امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 5

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 5
امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 5

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عام طور پر پاکستانی شہری یوں اپنے پاس ہتھیار رکھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انہیں کسی سے خطرہ ہو یا وہ کسی کے لئے خطرے کا باعث بنیں ۔اس کے باوجود اگر کوئی مصروف شاہراہ پر آپ پر پستول تانے کھڑا ہو تو پھر ایسی تمام توقعات ختم ہو جاتی ہیں اور وہ شخص آپ کے لئے سنگین خطرہ بن جاتا ہے ۔ عام طور پر ایسی صورت حال میں جب لوگوں کو موت سامنے نظر آّتی ہے تو ان کا ذہن کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور وہ بدحواس ہو جاتے ہیں ۔اس طرح وہ مزید خطرے میں گھر جاتے ہیں ۔ ایسی صورت میں اگر انہیں بھاگنے کا موقع ملے تو وہ فورا بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے دنیا کے بہترین ٹرینرز سے تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا تھا اور میں جانتا تھا کہ ایسے موقع پر مجھے کیا کرنا ہے۔

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 4  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی تاکہ میرے اعصاب پر پڑنے والا بوجھ کم ہو سکے۔ عام طور پر ایسے حالات میں لوگوں کی ساری توجہ صرف پستول پر ہوتی ہے لیکن میں اپنے سامنے موجود 65 انچ کی سکرین پر ارد گرد کے سارے منظر نامے کا جائزہ لے رہا تھا ۔ میرے سامنے ٹریفک کی ساری صورت حال واضح تھی ۔ ان مسلح افراد نے کسی قسم کی یونیفارم نہیں پہن ہوا تھا جس کا مطلب تھا کہ ان کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نہیں ہے ۔ میرے سامنے دو نوجوان تھے جنکے پاس پستول تھی ۔ اس سارے منظر نامے کا جائزہ لینے کے بعداب میری توجہ پستول کی جانب تھی۔ میں نے اسے پستول نکالتے اور اس کا رخ اپنی جانب کرتے دیکھا ۔ ایسا لگتا تھا جیسے وقت رک گیا ہے

بگ سٹون کیپ ورجینا (1979 ) جہاں میں پیدا ہوا، وہاں زندگی اتنی بھی آسان نہیں تھی ۔ میرے والد وہاں کوئلہ کی صنعت میں کام کرتے تھے اور وہیں وہ ایک حادثے کا شکار ہو گئے تھے ۔ ان پر کام کے دوران سات سو پاؤنڈ وزنی چٹان گر گئی تھی ۔ اس وقت میں محض پانچ سال کا تھا لیکن اپنے والد کے زخمی ہونے کا منظر میرے ذہن میں ثبت ہو گیا ۔ ہماری کفالت اور زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لئے میری والدہ کو تین جگہوں پر کام کرنا پڑتا تھا۔ان دنوں ہمارے پاس پیسوں کی قلت تھی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مجھے یا میرے بہن بھائیوں کو بھوکے پیٹ سونا پڑا ہو۔جب میں جوان ہوا تو اپنے گریڈ کی نسبت زیادہ صحت مند تھا ۔ مین ساتویں گریڈ میں ہونے کے باوجود آٹھویں گریڈ کی فٹ بال ٹیم میں شمولیت کا حق دار تھا۔ میں بہت تیز رفتار اور طاقتور تھا ۔ میرے والد بھی میری اتھلیٹ کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ میں نے ریسلنگ اور سکول ریس مین بھی حصہ لیا لیکن میرے والد میری کامیابیاں دیکھنے سے پہلے ہی وفات پا گئے ۔ ان کی موت ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ان کے بعد مجھے مزدوری بھی کرنبی پڑی ۔ میں اینٹیں اور بلاک اٹھاتا تھاجس کے بدلے مجھے فی گھنٹہ دس ڈالر ملا کرتے تھے جس میں کبھی اضافہ بھی ہو جاتا تھا ۔ اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی ۔ میں مزدوری کے بدلے ملنے والا چیک لا کر اپنی والدہ کو دے دیتا تھا۔ اس ساری محنت کے باوجود مجھے یقین تھا کہ میں مزدوری کرنے کے لئے پیدا نہیں ہوا ہوں ۔ اسی لئے میں مقامی آرمڈ فورسز ریکروٹمنٹ دفتر گیا اور میں نے میرین کمانڈوز میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ ریکروٹ آفیسر نے مجھے بتایا کہ صرف انفرنٹری میں پوسٹ خالی ہے ۔ میں اس وقت صرف اٹھارہ برس کا تھا جب ہوائی جہاز میں بیٹھ کر جارجیا گیا ۔ اس کے بعدایک ایسا دور شروع ہوا جو سخت محنت ، مشقت ، مہارت اور ٹرینگ سے عبارت تھا۔

کابل افغانستان (جون 2004 ) کے بعد میری منزل لاہور تھی۔ یہاں سے ہم دوبارہ لاہور مزنگ چوک کی طرف چلتے ہیں ۔ جب اس موٹر سائیکل سوار نے اپنی پستول کا رخ میری جانب کیا تو میں انتہائی مشکل صورت حال کا شکار ہو چکا تھا ۔اس گن اور میرے درمیان دس فٹ سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ اگر سڑک کھلی ہوتی تو میں ریس پر پاؤں رکھ کر گاڑی بھگا کر وہاں سے نکل جاتا لیکن بدقسمتی سے اس وقت مین ٹریفک میں پھنسا ہوا تھا لہذا گاڑی بھگا لیجانے کی آپشن موجود نہ تھی ۔ اگر میں مخصوص ایس یو وی گاڑی میں ہوتا تب بھی ان کی جانب مسکرا کر دیکھتا کیونکہ ان کی چلائی کوئی گولی گاڑی پر اثر انداز نہ ہوتی ، اس گاڑی کے شیشے بلٹ پروف تھے لیکن بدقسمتی سے میں عام سیڈان میں تھا ۔

شام کا ہلکا ہلکا اندھیرا میرے ارد گرد چھا رہا تھا ۔ اس موقع پر میرے پاس اپنے ٹرینرز کی دی گئی تربیت کے سوا کچھ نہ تھا ۔میری تربیت نے مجھے سکھایا تھا کہ اگر میری جان کا خطرہ ہو تو مجھے اس صورت میں کیا کرنا ہے لہذا میں نے وہی کیا جو مجھے سکھایا گیا تھا ۔

ان کے پستول کی نالی کا رخ میری جانب تھا ۔ میں نے ہاتھ کو غیر محسوس انداز مین حرکت دیتے ہوئے اپنی سیٹ بیلٹ کھول دی اور اپنی گن کی جانب ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ (جاری ہے)

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 6 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : دی کنٹریکٹر