قندیل اور بغاوت

قندیل اور بغاوت
 قندیل اور بغاوت

  



صبح کی کرنیں انقرہ پر اتر رہی تھیں ، سڑکوں پر ترک عوام باغی فوجیوں کے ٹینکوں کے آگے کھڑے تھے،برستی گولیاں اور گرتی لاشیں ان کے حوصلے نہیں توڑ سکیں،وہ آگے بڑھے اور بڑھتے ہی گئے،فوجیوں سے بندوقیں چھینیں ،انہیں ٹینکوں سے نکالا اور سڑکوں پر ہی دھنائی شروع کردی۔ترکی ایک نئے دور میں داخل ہورہا تھا،اس کی تاریخ میں ایک سنہرے باب کا اضافہ ہورہا تھا۔ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جھٹ سے تبصرہ کیا :’’دوسروں کو اس سے سبق لینا چاہئے‘‘۔ان کا اشارہ واضح تھا، لیکن اس ناکام بغاوت میں ان کے لئے بھی کوئی سبق تھا: عوام کے دلوں میں بسنے والے حکمرانوں کا دفاع عوام خود کرتے ہیں ۔کیاصاف پانی ،دوا اور بچوں کی تعلیم کو ترستے عوام اپنے حکمرانوں کے لئے ٹینکوں کے آگے لیٹیں گے؟ بنیادی انسانی مسائل کونظراندازکرکے مہنگے نمائشی پراجیکٹس کرنے والوں کے لئے کون گولیوں کے آگے کھڑا ہوگا؟ ابھی ناکام بغاوت کی جاں فزا خبریں ٹی وی سکرینوں پر چل رہی تھیں کہ ایک افسوسناک خبر نے چونکا دیا۔۔۔’’سوشل میڈیا کی اداکارہ قندیل بلوچ کواس کے بھائی نے قتل کردیا‘‘۔۔۔ قندیل بلوچ سوشل میڈیا پراپنی بے باک تصاویر اور ویڈیوزکی وجہ سے چند ماہ کے اندرمصالحہ کانٹینٹ دیکھنے والوں میں مقبول ہوگئی اورفیس بک پر اس کے چاہنے والوں کی تعدادساڑھے سات لاکھ سے زائدہوگئی۔ آئین سے بغاوت اور سماجی اقدار سے بغاوت کا نتیجہ ایک جیسا ،ایک ہی دن سامنے آیا۔

قندیل بلوچ دنیا سے رخصت ہوکر اپنے تمام تر اعمال کے ساتھ رب کریم کے حضور پیش ہوچکی ہے۔ جانے والوں کے لئے مغفرت کی دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ اس کا جو بھی کردار تھا ،اب اس کا اور اس کے رب کا معاملہ ہے، البتہ اس کے رویے اور کردار نے جو اثرات چھوڑے ہیں ،اس پر تنقید کرنے والے بھی ہیں اور تحسین کرنے والے بھی ۔اس کی تصاویر ،ویڈیوز اور بیانات جب تک چلتے رہیں گے ،اس کو ریوارڈپہنچتا رہے گا۔کسی انسان کا قتل سب سے بڑا جرم اورگناہ ہے ،بہت قبیح عمل اور قابل مذمت بھی۔ قاتل کی سزا بھی موت ہے ۔قندیل کا قاتل اس کا بھائی ہے ،ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس نے غیرت کے نام پر قتل کیا ۔اس کے بھائی کو پتہ ہوگا کہ قتل کے بعد اسے پھانسی کے تختے پر چڑھنا پڑے گا ،مگر وہ کیا دباؤ تھا، جس کے تحت اس نے زندگی سے بہتر موت کو سمجھا؟ ہمارے معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں،آئے روز ایسی خبریں اخبارات میں شائع ہوتی ہیں ۔مغربی فنڈڈ این جی اوز اور بالائی طبقات کے لوگ جن کے ہاں غیرت اجنبی لفظ ہے ،ان خبروں پر ہاہا کار مچاتے ہیں۔غیرت کے نام پر قتل کا ایک اور پہلو بھی ہے،اس کے محرکات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،تاکہ مسئلے کے حل کی راہیں تلاش کی جائیں ۔ہمارے معاشرے میں بہن، بیٹی اور ماں عزت اور تقدس کا رشتہ ہے ،ان کے بارے میں کوئی ناشائستہ بات سوچتا ہی نہیں تو کسی اور سے نامناسب بات سننا کیسے گوارا کرسکتا ہے؟لیکن جب اسے پتہ چل جائے یا وہ خود دیکھ لے تقدس کا امیج پاش پاش ہوگیا ہے تو وہ کرب سے چلّا اٹھتا ہے ،اس کے سامنے صرف ایک حل ہوتا ہے ۔ غیرت کے جوش میں آکر قتل کرنے والااس جرم کے ارتکاب سے کس ذہنی کرب سے گزرتا ہے ،پتہ نہیں کتنے طعنوں سے چھلنی ہوتا ہے ،کتنی راتیں اذیت ناک کیفیت میں جیتااور مرتا رہتا ہے۔

