’یہ پورا شہر کسی بھی وقت دھماکے سے اُڑسکتا ہے، وجہ دہشت گردی نہیں بلکہ۔۔۔‘ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ پوری مغربی دنیا میں کھلبلی مچ گئی، کونسا شہر ہے؟ جان کر آپ بھی پریشان ہوجائیں گے

’یہ پورا شہر کسی بھی وقت دھماکے سے اُڑسکتا ہے، وجہ دہشت گردی نہیں بلکہ۔۔۔‘ ...
’یہ پورا شہر کسی بھی وقت دھماکے سے اُڑسکتا ہے، وجہ دہشت گردی نہیں بلکہ۔۔۔‘ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ پوری مغربی دنیا میں کھلبلی مچ گئی، کونسا شہر ہے؟ جان کر آپ بھی پریشان ہوجائیں گے

  


روم(مانیٹرنگ ڈیسک) اٹلی کے دارالحکومت روم کے نیچے زمین میں ایک ایسی خطرناک ترین چیز کا انکشاف ہوا ہے کہ روم کے باسیوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق روم کے نیچے دبے ہوئے ایک قدیم آتش فشاں کا انکشاف ہوا ہے جس کا نام ”کولی البانی آتش فشاں“ہے۔ روم کی سیپینزا یونیورسٹی (Sapienza University)کے سائنسدانوں کے مطابق کولی البانی کے متعلق اب تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ یہ مردہ ہو چکا ہے تاہم اب معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک بار پھر زندہ ہو چکا ہے۔ اس کے خالی میگما چیمبرز میں دہکتا ہوا لاوا اور گرم، سرخ گیسیں بھر چکی ہیں ۔ اب کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور روم میں بڑی تباہی مچا سکتا ہے۔

’اس خوفناک زلزلے سے پورا برصغیر لرز اُٹھے گا، لاکھوں مارے جائیں گے‘ ماہرین نے سب سے بڑے خطرے کے بارے میں خبردار کردیا

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”ہزاروں سال سے آتش فشاں کے چیمبر خالی تھے مگر اب ان میں ابلتا ہوا لاوا اور گرم گیسیں پیدا ہو چکی ہیں اور ہزاروں سال بعد ایک بار پھر اس کے پھٹنے کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔یہ آتش فشاں قدیم روم سے محض 15میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جو انتہائی سرسبزوشاداب پہاڑوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مقامی باشندوں کے ساتھ ساتھ غیرملکی سیاحوں میں بھی بے حد مقبول ہے اور ہر سال برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے لاکھوں لوگ یہاں آتے ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ فیبریزیو میرا کا کہنا ہے کہ ”حالیہ سالوں میں اس علاقے میں زلزلے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ اس کی وجہ اس آتش فشاں کا ایک بار پھر زندہ ہونا ہی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں زمین کی سطح بھی بلند ہو رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آتش فشاں پھٹنے کے قریب ہے۔“ایک اور تحقیق میں یہ معلوم ہوا ہے کہ کولی البانی آتش فشاں ہر 31ہزار سال بعد دوبارہ زندہ ہوتا ہے اور پھٹتا ہے۔ اس بار اسے پھٹے ہوئے36ہزار سال ہوگئے ہیں ۔ “

مزید : بین الاقوامی


loading...