عمران نے پھر بغیر تحقیق نیب اور اسحاق ڈار پر الزامات لگائے: پرویز رشید

عمران نے پھر بغیر تحقیق نیب اور اسحاق ڈار پر الزامات لگائے: پرویز رشید

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ عمران خان نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بغیر تحقیق کے نیب اور اسحاق ڈار پر بے بنیاد الزامات عائدکئے ہیں، غیرذمہ دارانہ بیان دینا اور پھر قلابازی لگا کر موقف تبدیل کر لینا ان کا وطیرہ ہے، اسحاق ڈار کے صاحبزادے نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے، عدالت سے تین بار نوٹس جاری ہوئے، عمران نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا، عمران خان کے پاس کوئی ثبوت ہوتے تو کیا وہ عدالت میں پیش نہ کرتے، عمران خان غیرجمہوری ہتھکنڈوں سے اقتدار حاصل کرنے کی بھونڈی اور ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں ،اگر وہ ترکی میں ہوتے توایسی حرکتوں پر قوم کے ہاتھ اُن کے گریبان پر ہوتے ۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو عوامی سطح پر کوئی پذیر ائی حاصل نہیں ۔بے بنیاد الزام تراشی کے ذریعے وہ لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔عوام اُن کا اصل چہرہ اچھی طرح پہچان چکے ہیں۔ وہ عمران خان کے جھوٹے اور بے بنیاد الزام لگانے کے وطیرہ اور ان کی پست ذہنیت سے بھی بخوبی واقف ہو گئے ہیں ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسحاق ڈار کے صاحبزادے نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔ اور 5 ارب روپے ہرجانہ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ جس کے تحت عدالت تین مرتبہ عمران خان کو نوٹس بھجواچکی ہے لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔اگر عمران خان کے پاس کوئی ثبوت ہوتے تو کیا وہ انہیں عدالت میں پیش کرنے کیلئے حاضر نہ ہوجاتے۔ اگر اُن کے پاس ثبوت ہیں تو بہتان طرازی کی بجائے انہیں سامنے لائیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان غیرجمہوری ہتھکنڈوں سے اقتدار حاصل کرنے کی بھونڈی اور ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔ اگر وہ ترکی میں ہوتے توایسی حرکتوں پر قوم کے ہاتھ اُن کے گریبان پر ہوتے ۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار کے خلاف ایک گمنام شکایت کی بنیاد پر تحقیقات کے عمل کو ایک طویل عرصہ تک زیر التوا رکھا گیا اور سیاسی مقاصد کیلئے اس معاملے کو زندہ رکھا گیا۔میڈیا اطلاعات کے مطابق نیب کے مختلف سربراہان کے ادوار میں تحقیقاتی افسروں کی جانب سے کئی مرتبہ اس کیس کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی۔ کیونکہ اس کیس کے بارے میں کوئی شہادت 15سال کے دوران پیش نہ کی جاسکی تھی۔ لیکن بجائے کیس کو ختم کرنے کے، بدنیتی کی بناء پر اس کیس کو 15 سال تک لٹکائے رکھا گیا۔سینیٹر پرویز رشید نے یہ بھی واضح کیا کہ گمنام شکایت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی بالآخر نیب نے اس گمنام شکایت کی فائل قانون کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بند کردی۔بجائے اس کے کہ یہ سوال اٹھایا جائے کہ کون لوگ ہیں جو سیاستدانوں پر مخصوص مقاصد کی خاطر مقدمات بنواتے ہیں اور اُن سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں،کوشش یہ کی جارہی ہے کہ نیب کے فیصلے کو متنازعہ رنگ دیا جائے۔ لیکن ایسی کوشش بے سود ثابت ہوگی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسحاق ڈار متعدد دفعہ واضح کر چکے ہیں کہ اُن کے تمام تر اثاثہ جات کی تفصیلات فیڈرل بیورو آف ریونیو اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو باقاعدگی سے فراہم کی گئی ہیں۔لہذا اس بارے میں کسی شکوک و شبہات کی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب نے کئی مقدمات کو نمٹایا ہے جن میں پی ٹی آئی کے رکن طارق شفیع کے عطیات کے معاملے کو بھی نمٹایا گیاہے۔ لیکن اس معاملے پر عمران خان صاحب نے ایک لفظ بھی کہنا گوارہ نہیں کیا۔ عمران خان صاحب اپنے اس دوہرے معیار کی پالیسی کے اوپر کیا کہنا چاہیں گے؟ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ سیاسی مقاصد کی خاطر مقدمات بنانے پر نیب کے افسران کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا جاتا لیکن اس کی بجائے عمران خان اس کو اپنی نامکمل خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنانے پر تُل گئے ہیں۔

پرویز رشید

مزید : صفحہ آخر


loading...