ترک بغاوت کے اسباب

ترک بغاوت کے اسباب
 ترک بغاوت کے اسباب

  


ترک بغاوت کی ناکامی اور جمہوریت کی کامیابی کی کہانی سطحی و سرسری اذہان کے لئے دائم ادھوری رہے گی۔وہ دن تو قیامت کا ہی ہو گا جب اشیا اپنی اصل حالت میں نظر آئیں گی۔روز حشر اشیا اور حقیقت ایسے تو نظر نہ آسکیں گی۔۔۔جیسی کہ دنیا میں نظر آتی ہیں۔ترکی میں مسلح بغاوت اور پردے کے پیچھے فتح اللہ گولن۔۔۔بابا بات اتنی سادہ اور سہل نہیں جتنی میڈیا میں بتلائی اور پھیلائی جائے ہے۔سب جانتے ہیں نیو یارک کے پرآسائش اپارٹمنٹ میں مقیم۔۔۔مفلوج جسم مگر متحرک دماغ والے گولن صوفی ازم کے علمبردار ہیں۔کس کو خبر کہ اہل صفا کے بھیس میں اور عوامی فلاح و بہبود کے لبادے میں کتنی خضر صورتوں نے اپنے سیاسی عزائم چھپائے رکھے۔گولن بنیادی و جوہری طور پر اسماعیلی داعی ہیں۔اسماعیلی داعی؟جی ہاں وہی اسماعیلی داعی جو تاریخ کے ہر دور میں اور مختلف علاقوں میں سلطنت کے حصول کے لئے سرگرداں اور مخالفین سے نبرد آزما رہے۔

کس کے سان و گمان میں تھا کہ اسماعیلی داعی اپنی ترک تازیوں اور مہم جوئیوں کی بدولت۔۔۔عباسی خلافت کے عین قلب میں فاطمی خلافت کی بنیادیں اٹھا دیں گے۔ایسی عظیم الشان سلطنت کہ عباسی خلافت کا جاہ وحشم فاطمی خلافت کے آگے ماند و مدہم پڑتا تھا۔ہند ،سندھ اور ملتان و منصورہ ایسے دور دراز خطوں میں اگر فاطمی خلافت کا خطبہ پڑھا جاتا تھا ۔۔۔تو یہ بھی انہی داعیوں کا فیضان تھا ۔حضور آپ گولن کو محض باغیوں کا بادشاہ ہی نہ جانئے۔10ویں صدی عیسوی کے وسط سے 12ویں صدی کے وسط تک ۔۔۔ان کے قاہرہ اور قلعہ الموت قوت کے مرکز ومخرج کی حیثیت سے جانے جاتے رہے ہیں۔کسی بھی نئی تحریک کی زیر زمین آبیاری کرنا اور عوامی سطح پر اسے مقبول عام بنانا۔۔۔ان لوگوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل رہا ہے ۔ہاں البتہ اپنی اصلی نظری شناخت اور تحریک کو نظام وقت کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا ان کی حکمت عملی کا حصہ ٹھہرا۔کہا جاتا ہے کہ سخت نامساعد حالات میں بھی ان کی فطری تنظیمی صلاحیتیں اور داعیانہ اولولعزمی مثالی رہی ہے۔آل عباس کی عین ناک کے نیچے فاطمی خلافت کی پرورش وپرداخت۔۔۔اور آگے چل کر افریقہ میں اس کا سیاسی ظہور ان کے عزائم کا پتہ دیتا ہے ۔تیسری،چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کا سیاسی و سماجی منظر نامہ اگر جزیات کے ساتھ واضح ہو تو ان کے اصل کردار کا اندازہ ہو ۔غلام عباس کی ’’آنندی‘‘کے بعد پھر ماں نے کب کوئی ایسا لعل جنا جو معروضی تناظر کواپنے اصل پس منظر کے ساتھ متصور و متشکل کر سکے۔

