لہو لہو پاکستان

لہو لہو پاکستان
لہو لہو پاکستان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میرے پاس فقط آنسو ہیں جو بہا سکتا ہوں اور بہا رہا ہوں۔ رو رہا ہوں۔میرا دل رو رہا ہے۔ میرا انگ انگ رو رہا ہے۔اپنی بے بسی پر، اپنی بے چارگی پر۔میں فرد واحدہوں جو اس ملک میں بے حد مجبور اور لاچار ہے۔

اور اس ملک کا ہر فرد جس کے سینے میں دل ہے ماتم کناں ہے۔ یہ صرف ظلم اور زیادتی نہیں وحشت ہے۔چند دنوں میں سینکڑوں لوگ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔

مستونگ کا واقعہ کس قدر دلخراش ہے۔ صوبائی اسمبلی کے امیدوارسراج رئیسانی ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرنے آئے اور ایک خود کش حملے کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ان کے ساتھ جلسہ گاہ میں موجود سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔کس قدر سفاکی ہے۔ رونے کے سوا کسی بات کو دل نہیں کرتا۔

میڈیا کہتا ہے ایک سو انچاس (149)بندے سانحے کا شکار ہوئے،شہید اور زخمی ہونے والے سچے پاکستانی تھے، جن کی حفاظت کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔یہ دشمن کی چال ہے تو افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری سرحدیں اس قدر غیر محفوظ کیوں ہو چکی ہیں۔

مستونگ کوئٹہ سے فقط ایک گھنٹے کی مسافت پرہے جس کا فاصلہ کوئٹہ سے 42 کلو میٹر ہے۔ 18فروری 1992ء میں اسے ضلع قرار دینے تک یہ قلات کا حصہ تھا۔5896 مربع کلومیٹر پر محیط اس ضلع کی کل آبادی دو لاکھ چھیاسٹھ ہزار چار سو اکسٹھ (266461) نفوس پر مشتمل ہے جو 45 نفوس فی مربع کلو میٹر ہے۔ 99 فیصد لوگ مسلمان ہیں۔

یہاں کی مقامی آبادی بروہی زبان بولتی ہے۔ 80 فیصد لوگ خود کو بلوچ اور 6 فیصد خود کو پشتون کہتے ہیں اور بلوچی اور پشتو بھی بولتے ہیں۔ قبائلی نظام یہاں کافی فعال ہے۔ بڑے بڑے قبائل لہڑی، بینگل زئی، رئیسانی، شنواری، محمد شاہی، کرد، لینگو، سید، علی زئی، سنبھلانی، باروزئی، ترین، رند، خورسانی اور درانی ہیں۔ شہروں یا قصبوں میں رہنے والوں کی تعداد پینتیس ہزار (35000) ہے جب کہ باقی تمام آبادی دیہات میں آباد ہے۔

ضلع مستونگ کی چار تحصیلیں دشت (Dasht) ، کردی گاپ (kardigap) ، کدکوچہ (Khad Koocha) اور مستونگ ہیں۔ مستونگ کا قصبہ ضلعی ہیڈ کوارٹر بھی ہے اور تحصیل ہیڈ کوارٹر بھی۔ تحصیل مستونگ ،جہاں یہ المناک واقعہ پیش آیا، اس ضلع کی نسبتاً گنجان آبادتحصیل ہے ۔ اس تحصیل کی آبادی ایک لاکھ تیتیس ہزار نو سو تراسی (133983) افراد پر مشتمل ہے۔

اس تحصیل کارقبہ 1159 مربع کلومیٹر ہے جو 116 نفوس فی مربع کلو میٹر ہے۔بہت کم گھروں میں بجلی میسر ہے اورعلاقے میں پانی کی صورت حال بھی کچھ اچھی نہیں۔

یہ مستونگ کے علاقے میں ایک چھوٹے سے قصبے میں کارنر میٹنگ تھی۔ کتنے گھر ہوں گے اس قصبے میں۔ ڈیڑھ سو آدمیوں کے شہید ہونے کا مطلب ہر گلی لہو لہو ہو گی۔ وہاں ہر گھر میں کرب و بلا کا سماں ہوگا۔