بڑے شہروں کی ہاؤزنگ سوسائٹیوں اورکالونیوں میں کوٹھیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی، مگران کے مکین ایک دوسرے سے بہت دور ،بلکہ الگ الگ دنیا میں ہوتے ہیں ۔ برابر والی کوٹھی میں کیا ہورہا ہے، کون آرہا ہے، کون جارہا ہے ،رات کو کون آیا، کون ٹھہرا،کون چلا گیا ،کسی کوکوئی سروکار نہیں ہوتا،لیکن دیہات اورمحلوں میں ایسا نہیں ہوتا ،لوگ ایک دوسرے سے باخبر ہوتے ہیں، بلکہ خبر کی تاک میں ہوتے ہیں ۔ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور مدد کرتے ہیں ۔ مکانوں کی دیواریں جڑی ہوتی ہیں اور کہیں کہیں ان کے ساتھ کان بھی لگے ہوتے ہیں ۔لڑائی جھگڑے ،ہلے گلے اورگلے شکوے ان کی سماجی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں ۔ محلے یا گاؤں کا کوئی فرد نمایاں کام کرتا ہے تو اس کے گھر والے بستی میں پھولے نہیں سماتے اور اگر کوئی برا کام کردے یا ہوجائے تو گھروالے منہ چھپاتے پھرتے ہیں، بعض اوقات ان کا وہاں رہنا دوبھر ہوجاتا ہے، انہیں وہ بستی چھوڑنا پڑ جاتی ہے ۔یہ سماج اوررائے عامہ کا ایک دباؤ ہے، جس سے سماجی اقدار کسی نہ کسی صورت قائم رہتی ہیں۔غیرت بھی ایک سماجی قدر ہے، جس کا شدید اظہاراس وقت ہوتا ہے، جب کوئی اپنے مقدس رشتے کو کسی غیر اور ناجائز تعلق کے ساتھ دیکھتا ہے۔ وہاں کوئی نہیں چاہے گا کہ اس کے گھر کی کسی خاتون کا ذکر کسی غیر کی زبان پر آئے،تعلق تو بہت دور کی بات ہے۔

ایسی ہی ایک بستی سے تعلق رکھنے والی قندیل کی نیم عریاں تصویریں اورمختصر لباس میں ہیجان انگیزرقص کی ویڈیوزدھڑا دھڑ شیئر ہورہی تھیں اور گردش کررہی تھیں۔ منچلے موبائلوں پرایک دوسرے کو دکھارہے تھے ،لاکھوں لائک دینے والے اور اس سے کہیں زیادہ چھپ چھپ کردیکھنے والے بن گئے تھے ۔ایک روایتی اور دیہی ماحول اور نفسیات کو مدنظر رکھیں،اس کے بھائی کو کیاکیا سننا پڑا ہوگا ،کس شدید دباؤ میں اس نے انتہائی اقدام کیا ہوگا! کیا عزت کو آلودہ کرنے والی کا قتل جائز ہے ؟ ہر گز نہیں ! لیکن اس زاویے سے بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس شخص کے لئے عزت سے زندگی گزارنے کا کیا راستہ ہے، جس کے گھر میں نقب لگ چکی ہو،اس کا کوئی مقدس رشتہ رسوائی کی سولی پرجھول رہا ہوتو کیاوہ خاموشی سے اپنی ذلت کے مناظر دیکھتا رہے ، طعنوں کی برچھیاں سہتا رہے ،تاقتیکہ معاشرہ اسے کوئی انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کردے ؟کیا رسوائی اور ذلت سے بچنے کا کوئی قانونی راستہ موجود ہے ؟اسے تحفظ نہیں دینا چاہئے اور نہ ہی گلیمرائزکیاجانا چاہئے ،لیکن اس سوال کا جواب ضرور ڈھونڈنا چاہئے ۔