باخبروں کو بتانے کی ضرورت کیا کہ قونیہ ترکی میں ہی واقع ہے ۔وہی قونیہ جسے جلال الدین رومی کی بدولت شہرت دوام حاصل ہوئی ۔پاکستان میں اگر کوئی علامہ کہے تو اس سے مراد اقبال کی ذات ،ایران میں رباعی کے شاعر کا تذکرہ ہوتو سمجھئے عمر خیام یاد آیا ۔ہندوستان کی علمی مجلسوں میں اگر کوئی امام الہند کہہ گزرے تو بلاتکلف جانئے کہ ابوالکلام آزاد ہیں اور اگر ترکی میں کوئی کہے مولانائے روم؟جی ہاں جلال الدین رومی!وہی رومی جسے اقبال ایسا نابغہ روزگار بھی پیر رومی کہہ کر یاد کیا کئے ۔وہی رومی جنہوں نے اپنی سریلی بانسری کی لے سے مدتوں لوگوں کو رُلایا ہے ۔۔۔وہی رومی جن کا سات صدیوں سے مسلم سواد اعظم میں سکہ چل اورڈنکہ بج رہا ہے۔۔۔سب سے بڑھ کر کہ وہی رومی جنہوں نے تصوف کی بائبل لکھی۔وہ عمر بھر اپنے اسماعیلی امام شمس الدین کی اتباع کی دعوت دیتے رہے اورآج بھی ان کی تعلیمات و مثنوی پر لاکھوں لوگوں کے دل دھڑکنے لگتے ہیں۔دل توخیر ترکوں کے زندہ شخص حضرت محمودآفندی کے لئے بھی بلیوں اچھلنے لگتے ہیں۔شیخ محمود آفندی !جی ہاں وہی آفندی کہ آج ترکی میں ’’حاضرت‘‘ کا لقب انہی کے لئے معروف ہے۔ہو نہیں سکتا کہ آپ ترکی جائیں اورآپ کے کانوں میں حضرت کا نام نامی نہ پڑے۔فاتح مسجد کے آس پاس توان کے ہزارو ں پیروکاروں کاجمگھٹا لگا رہتا ہے ۔کہا جاتا ہے چندسال قبل حضرت نے جب پیرانہ سالی میں حج کا قصد کیا ۔۔۔لاکھوں مریدین و متبعین اپنے اپنے چارٹر طیاروں میں انہی کی معیت میں حجاز چلے تھے۔راوی روایت کرتا ہے کہ لاکھوں ترکوں کی گردنیں حضرت کی اطاعت کی بیعت سے بندھی ہیں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے تار راست اپنے داعیوں سے نہ ملے ہوں؟چند سالوں سے ترک سیاست کے افق پر تیزی سے ابھرتی ہوئی روحانی شخصیت ہارون یحییٰ بھی ملک بھر میں اپنا وسیع حلقہ احباب رکھا کئے ۔دید نہیں شنید ہے کہ ہزاروں نہیں لاکھوں پڑھے لکھے اور بالائی طبقے کے لوگ ان کو اپنا مسیحا مانتے دیکھے جاتے ہیں۔ترک حلقوں میں انہیں صوفی ماسٹر کا سا مقام حاصل ہے ۔۔۔ان کے مخرج و مصدر کا منبع بھی وہی ہے جس سے اول روز سے سوتے پھوٹتے آئے ہیں۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ترکی پاکستان نہیں اوراس میں بھی کوئی ابہام و کلام نہ ہونا چاہئے کہ ترک بغاوت کے اسباب کا تجزیہ پورا ہاتھی دیکھے بغیر ممکن نہیں۔کہانی کے ان اندھوں کی طرح نہیں کہ جس نے ہاتھی کا جو حصہ ٹٹولا ۔۔۔وہ اسے ہی پورا ہاتھی سمجھ بیٹھا ۔دیکھئے مسلم دماغ اول روز سے ہی التباس و افتراق کا شکاررہا ہے ۔صدیوں کے زمانی و مکانی بعد کے بعد آج ہم درست تحلیل و تجزیہ کیوں نہیں کرتے؟ہم مان کیوں نہیں لیتے کہ خلافت راشدہ کے بعد قیادت و سیادت کے لئے مذہبی پروپیگنڈے کا سہارا لیا گیا۔سیاست جب مذہب کے قالب میں جلوہ گر ہوئی ۔۔۔اور سیاسی جواز پر مذہبی دلیل لائی جانے لگی تو اسی صو رتحال نے عالم اسلام کو ہلچل اور اتھل پتھل سے دوچار کئے رکھا ۔اموی خلافت کا قیام اوراس کی بساط اسی مذہبی پروپیگنڈے کے سہارے لپیٹی گئی۔عباسی خلافت بھی اسی پروپیگنڈے کی رہین منت رہی اور فاطمی خلافت کا نظریہ امامت بھی اسی پروپیگنڈے سے غذا پاتا رہا ۔ صدیوں کے تدریجی اور ارتقائی سفر کے بعد مصیبت یہ کہ سیاسی نظریات نے اب مذہبی اعتقادات کی حیثیت اختیار کررکھی ہے ۔

دہشت گرد اپنی فقہ کو ہی شریعت سمجھنے کی ہولناک غلط فہمی میں مبتلا رہے ۔بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے جبرًا اپنے من پسند فقہی نظام کو متعدد معاشروں میں رائج کرنے کی سعی بے جا کی۔دوسری جانب اسماعیلی داعی بھی قرابت اور فضیلت کے التباس کے سبب اپنے نظریہ امامت پر صدق دلی سے یقین کر بیٹھے اور پھر اس کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی ۔ نتیجتاًہماری اعلیٰ اور انتہائی صلاحیتیں اپنے ہی خلاف صرف ہوتی رہیں اورصدیوں سے ہماری تلواریں آپس میں ہی الجھی رہیں۔صاف ،سیدھی اور سامنے کی بات کہ یہ لوگ۔۔۔ان کی نیت اور اقدام کچھ بھی رہے ہوں ۔۔۔چاہتے اقتدار ہی تھے اور بس۔تو بھائی اس کا راستہ اب سیاست براستہ جمہوریت ہے ۔۔۔مذہب نہیں۔

مزید : کالم


loading...