ہر گھر میں ماتم ہوگا۔ کون ان کا پرسان حال ہے۔ کون انہیں پوچھنے والا ہے۔ حال پوچھنے والے تو آئے اور آ کر چلے گئے ہوں گے۔

اس بستی میں کئی باپ اپنے بیٹے کھو چکے۔ کئی ماؤں کی کھوکھ اجڑ گئی ۔ کئی عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ بہت سے بچے یتیم ہو گئے۔ گھر کا کمانے والا نہیں ہو گا تو ان عورتوں اور بچوں کا کیا بنے گا جو بے سہارا ہو گئے، جو یتیم ہو گئے۔

دو چار دن حوصلہ دینے لوگ آئیں گے پھر سسکیاں ہوں گی، آہیں ہوں گی، حسرتیں ہوں گی۔ ایک نہ ختم ہونے والی مایوسی ہو گی اور تنہائی ہو گی۔ اپنے بچھڑ جائیں تو یہی حال ہوتا ہے۔ہو سکتا ہے کسی کو حکومت سے کچھ امید ہو، مگر مجھے نہیں۔

سرکاری اہلکاروں کا یہ عالم ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کو ان کا جائز حق دیتے ہوئے بھی کمیشن وصول کرتے ہیں۔ جہاں ایسی بے حسی ہو وہاں کیا امید اور کیسی امید۔ ویسے بھی گھر کے افراد کے علاوہ کون عمر بھر کسی کا ساتھ دیتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وہاں کے پرکانی قبیلہ کے افرادجو بنیادی طور پر خانہ بدوش قسم کے لوگ ہیں اور انتہائی غریب ہیں، آج سب سے زیادہ قابل رحم حالت میں ہیں۔ ان غریب لوگوں کو حکم ہوا تھا کہ اس جلسے میں کم سے کم گھر کے چار افراد شرکت کریں۔

قبائلی سرداری نظام میں غریب میں انکار کی جرات نہیں ہوتی۔ اس سانحے میں اس قبیلے کے ہر گھر سے کم از کم چار لاشیں اٹھی ہیں۔

اس ماں کے بارے کسی نے نہیں سوچا، اس سے کوئی ذمہ دار تعزیت کرنے نہیں گیا ، جس نے اس سانحے میں اپنے سات جوان بیٹے کھو دئیے ہیں۔اس بوڑھے آدمی کوکسی نے نہیں پوچھا جس کے چار بچے مارے گئے۔

اس کے گھر میں غربت کا یہ عالم تھا کہ چاروں بیٹے دن رات کام کرتے تھے، مگر پھر بھی گزارہ مشکل تھا، چاروں مرنے والوں میں ایک سائیکل پر سکریپ کا کام کرتا تھا۔ دوسرا عام مزدور تھا۔

تیسرا ٹرک مزدور تھا اور چوتھا گھر کی دو تین بکریوں کو چراتا تھا۔ اب اس بوڑھے کا کوئی سہارا نہیں۔ بہت سے خاندان ہیں جن کے چار چار افراد اس سانحے میں جان ہار گئے ہیں۔

سات بیٹوں کو کھونے والی ماں اس قوم کی ماں ہے۔ ہم سب کی ماں ہے۔ چار چار بیٹے گنوانے والے اور اور اپنے دیگر پیاروں کو کھونے والے سبھی بزرگ ہمارے بزرگ ہیں۔ انہیں کوئی پوچھتا کیوں نہیں۔

اگر یہ ملک ہم سب کا ہے تو انتظامیہ کی بے حسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ جن کا کوئی سہارا نہیں ان کا سہارا ریاست ہے۔ حکومت کو ان لوگوں کو عزت سے رہنے اور جینے کے لئے ہر سہولت فراہم کرنی ہو گی اور یہ سہولت کسی سردار یا وڈیرے کی معرفت نہیں، بلکہ براہ راست ان تک پہنچانی ہو گی۔ اس کڑے وقت میں حکومت کے مثبت اور حوصلہ افزا اقدامات ،بلوچستان کے عام لوگوں میں ، جہاں پہلے ہی لوگوں کو محرومیوں کے بہت سے گلے شکوے ہیں،اچھے اور مثبت تاثر کا باعث ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم