’مارے جانے والی باغی فوجیوں کے جنازے نہ پڑھاﺅ بلکہ۔۔۔‘ ترک حکومت کی مساجد کے اماموں کو ایسی ہدایت جاری کردی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

’مارے جانے والی باغی فوجیوں کے جنازے نہ پڑھاﺅ بلکہ۔۔۔‘ ترک حکومت کی مساجد ...
’مارے جانے والی باغی فوجیوں کے جنازے نہ پڑھاﺅ بلکہ۔۔۔‘ ترک حکومت کی مساجد کے اماموں کو ایسی ہدایت جاری کردی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  


انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی میں عوام نے جس جوش و جذبے اور ہمت و بہادری سے فوجی بغاوت کو ناکام بنایا اب اسی شدت کے ساتھ باغیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف عوام میں نفرت اور انتقام کا جذبہ موجود ہے۔باغیوں کے خلاف نفرت کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ترک حکومت نے ہلاک ہونے والے باغیوں اور ان کے حامیوں کی نماز جنازہ ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے مساجد کے اماموں کو متنبہ کر دیا گیا ہے کہ باغیوں اور ان کے حامیوں کی نمازجنازہ اور تدفین کرانے پر ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے اور نوکریوں سے نکالا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس سے گریز کریں۔

لندن میں شوہر نے بیوی اور بیٹی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا

رپورٹ کے مطابق ترکی کے ڈائریکٹوریٹ برائے مذہبی امور کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ ائمہ کرام باغی فوجیوں اور ان کے حامیوں کی نمازجنازہ نہیں پڑھائیں گے اور ان کی تدفین اسلامی طریقے سے نہیں کریں گے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ترکی میں زیادہ تر امام مسجد سرکاری ملازم ہوتے ہیں۔ اس وقت ملک کے 75ہزار ائمہ کرام براہ راست ترک حکومت کے ملازم ہیں۔رپورٹ کے مطابق ترک حکومت کی طرف سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ ملک کے تعلیم، پولیس، فوج، سیاسی اسٹیبلشمنٹس سمیت کئی شعبوں میں باغیوں کے حامیوں کاکھوج لگانے اور انہیں گرفتار کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترک حکومت کی طرف سے ہیلی کاپٹر میں فرار ہو کر یونان جانے والے 8باغی فوجیوں کو ملک میں رہنے کی اجازت دینے کے فیصلے پر یونانی حکومت کو بھی سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ باغیوں کو فوراً وطن بدر کرکے ترکی کے حوالے کیا جائے۔ بغاوت ناکام ہونے پر یہ باغی فوجی ہیلی کاپٹر میں ہی بحیرہ روم عبور کرکے یونان چلے گئے تھے جہاں یونانی حکام نے انہیں الیگزینڈروپولس ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی اجازت دے دی تھی۔یونان میں تعینات ترک سفیر کریم اورس نے یونانی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ ”اگر باغیوں کو پناہ دی گئی اور ترکی کے حوالے نہ کیا گیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ یونان کو ان باغیوں کو اپنے ملک میں لینڈ کرنے کی اجازت ہی نہیں دینی چاہیے تھی۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...