اے کاش ۔۔۔۔!

اے کاش ۔۔۔۔!
 اے کاش ۔۔۔۔!

  

فوجی بغاوت کامیاب ہوجائے تو تخت ورنہ تختہ۔ کامیاب بغاوت کو ’’انقلاب‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور ناکامی ’’غداری‘‘ کہلاتی ہے ۔ ایوب خان کے زمانے میں ہم دس سال 27اکتوبر کو یوم انقلاب مناتے رہے کیونکہ اس دن ایوب خان نے صدر سکندر مرزا کا دھڑن تختہ کردیا تھا، جبکہ سکندر مرزا نے بھی بیس دن پہلے 7 اکتوبر 1958ء کو مارشل لاء لگا کر جمہوری حکومت کو چلتا کردیا تھااور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرمقرر کردیا تھاچونکہ میان ایک تھی اور تلواریں دو، ایوب خان کی تلوار چل گئی اور سکندر مرزا لندن جلاوطن کردئے گئے۔ سکندر مرزا کے پردادا میر جعفر نے نواب سراج الدولہ سے غداری کی اور بدلے میں انگریزوں سے اقتدار اور دولت حاصل کی۔جب سکندر مرزا جلاوطن ہوکر لندن پہنچے تو جس ہوٹل میں یہ ٹھہرے اس کا کرایہ ملکہ برطانیہ کی طرف سے ادا کیا گیا ۔ وجہ یہ نہ تھی کہ آپ پاکستان کے معزول صدرتھے بلکہ واحد وجہ یہ تھی کہ آپ انگریزوں کے محسن میر جعفر کے پڑپوتے تھے۔میر جعفر نے بھی اپنی دولت شاید کسی ایسے بنک میں رکھوائی تھی جس کا کوڈ اس کی اولاد کے پاس نہیں تھا یا پھر غداروں کی دولت میں برکت ہی نہیں ہوتی کیونکہ سکندر مرزا کے پاس کچھ نہیں تھا اس کو تین ہزار پونڈ پنشن ملتی تھی جس میں گزارا نہیں ہوتا تھا۔دل کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پائی۔اپنی بیماری کے آخری ایام میں اپنی بیگم ناہید مرزاکو مخاطب کرکے کہنے لگے’’ہم علاج کے اخراجات کے متحمل نہیں ہوسکتے اس لئے مجھے مرنے دو‘‘3 نومبر 1969ء کووفات پائی۔ حکومت پاکستان نے دفن ہونے کی اجازت نہ دی اس لئے ایران میں دفن کئے گئے۔

دیکھا گیا کہ اکثر فوجی بغاوت وہی کامیاب ہوتی ہے جو فوجی سربراہ کے تحت ہو۔ فوجی سربراہ کو ’’بائی پاس ‘‘ کرنے والی بغاوتیں اکثر ناکام رہتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی ’’انقلابات‘‘ فوجی سربراہان کے تحت ہی لائے گئے ہیں اور گروہی بغاوتیں ناکام ہوئیں مثلاًجنرل اکبر خان فیم راولپنڈی سازش کیس ۔ صدر ضیاء الحق کے زمانے میں بھی ایک فوجی گروپ کا ٹرائل ہوا تھا ۔ بنگلہ دیش کی تاریخ پر بھی نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں بھی گروہی بغاوتیں ناکام رہی ہیں۔ صدر ضیاء الرحمان بھی ایسی ہی ایک ناکام فوجی بغاوت میں کام آئے۔ ان کے خلاف بغاوت کرنے والوں کے سرغنہ میجر جنرل عبدالمنظورتھے ۔ چٹاگانگ سرکٹ ہاؤس میں30 مئی 1981 ء کو صبح چار بجے سوئے صدر کو لیفٹنٹ کرنل مطیع الرحمان کی سربراہی میں ایک تین رکنی فوجی ٹولے نے گولیوں کا نشانہ بنا ڈالا۔ کہا جاتا ہے کہ اس سازش کے اصل ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ چیف آف آرمی سٹاف جنرل حسین محمد ارشاد تھے جنہوں نے صدر کے دورے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے بہانے وقوعہ سے ایک دن قبل اسی سرکٹ ہاؤس کا دورہ کیااورلیفٹنٹ کرنل مطیع الرحمان سے ملاقات کرکے اسے کچھ ’’ہدایات‘‘ دیں۔ جب باغیوں نے کامیاب کارروائی کی اطلاع جنرل حسین محمد ارشاد کو دی تو جنرل صاحب نے پینتر ا بدلا اور بغاوت میں شامل گروپ کی فوری گرفتاری کے آرڈر جاری کر دیئے۔ ریڈیو پر میجر جنرل منظور کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر پانچ لاکھ ٹکہ انعام کا اعلان کردیا گیا۔ میجر جنرل عبدالمنظور بعد ازاں پکڑ کر موت کے گھاٹ اتارے گئے اور صدر ضیاء الرحمان کے اصل قاتل لیفٹنٹ کرنل مطیع الرحمان بھی سازش میں شریک ا پنے ایک ساتھی افسر لیفٹنٹ کرنل محبوب کے ساتھ انڈیا فرار کی کوشش میں چٹاگانگ کی پہاڑیوں میں گولیوں کا نشانہ بن کر مارے گئے۔ مکافات عمل دیکھئے، اسی چٹاگانگ سرکٹ ہاؤس میں قتل ہونے والے صدر ضیاء الرحمان نے مارچ 1971ء کو جب وہ پاکستانی فوج میں میجر تھے ، اسی سرکٹ ہاؤس میں بہانے سے بلا کراپنے سینئر بریگیڈئر جنجوعہ کو اس کی فیملی سمیت قتل کردیا تھا اور بعد ازاں چٹاگانگ کینٹ پر قبضہ کرکے سب غیر بنگالی پاکستانی فوجیوں اور بہاریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا۔

