ضرورت لیڈران

ضرورت لیڈران

ہم انجمن ساکنانِ ارض پاک، اپنے سابقہ ذی وقار و شعلہ بیان، حکمران اور ان کے مصاحبوں کی ناگہانی مراجعت کی وجہ سے نہایت مغموم و اداس ہیں۔ یہ شاید خاکِ وطن پر رینگنے والے ہم جیسے حشرات ہی کی کوئی تیِرہ نصیبی تھی کہ ہمارے حکمران اور ان کے مصاحبانِ خاص کو، دردِ دل سمیٹ کر، اس ارضِ پاک سے کہیں اور موو اوور (Move Over) کرنا پڑا، ورنہ تو ان کی اور ہماری زندگیاں مثالی انداز میں گزری چلی جا رہی تھیں۔ مگر کیا کریں کہ اپنے محبوب اور دیوتا سمان حکمرانوں کے بغیر ہمری صورتیں بھی گرہن زدہ سی ہو کر رہ گئی ہیں۔اصل بات یہ ہے، مسائل کچھ ایسے پیدا ہو گئے کہ چند ’’سر پھرے‘‘ سے لوگ ہمارے حکمران اور مصاحبانِ خاص کے محلات وغیرہ پر بزورِ طاقت قابض ہو گئے۔ انہیں ہم عوام کے مسائل کا پوری طرح ادراک نہیں اور نہ ہی وہ ہماری خصوصیات سے کماحقہ آگاہ تھے۔ وہ تو بس ہاتھوں میں ڈنڈے لہراتے، دھمکاتے چلے جاتے تھے اور اپنی دھاک بٹھائے جاتے تھے۔مگر اب بیرونی جمہوری دنیا کی دخل اندازیوں یا ہمارے محسوسات کی چبھن کی بدولت ’’سر پھروں‘‘ نے ہم عوام میں سے ایک انجمن تشکیل دے ڈالی ہے اور حکم صادر کیا ہے کہ ہم عوام اپنے لئے پسندیدہ لیڈران کا انتخاب کر لیں۔ مگر ساتھ ایک احتیاط بھی نتھی کر ڈالی ہے کہ لیڈران ایسے منتخب ہونا چاہئیں جو ان ’’سرپھروں‘‘ کے لئے بھی قابل قبول ہوں اور ’’سر پھروں‘‘ کو اپنے سلپنگ حکمران (Sleeping) کے طور پر ماننے پر قائل ہوں۔ چنانچہ ’’سرپھروں‘‘ کے ایماء پر انجمنِ ہذا مشتہر کرتی ہے کہ ہم عوام کو چند لیڈران کی ضرورت ہے۔

