قندیل بلوچ قتل کیس پولیس کی نااہلی کے باعث پیچیدہ ہونے لگا

قندیل بلوچ قتل کیس پولیس کی نااہلی کے باعث پیچیدہ ہونے لگا

ملتان(کرائم رپورٹر)قندیل بلوچ قتل کیس میں ملتان پولیس کی نااہلی کے باعث کیس پیچیدہ ہوتا جارہا ہے ۔ہائی پروفائل کیس کی گتھی سلجھانے کی بجائے اُلجھائی جارہی ہے۔ مضحکہ خیز انداز میں طرز تفتیش کے باعث تفتیشی افسر بھی معطل کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 15جولائی کو شام 8بجے اس کے بھائی نے گلہ دبا کر قتل کردیا اور فرار ہوگیا۔پولیس نے قتل کی ایف آئی آر اصل نام فوزیہ عظیم کی بجائے (بقیہ نمبر43صفحہ12پر )

قندیل بلوچ کے نام سے اندراج کی۔پولیس نے ملزم کو رات گئے گرفتار کر لیا۔جس نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس نے غیرت کے نام پر قندیل بلوچ کا قتل کیا۔اتوار کے روز وسیم کو عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے 3روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسے پولیس کے حوالے کردیا۔ملزم کے عدالت میں پیش ہونے کے ایک روز بعد ہی 164کے تحت بیانات کے بعد اسے 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے عدالتی احکامات جاری ہوئے لیکن پولیس حکام نے اسے جیل روانہ نہ ہونے دیااور بغیر راہداری ریمانڈ کے ہائی پروفائل کیس کے ملزم کو غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھ لیاگزشتہ روز ملزم کے جسمانی اجزا کے مختلف نمونے فرانزک ٹیسٹ کے لیے حاصل کیے گئے ہیں ،اور آج اس کا پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔دریں اثناء سی پی او ملتان اظہر اکرم نے تفتیشی افسر انسپکٹر الیاس حیدر کو ناقص تفتیش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے معطل کر دیا۔اس طرح ملتان پولیس کی جانب سے ہائی پروفائل کیس کو ناقص حکمت عملی اور تفتیش کے باعث پیچیدہ کیا جا رہا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...