٹیکس کے بھجوائے گئے ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس شاہد کریم نے اتفاق شوگرملز اور کشمیر شوگر ملزکو407ملین سیلز ٹیکس کے بھجوائے گئے نوٹسزکے خلاف ان لینڈ ریونیو ٹربیونل کے عبوری حکم کو کالعدم کرتے ہوئے اسے دو ماہ میں درخواست پر فیصلے کا حکم دیا ہے جبکہ اس دوران وزیراعظم کے قریبی عزیزدرخواست گزار میاں طارق شفیع کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔درخواست گزار وں میاں طارق شفیع وغیرہ کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیاکہ 2011میں گوداموں میں چینی اسٹاک کرنے پرایف بی آرنے 407ملین کے سیلز ٹیکس کے نوٹسز بھجوادئیے۔ اس حوالے سے نہ تو انتظامیہ کا موقف سنا گیا۔ قانون کے تحت ایف بی آر بغیرتخمینہ لگائے سیلز ٹیکس کے نوٹسز نہیں بھجواسکتا۔ان نوٹسز کے خلاف ہم نے ان لینڈ ریونیو ٹربیونل سے رجوع کیا تو ٹربیونل نے اپنی عبوری حکم میں مشروط طور پر ٹیکس کی ادائیگی سے روکتے ہوئے شرط عائد کی کہ نوٹسز کی 30فیصد رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے ۔حالانکہ ٹربیونل کو اس قسم کا مشروط حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ۔چنانچہ فاضل عدالت اسکا نوٹس لیتے ہوئے ٹربیونل کے حکم کو کالعدم قرار دے ۔ ایف بی آر کے وکیل نے بتایاکہ سیلز ٹیکس کا تخمینہ مکمل جانچ پڑتال کے بعد لگایا گیا۔ ہائیکورٹ نے دونوں جانب سے موقف سننے کے بعد اتفاق شوگرملز اور کشمیر شوگر ملزکو407ملین سیلز ٹیکس کے بھجوائے گئے نوٹسزکے حوالے سے ان لینڈ ریونیو ٹربیونل کے عبوری حکم کو کالعدم کرتے ہوئے اسے دو ماہ میں درخواست پر فیصلے کا حکم دیا ہے جبکہ اس دوران میاں طارق شفیع کے خلاف کوئی کاروائی نہ کیاجائے ۔

مزید : علاقائی


loading...