حلقہ بہ حلقہ منتخب ہونے والے ہمارے لیڈران کیسے ہونا چاہئیں؟ یہ تھوڑا توقف سے آپ کو معلوم ہوگا۔ سرِدست ہم عوام بھی اپنا مختصر سا تعارف کروانا ضروری خیال کرتے ہیں تاکہ متوقع لیڈران خود کو انتخاب کے لئے پیش کرنے سے پہلے اپنے عوام کے خصائص اچھی طرح جان لیں، مبادا منتخب ہونے کے بعد وہ پچھتاوے جیسی لعنت کا شکار ہوں کہ وہ ہم عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئے اور خدانخواستہ مستعفی وغیرہ ہونے کا سوچنے لگیں چنانچہ انجمن ہذا اپنے عوام الناس کے چیدہ چیدہ خصائص سے متوقع لیڈران کو آگاہ کرنا چاہ رہی ہے اور اس ضمن میں یہ بات عیاں کرتی ہے کہ ہم عوام کچھ عجیب ’’بے ترتیب‘‘ قسم کے عوام ہیں۔ ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ہمارے فرائض کیا ہیں اور حقوق کیا ہیں؟ ہم صرف اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے لیڈران ہی ہمارے مسیحا ہیں۔ ہم نے تو صرف لیڈران کی درازئ عمر اور مالی ترقی کے لئے دُعا کرنا ہے باقی سارا کام ہمارے مسیحا کا ہے اور یہ مسیحا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمیں کھانا، پینا، اوڑھنا بچھونا وغیرہ مہیا کرے۔ کیونکہ کسی مستقل کام میں جتے رہنا ہماری سرشت میں شامل ہی نہیں کروایا گیا ماسوائے افزائش نسل کے۔ ہم عوام صرف بچے پیدا کرنے میں طاق ہیں۔ وہ ہم کرتے رہیں گے، چاہے وسائل کچھ بھی ہوں اور یہ لیڈران کا دردِ سر ہے کہ وہ پیدا شدہ بچوں کو کہاں کھپائیں یا کہاں ایڈجسٹ کریں۔ ہماری ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ہم بحث و مباحثہ میں زبردست دلچسپی رکھتے ہیں اور معمولی سی بات کو لڑائی جھگڑے میں تبدیل کروانے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں اور قتل تک کرنے کو بھی حرام نہیں سمجھتے۔ دھکم پیل ہمارا مشغلہ ہے، ہر کسی سے کچھ چھین کر یا ہتھیا کر بھاگنا اپنی صلاحیت سمجھتے ہیں۔ ہمیں لائنوں میں کھڑا ہونا ہرگز پسند نہیں اور ٹریفک سگنل تو ہمارے لئے سوہان روح ہے۔ہماری ایک اور خوبی یا خوبصورتی شاید متوقع لیڈران کو زچ کر دے کہ چونکہ ہم اپنے لیڈر کو مسیحا مانتے ہیں لہٰذا اسے دیکھتے ہی ہم جھک جاتے ہیں اور اتنا زیادہ جھک جاتے ہیں کہ لیڈر بیچارا، بسا اوقات شرمندہ سا ہو جاتا ہے لٰہذا ہمارا متوقع لیڈر کچھ ’’بے شرم‘‘ بھی ہونا چاہئے جو ہمارے جھکنے پر کوئی عار محسوس نہ کرے بلکہ اسے ’’مشیتِ ایزدی‘‘ سمجھ کر درگزر کرے۔ ہم عوام پر حکمرانی کچھ ایسا آسان بھی نہیں کہ ہر کس و ناکس خود کو حکمران کے طور پر پیش کرتا پھرے اور یہ لیڈر کے لئے بھی کسی امتحان سے کم نہیں۔ ہم نے تو بس کھانا ہے، پینا ہے، وقت معینہ تک زندہ رہنا ہے اور مر جانا ہے اور لیڈر کو یہ معمہ حل کرنا ہے کہ ہم کہاں سے کھائیں گے، پیئیں گے اور کہاں دفن ہوں گے۔ ویسے تو ہمارے اور بھی کئی خصائض ہیں مگر اختصار کی غرض سے ان اوصاف سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اب آتے ہیں اپنے متوقع لیڈران کی طرف کہ ہمارے منتخب ہونے والے لیڈر کو کس معیار کا حامل ہونا چاہئے:

-1 ہمارے متوقع اور ممدوح لیڈر کے لئے سب سے اہم خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ وہ نہایت خوبصورت اور دلکش ہو اور اس کی بات چیت دل نشین ہو۔ بھلے عیار’’ مکار ‘‘اور بدمعاش بدقماش ہو مگر لہجہ دل پذیر اور دیکھنے میں ’’عاجزانہ‘‘ سا لگتا ہو۔

-2 ہم عوام چونکہ بات بات پر جھگڑ پڑنے والی جینیات سے تعلق رکھتے ہیں اور غصہ تو ناک پر دھرے پھرتے ہیں لہٰذا لیڈر موصوف تھانہ، کچہری کے بھید بھاؤ کا ایک پورا ’’عالم آن لائن‘‘ ہو کیونکہ ہم اس کے لئے لا متناہی مسائل جنم دیتے رہیں گے۔ لیڈر موصوف کو چاہئے کہ وہ ہمارے لئے ایسا ماحول قائم رکھے کہ تھانہ کچہری کی رونقیں بحال رہیں۔

-3 یہ شاید متحرک میڈیا کی کوئی ریشہ دوانی تھی یا ستاروں کی کوئی چال کہ لیڈر کے لئے بھی ’’تعلیم یافتہ‘‘ ہونا مقرر کر دیا گیا، یہ یقیناً’’سر پھروں‘‘ کی کوئی سازش تھی مگر چونکہ ہمیں خود تعلیم وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ چڑ ہے کیونکہ اکثر تعلیم یافتہ لوگوں کو اکڑ کر چلتا دیکھا گیا ہے۔ اس لئے ان پڑھ لیڈر ہی ہماری ترجیح ہیں، لہٰذا پڑھے لکھے افراد، خود کو انتخاب کے لئے پیش کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کی دال نہیں گلنے والی۔

-4انسان کے طوطا چشم ہونے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا مگر ہم عوام اس بات کو دیگر کئی خوبیوں پر ممتاز جانتے ہیں۔ اگر لیڈر ووٹ لینے کے بعد ہمارے کام کرتا رہے تو وہ بیچارہ اپنی زندگی کیسے انجوائے کرے گا اور چونکہ ہمیں اس کی زندگی عزیز ہے اس لئے ہمیں طوطا چشم لیڈر درکار ہے، جو ووٹ لے اور بھول جائے کہ کسی بندے نے اسے راہبر مانا ہے۔