ہمیں اس طرح کے مسائل درپیش آتے رہیں گے،اس کی ایک بڑی وجہ ہے، انٹرنیٹ اور سیٹلائیٹ ٹی وی کے ذریعے عریانی کاایک سیلاب خاموشی سے ہمارے گھروں میں داخل ہوچکا ہے ، اخلاقی قدریں تحلیل ہورہی ہیں ،غیر ملکی فلمیں، بلکہ پاکستانی ڈرامے بھی خاندانی نظام میں دراڑیں ڈال رہے ہیں۔ نوجوانوں کے کمپیوٹراور موبائل پر اخلاقی تباہ کاری کا ہر سامان موجود ہے ۔ ہمارے سماج کے اندر اخلاقی بحران کا ایک آتش فشاں کھول رہا۔کہیں سے حرارت پھوٹ رہی ہے ،کہیں دراڑیں اور کہیں سے لاواابل پڑتا ہے اورکوئی غلیظ واقعہ منظر عام پر آجاتا ہے ۔اس تباہ کاری پر کوئی بولنے اور لکھنے کو تیار نہیں ،کوئی کرے تو اسے اخلاق کے ٹھیکیدار کا طعنہ دیا جاتا ہے۔تھرکتے گوشت کی نمائش کا بزنس کرنے والوں کے لئے یہ موضوع بزنس بند کرنے کے مترادف ہے ۔ ہوس اور ہیجان کے بیوپاری کتنی قندیلوں کی قبائیں تار تار کریں گے؟کتنی قندیلیں غربت دور کرنے کے لئے اس شرمناک دھندے کا ایندھن بنیں گی اور پھر کسی بھیانک انجام سے دوچار ہوں گی۔

ہر معاشرے کی اخلاقی حدود ہوتی ہیں ،یقیناًہماری بھی ہیں،کیا ان پر کھل کربات نہیں ہونی چاہئے ؟ ہر طرح کا واہیات مواد اپ لوڈ کیا اور دکھایا جاسکتا ہے تو اس پر بات کرنے میں کیسی جھجک ؟لبرل طبقے کا دکھ یہ ہے کہ ایسے دھندے یا چسکے کی پاداش میں کوئی قتل کیوں ہو؟ ان کا موقف ہے کہ ہر کوئی آزاد ہے ،اس پر کوئی پابندی نہیں ،کوئی اخلاقی قدغن نہیں،کوئی سماجی قدر نہیں ،کوئی غیرت ،عزت ،عصمت نہیں ، سب کچھ برائے فروخت ہے ۔ظاہر ہے ہمارامعاشرہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ، اخلاق اور اقدار ہی اس کی شناخت اور بنیاد ہیں۔بالکل بجا !غیرت کے نام پر قتل پر قانون سازی ہونی چاہئے، بلکہ کسی بھی نام پر قتل کی سزا سزائے موت ہونی چاہئے ، لیکن کیامجبور خواتین کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں ، عریانی کا کالا دھندہ کرنے والوں ، غریب قندیلوں کو ہوس کے بھیڑیوں کی ضیافت کے لئے پیش کرنے والوں،ہیجان انگیز ویڈیوز پوسٹ کرنے والوں کے متعلق بھی کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہئے؟کیا معاشرے میں اخلاقی انارکی پیدا کرنے والوں کو کھلی چھٹی دے دینی چاہئے کہ وہ جتنا مرضی گنداور فساد پھیلائیں؟

مزید : کالم