عمران خان ضد پر، مارشل لاء والا بیان واپس نہیں لیا، بھونڈی وضاحت!

عمران خان ضد پر، مارشل لاء والا بیان واپس نہیں لیا، بھونڈی وضاحت!

تجزیہ: چودھری خادم حسین:

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ضدی آدمی ہیں، اپوزیشن جماعتوں اور خود ان کی اپنی جماعت کے اندر سے تنقید کے باوجود انہوں نے مارشل لاء کے حوالے سے اپنے بیان میں تبدیلی سے انکار کردیا بلکہ اصرار کیا ہے تاہم انہوں نے اس کی وضاحت ’’اگر‘‘ لگا کرنے کی کوشش کی اور اب کہا ہے کہ اگر ترکی میں بغاوت کے وقت اردوان کی جگہ نواز شریف وزیر اعظم ہوتے تو لوگ سڑکوں پر نہ آتے تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ مارشل لاء آیا تو وہ مٹھائی کھائیں گے یا بانٹیں گے یہاں بھی انہوں نے اپنے ہی انداز میں وضاحت کی کہ ’’اگر‘‘ ترکی کی طرح یہاں ہوتا تو لوگ مٹھائی بانٹتے جیسا کہ ماضی میں ہوا تھا، یہ وضاحت یقیناًناکافی ہے، اگر عمران خان قومی قیادت کے دعویدار ہیں تو ان کے اندر اتنا حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کریں اور کرلیں تو اس کا اقرار بھی کرلیں، کہ یہ بڑا پن ہوتا ہے، لیکن وہ عمران ہی کیا جو مان لے، عمران خان نے تو پاکستانی ٹیم کو چھوڑ کر ’’ گیری پیکرسر کس‘‘ میں جانے کو بھی کبھی غلط تسلیم نہیں کیا اور اپنے اس فعل کے حق میں بھی دلائل لاتے ہیں حالانکہ واپسی پر انہوں نے کرکٹ ٹیم ہی کو جوائن کیا اور یہ عبدالحفیظ پیرزادہ کے توسط سے ذوالفقار علی بھٹو سے کروایا تھا اس پر عبدلحفیظ کاردار بورڈ کی سربراہی سے مستعفی ہوگئے تھے، عمران کو یہ بھی ملال نہیں ہوا۔

اب اگر پاناما لیکس پر اکٹھی ہونے والی اپوزیشن جماعتیں ناراض ہو کر ان سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کرتی اور شاہ محمود قریشی جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں تو عمران خان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اس اجلاس ہی میں نہیں آئیں گے اگرچہ آج جو اجلاس ہونا ہے اس میں بقول عمران حکومت مخالف تحریک کا لائحہ عمل طے ہوگیا اور عمران کی موجودگی ضروری ہے کہ وہ لندن جانے اور واپس آنے کا پروگرام ہی اس میٹنگ کے پیش نظر بنا کر گئے تھے، آزاد کشمیر کا ایک روز تو اضافی شامل کیا گیا، آج جب متحدہ اپوزیشن کا اجلاس ہوگا تو متنازعہ ہوگا، اغلباً عمران شریک نہیں ہوں گے کہ ان کی نیابت شاہ محمود قریشی نے کرنا ہے، اس اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے۔ این۔ پی ضرور وضاحت مانگے گی، اب اس میں کتنی شدت ہوگی یہ الگ بات ہے، بہر حال ہر دو جماعتیں معہ ایم۔کیو۔ایم وزیر اعظم کے استعفے پر بھی اختلاف رکھتی ہیں ، وہ اس امر پر تو متفق ہیں کہ پاناما لیکس پر کمیشن بنے اور احتساب کا عمل وزیر اعظم محمد نواز شریف اور خاندان سے شروع ہو لیکن وہ استعفے کے لئے کسی تحریک پر آمادہ نہیں ہیں، اس حوالے سے بھی عمران خان کا اپنا موقف ہے کہ اگر کوئی بھی ساتھ نہ آیا تو تحریک انصاف اکیلی میدان میں اترے گی اور شیخ رشید تو بہر حال ان کے ساتھ ہیں جبکہ اب ڈاکٹر طاہر القادری کی عوامی تحریک بھی ان کے موقف کے مطابق ساتھ ہے، یوں آج میٹنگ میں اتفاقی رائے کس بات پر ہوگا اس کا قبل ازوقت اندازہ نہیں لگایا جاسکتا صورت حال یہی ہے، اور واضح ہے اگر شعور کی بالا دستی نہ ہوئی تو یہ اتحاد ختم بھی ہوسکتا ہے، شاید یہ نہ ہو کہ کم از کم ساتھ رہنا تو پیپلز پارٹی اور اے۔این۔پی کے مفاد میں ہے۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے گزشتہ روز یا سوموار کو اسلام آباد جانا تھا لیکن وہ نہیں گئے ترجمان یا میڈیا مینجر ز نے جو وجہ بتائی وہ غیر معقول ہے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی ٹانگ میں انفیکشن سے ان کو بخار ہوگیا اور ڈاکٹروں نے ان کو سفر سے منع کردیا، یہ تو وزیر اعظم کا مسئلہ ہے اگر عام آدمی ہوتو اس کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوتا، ہمارے فن کار شوکت علی کو امریکہ جاتے ہوئے دل کا درد ہوا، ابو ظہبی اترے ان کو براہ راست ہسپتال لے جایا گیا انجیو پلاسٹی ہوئی یہ بھی دل کا ایک آپریشن ہی ہے وہ تو تیسرے ہی روز جہاز پر بیٹھ کر وطن واپس آگئے ہیں، ہم بیماری کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں کرتے دعا گو ہیں کہ اللہ وزیر اعظم کو مکمل ترین صحت عطا فرمائے لیکن اسلام آباد نہ جانے کا عذر معقول نہیں ہے، یہاں بھی تو وہ آرام کررہے ہیں، ڈاکٹر دیکھ بھال کررہے ہیں، یہی ڈاکٹر وہاں بھی دستیاب ہوں گے، فرق صرف اتنا ہے کہ ہیلی کاپٹر سے لاہور ائیر پورٹ وہاں سے اسلام آباد اور پھر ہیلی کاپٹر ہی سے ایوان وزیر اعظم اس میں انفیکشن اور بخار کچھ نہیں کہتا، علاج اور آرام تو ایوان وزیر اعظم میں بھی دستیاب ہے، کم از کم تحریک انصاف یا عوامی تحریک کو اعتراض کرنے اور یہ کہنے کا موقع تو نہ ملتا کہ وزیر اعظم ڈرگئے ہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...