ترکی کی ناکام فوجی عدالت بھی آرمی سربراہ کی بجائے ایک گروپ نے ہی کی ہے۔ گروپ بے شک بڑا ہے، لیکن گروپ میں شامل چھوٹے رنیک کے فوجیوں کا کہنا ہے کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ مشقیں کرنی ہیں چونکہ ہم پابند ہیں کہ ڈسپلن کی رو سے اپنے سینئر کا کہنا مانیں۔ یہاں پھر بنگلہ دیش کے ایک جونیئر آفیسر لیفٹنٹ محمد رفیق الحسن کی یاد آئی، جس کا کہنا تھا کہ مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے ۔ مجھے ڈیوٹی کا کہہ کر سینئر نے اپنے ہمراہ لیا تھا ۔ فوجی عدالت نے اس کا موقف رد کردیا اور یوں اسے بے چارے کو صرف 23 سال کی عمر میں پھانسی دے دی گئی ۔

کہا جارہا ہے کہ ترکی اور پاکستان کے ستارے ملتے جلتے ہیں۔ وہاں بھی چار بار جمہوریت کو لپیٹا گیا ہے اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہاں بھی ایک جنرل گرسل نے منتخب وزیر اعظم عدنان میندرس کو پھانسی دی تھی اور یہاں بھی جنرل کے ہاتھوں ایک وزیر اعظم کی پھانسی نے سکور برابر کردیا ہے۔اب کی فوجی بغاوت عوام نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ناکام بنا دی ہے۔

ترکی کے عوام قابل تحسین ہیں جنہوں نے اپنے قائد کی آواز پر لبیک کہااور اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے جمہوریت کو بچایا۔ یقیناًان کا قائد ان سے مخلص ہوگا۔ اس کا دھیان اپنے عوام کی فلاح پر ہوگا۔ اس کے اتحادی چور اچکے نہیں ہوں گے۔ اس کے اسمبلی کے ارکان اپنی تنخواہوں میں چھ گنا اضافہ کرکے اسی ماہ عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ نہیں لادتے ہوں گے۔ اس کی نظروں کے سامنے لانچوں میں بھر بھر کرقوم کا پیسہ باہر نہیں جاتا ہوگا۔اس کا وزیر عوام کو دال کی بجائے مرغی کھانے کا مشورہ نہیں دیتا ہوگا۔ اس کی اولاد ترکی میں ہی رہتی اور پڑھتی ہوگی۔ یقینااس نے اپنی قوم کے لئے کوئی بھلائی کے کام کئے ہیں، آسانیاں پیدا کی ہیں تبھی تو لوگوں نے اس کی آواز سنی ہے۔

اے کاش ۔۔۔! ہمارا بھی ایسا کوئی قائد ہو جو اپنی بجائے عوام سے مخلص ہو۔ جس کی نیت اچھی ہو ۔جس کے اعمال اور نتائج کی بدولت ہمیں بھی جمہوریت سے محبت ہو جائے۔ جو ہمیں آسانیاں دے پھر ہم بھی کیوں نہ اس کی ایک آواز پر ٹینکوں کے آگے بچھ جائیں ،مگر اے کاش ۔۔۔!

مزید :

کالم -