-5 کئی دوسرے ممالک میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان کے ’’پاگل‘‘ سے لیڈر عوام کے لئے ’’بھوک ہڑتال‘‘ جیسی احمقانہ حرکتیں کرتے ہیں اور عوام کے لئے عجیب و غریب قسم کے مطالبات اٹھائے ہوئے مرتے دم تک بھوک ہڑتال پر بیٹھ جاتے ہیں۔ خدا جانے ایسے ’’احمق‘‘ لیڈر کیوں جنم لیتے ہیں؟ ہمیں تو ان بھوکے قسم کے لیڈران کا کوئی شوق نہیں۔ ہمیں وہ لیڈران چاہئیں جن کی بھوک کبھی ختم نہ ہو بلکہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے رہنے والے ہوں۔ چاہے وہ ہمارا خون پئیں یا گوشت کھائیں۔

-6 دماغ کے بجائے پیٹ سے سوچنے والے، بے سمت دوڑنے والے اور سکیورٹی کے نام پر ہڑبونگ مچانے والے لیڈران ہمیں بہت مزہ دیتے ہیں لہٰذا ایسے لیڈر جو دماغ سے سوچتے ہوں اور پیٹ کا خیال نہ کرتے ہوں وہ ہمیں قبول نہیں۔ وہ بیچارے خود کو سامنے لانے کی زحمت نہ کریں تو ان کے لئے بہتر ہوگا۔

-7 ایسا لیڈر جو خیالی قلعے تعمیر کروائے اور ہمیں خوابوں کی جنت دکھائے وہ اضافی خوبیوں کا مالک تصور ہوتا ہے لہٰذا لیڈر موصوف اگر خیالی دنیاؤں کی تخلیق کا ماہر ہو تو ہمارے لئے وہ خضر راہ ہے اور حیات ابدی کی نوید ہے۔ خیالی پلاؤ کھلانے والے لیڈران کا منتخب ہونا از بس ضروری ہے کہ خیال ہی خیال میں وہ ہمیں دنیا سے کوچ کرنے کا اشارہ دیتا رہے اور ہم کوچ کرتے رہیں اور بغیر کسی حیل و حجت کے جلد از جلد جنت کی پرُ کیف فضاؤں کا مزہ چکھ سکیں۔

-8 ہمیں ’’خیالی لیڈران‘‘ اور ’’دیومالائی لیڈران‘‘ کی چپقلش اور پھر باہمی میل جول بھی بہت اچھا لگتا ہے لہٰذا دونوں طرح کی خصوصیات کے حامل افراد ہمارے لیڈران بننے کے اہل ہیں۔

-9 آج کل محسوس ہو رہا ہے کہ ’’سر پھرے‘‘ بھی لیڈران کہلانے کا سوچ رہے ہیں لہٰذا اگر وہ افراد جو ’’خیالی‘‘ ’’دیو مالائی‘‘ اور ’’سرپھرائی‘‘ ٹائپ کی تمام خصوصیات کے حامل ہوں تو وہ نہایت ہی مناسب لیڈران تصور کئے جائیں گے اور ہم جوق در جوق انہیں اپنے ووٹ سے نوازیں گے۔

-10’’ڈاکٹر مہاتیر‘‘ ’’نیلسن منڈیلا‘‘ یا ’’انا ہزارے‘‘ جیسے ’’پاگل لیڈران‘‘ ہمارے لئے بیمار ہیں۔ اگر کوئی ان سے متاثر ہے تو وہ خود بھگتے گا کیونکہ یہ لوگ خود بھی بھوکے رہتے ہیں اور عوام کو بھی ’’انصاف‘‘ کے نام پر بھوکا رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہم عوام آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ کون سے ’’پاگل‘‘ عوام ہیں جو ’’ان‘‘ پاگل لیڈران کی تقلید میں مرے جاتے ہیں۔ ہم عوام تو ایسے لیڈران سے سخت بیزار ہیں کیونکہ ہمیں کھلاے پلانے اور خیالی جنتوں کی سیر کروانے والے لیڈران ہی پسند ہیں۔

درج بالا خصوصیات کے حامل حضرات جلد از جلد با ضابطہ کارروائی کے بعد منظر عام پر آئیں۔ ہم انہیں بھرپور طریقے سے خوش آمدید کہنے یا Welcome کرنے کے لئے دست بستہ حاضر ہیں۔

سیکرٹری اطلاعات و نشریات انجمن ساکنان ارض پاکستان(آصف علی زرداری کے دوبءئ شفٹ ہونے پر سندھی عوام کی طرف سے ایک اشتہار)

E.mail:shargulyana 57@gmail.com

مزید : کالم