اویس شاہ کی بازیابی کے بعد عدلیہ سے گزارشات

اویس شاہ کی بازیابی کے بعد عدلیہ سے گزارشات
اویس شاہ کی بازیابی کے بعد عدلیہ سے گزارشات

  


چیف جسٹس سندھ کے بیٹے اویس شاہ بازیاب ہو گئے۔ یہ ایک اچھی خبر ہے۔ اس پر سکیورٹی فورسز کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ یقیناًاویس شاہ کی بازیابی اس حوالہ سے خوش آئند ہے کہ ہمارے سیکورٹی اداروں نے دہشت گردوں کے تمام عزائم ناکام بنائے ہیں۔جنرل راحیل شریف نے رات گئے چیف جسٹس کو ان کے بیٹے کی بازیابی کی خبر دی۔ اس بازیابی پر چیف جسٹس سندھ اور ان کے اہل خانہ کو بھی خصوصی مبارکباد دی جانی چاہئے۔ ویسے تو پاکستان کا ہر اہم آدمی انہیں مبارکبا دے رہا ہے۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ پاکستان کا عام آدمی بھی انہیں مبارکباد ہی دے رہا ہے۔ ویسے بھی ہمارے معاشرہ میں بچے سانجھے ہونے کا اصول ہے۔ اس لئے چیف جسٹس سندھ اور ان کے اہل خانہ کے دکھ میں پاکستان کا عام آدمی بھی برابر کا شریک تھا۔ اس بازیابی پرپوری عدلیہ کو بھی مبارکبا ددی جانی چاہئے۔ اور ہمیں امید ہے کہ عدلیہ نے اس بازیابی پر جہاں سکھ کا سانس لیا ہوگا۔ وہاں ان میں عدم تحفظ کا جو احساس پیدا ہو گیا تھا اس میں بھی کمی آئی ہو گی۔ اور ان کا پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر اعتماد بڑھا ہو گا۔

چیف جسٹس سندھ کے بیٹے اویس شاہ تقریبا ایک ماہ بعد بازیاب ہوئے ہیں۔ اس ایک ماہ میں پاکستان کی عدلیہ نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس واقعہ نے عدلیہ کے بہادر اور نڈر ججوں کے اندر شدید عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو گیا تھا۔ وہ اپنے اہل خانہ کی سکیورٹی کے حو الہ سے بہت پریشان تھے۔ تقریبا ساری عدلیہ نے اس حوالے سے اپنے خدشات اور عدم تحفظ کے احساس کا برملا اظہار بھی کیا۔ اجلاس بھی منعقد ہوئے۔ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خوب کھچائی بھی کی گئی۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشکل بھی آسان ہوئی۔ اور اویس شاہ بازیاب ہو گئے۔

جہاں اویس شاہ کی بخیر و بخوبی بازیابی پر دل خوش ہے وہاں اب جب اویس شاہ خیریت سے بازیاب ہو گئے ہیں۔ عدلیہ کے ذمہ داران سے چند گزارشات کرنے کو بھی دل چاہ رہا ہے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اویس شاہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں کسی بھی نوجوان کے اغوا کی پہلی واردات نہیں تھی۔ اس سے پہلے بھی دہشت گردوں نے بہت بچوں کو تاوان اور دیگر مقاصد کے لئے اغوا کیا ہے۔ عدلیہ سے بس ایک درخواست ہے کہ جب بھی ان کے سامنے کسی پاکستانی کے اغوا کاا معاملہ آئے تو وہ اسے بالکل ایسے ہی حل کریں گے جیسے اویس شاہ کے اغوا کا معاملہ حل کیا گیا ہے۔ بازیابی اور اغوا کے موقع پر کوتاہی برتنے والے قانون نافذ کرنے والے افسران کو اسی طرح معطل کیا جائے گا جس طرح اویس شاہ کے معاملے میں ایس پی اور دیگر پولیس افسران کو معطل کیا گیا۔

میری عدلیہ کے ذمہ داران سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان کے ہر بچہ اور ہر شخص کو اویس شاہ ہی سمجھیں۔ اور اس کے جان ومال کی حفاظت اویس شاہ ہی سمجھ کر کریں۔جب بھی عدلیہ کے سامنے کسی کے اغوا یا غائب ہونے کا معاملہ آئے تو وہ اس کے وارثان کو تھانوں اور سیکورٹی اداروں کے دفاتر میں دھکے کھانے دینے کی بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور سکیورٹی اداروں کے ذمہ داران کو اس کے گھر بھیجیں تا کہ وہ دھکے نہ کھائیں۔ جس طرح اویس شاہ کے معاملے میں قانون نافذ کرنے والے افسران اور سیکورٹی اداروں کے ذمہ داران اویس شاہ کے والد کو ان کے بیٹے کی بازیابی کی تفصیل بتانے ان کے گھر جاتے رہے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ ہر بچے کے اغوا پر اس کے والد کے ساتھ پاکستان کے اداروں اور ان کے سربراہان وہی سلوک کریں جو انہوں نے اویس شاہ کے والد کے ساتھ کیا ہے۔

یہ درست ہے کہ والدین کے اپنی اولاد کے لئے بہت جذبات ہو تے ہیں۔ یہ جذبات سب والدین کے ہوتے ہیں۔ سب والدین اپنے بچوں کے حوالے سے جذباتی ہوتے ہیں۔ اس لئے چیف جسٹس سندھ کے اپنے بیٹے کے حوالے سے جذبات کوئی غلط نہیں تھے۔ لیکن علم اور مرتبہ بالخصوص انصاف کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہونے کے بعد آپ پر یہ فرض ہے کہ آپ سب کو وہی انصاف دیں جو آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔ بس خواہش ہی کی جا سکتی ہے کہ عدلیہ نے اویس کے معاملہ پر انصاف کے جو اعلیٰ معیار طے کئے ہیں۔ وہ ہر پاکستانی کو نصیب ہونگے۔ جس طرح عدلیہ کے ذمہ داران کو اپنی اور اپنے بچوں و اہل خانہ کی سیکورٹی کا احساس تھا۔ اسی طرح انہیں پاکستان کے ہر شہری اور اس کے بچوں کی سکیورٹی کا احساس ہونا چاہئے۔ اور میری دعا ہے کہ رب ذولجلال میری یہ خواہش قبول کر لے۔

مزید : کالم


loading...