پاناما لیکس،کارروائی نہیں کرنی تو چیئر مین نیب کو کام سے روک دیا جائے،ہائی کورٹ میں درخواست دائر

پاناما لیکس،کارروائی نہیں کرنی تو چیئر مین نیب کو کام سے روک دیا جائے،ہائی ...
پاناما لیکس،کارروائی نہیں کرنی تو چیئر مین نیب کو کام سے روک دیا جائے،ہائی کورٹ میں درخواست دائر

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی) پانامالیکس کے حوالے سے "آف شور کمپنیوں "کے معاملہ پر وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف اوردیگر سیاستدانوں کے خلاف نیب میں انکوائری نہ کرنے پر ڈی جی نیب پنجاب کو کام سے روکنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی گئی ہے۔یہ درخواست اظہرصدیق ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی تعلقات کی بنیاد پر تقرری پانے والے چیئر مین نیب قمرالزمان چودھری کرپشن کے خاتمے میں ناکام رہے ہیں،کرپشن کا ناسور ملکی محکموں کو کھوکھلا کررہا ہے جبکہ نیب سو رہی ہے،سابق چیئرمین نیب کی جانب سے ملک میں روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن کے انکشاف کے باوجود بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی،نیب آرڈیننس کی سیکشن 9 اور 18 کے تحت پانامالیکس اور ہر کسی قسم کی کرپشن کے خلاف کاروائی کرنا نیب کا فرض ہے۔ و زیراعظم اور ان کے خاندان کے افرادنے اپنے اثاثے چھپائے، رقم غیرقانونی طور پر بیرون ملک منتقل کی، اور قوم سے غلط بیانی کی۔ نیب آرڈیننس کے سیکشن 18کے تحت وزیر اعظم کے خلاف پانامہ لیکس کے معاملے پر نیب از خود کاروائی کا اختیار رکھتا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب سے انکوائری کرانے کے لئے دائر درخواست پر عدالت نوٹس جاری کرچکی ہے،اس کے باوجودچیئرمین نیب نے ابھی تک عدالت عالیہ میں اپنا جواب داخل نہیںکرایا اورنہ ہی وزیر اعظم اور ان کی فیملی کے خلاف از خود اختیار استعمال کرتے ہوئے انکوائری شروع کی جو کہ واضح طور پر عدالتی احکامات اورقوانین کی خلاف ورزی ہے،عدالت ڈی جی نیب پنجاب کو کام سے روکنے کے احکامات صادر کرے۔

مزید : لاہور


loading...