ڈاکخانے میں سکیورٹی کیمرے،گارڈ نہ ہونے پر پوسٹماسٹر گرفتار

ڈاکخانے میں سکیورٹی کیمرے،گارڈ نہ ہونے پر پوسٹماسٹر گرفتار

راولپنڈی(نیوز رپورٹر) تھانہ ویسٹریج پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پوسٹ آفس میں سیکیورٹی کیمرے اور سیکیورٹی گارڈ کا انتظام نہ کرنے پر پوسٹ ماسٹر کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا،پاکستان پوسٹل سروسز کے ملازمین کی تنظیم نوپ کے صدر راجہ یاسین نے پوسٹ ماسٹر کے خلاف ہونے والی قانونی کارروائی کے خلاف مؤثر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، راجہ یاسین نے کہا ہے کہ پولیس اور پوسٹل سروسز کے ملازمین کو مسلسل ہراساں کر رہی ہے، پاکستان پوسٹل سروسز وفاقی ادارہ ہے اور یہ قوم کی خدمت کیلئے ہمہ وقت اپنا کردار ادا کرتا ہے اور سیکیورٹی کیمرے اور کارڈز فراہم کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اگر کسی پوسٹ آفس میں سیکیورٹی کیمرے اور گارڈز نہیں ہیں تو اس کے ذمہ دار پوسٹ ماسٹرز نہیں ہیں،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات غیر قانونی ہیں۔اس امر کا جائزہ لینے کے لئے نوپ کے عہدیداروں کا اجلا س طلب کر لیا گیا ہے جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان پوسٹل سروسز کے ملازمین کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کے خلاف بھر پور طریقے سے احتجاج کیا جائے گا اور پوسٹ آفسز کی تالا بندی بھی سے بھی گریز نہیں کیا جائیگا،راجہ یاسین نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے پنجاب بھر میں پوسٹل سروسز ملازمین کے خلاف سیکیورٹی کیمرے اور سیکیورٹی گارڈ نہ ہونے کی وجہ سے پوسٹ ماسٹرز کے خلاف مقدمات درج کئے جا رہے ہیں جس کی ہم بھر پر مذمت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ پوسٹ آفس میں ہونے والی ڈکیتیوں میں ملوث ملزمان کو پولیس گرفتار نہیں کر رہی اور سارا ملبہ پاکستان پوسٹل سروسز کے ملازمین پر ڈال رہے ہیں کئی ملازمین کے خلاف مقدمات درج ہیں جبکہ پاکستان پوسٹل سروسز کی انتظامیہ بھی اپنے ملازمین کو تحفظ دینے کی بجائے انکو ہراساں کر رہی ہے اور ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جا رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...