A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 9

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 9

Jul 20, 2018 | 16:34:PM

شاہد نذیر چودھری

یہ گانا جو محمد صدیق رفیع نے میڈم نورجہاں کے ساتھ گانا تھا اسکے بول کچھ یوں تھے ۔

اے دل کی لگی تو ہی بتا 

اے درد جگر ہم جائیں کدھر 

یہ استھائی جس کی ریہرسل کرانے کے لئے ماسٹر فیروز نظامی نے صدیق رفیع کو آج آ، کل آ میں خوب چکر لگائے ۔ساونڈ ریکارڈسٹ ملک تاج کی بڑی تمنا تھی کہ پاکستان میں رفیع کا متبادل مل جائے ۔انہوں نے فیروز نظامی پر بھی زور دیا اور فلم ڈوپٹہ میں اس دوگانے کوصدیق رفیع کی آواز میں میڈم کے ساتھ ریکارڈکرانے کی کوشش کی لیکن ماسٹر فیروز نظامی اڑ گئے ۔اناآڑے آگئی ۔

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 8 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

محمد صدیق رفیع کو فلموں میں کھینچ لانے کے لئے شباب کیرانوی نے بھی کافی کوشش کی ۔شباب صاحب تو ہمیشہ نئے ٹیلنٹ کو موقع دیا کرتے تھے ۔محمد صدیق رفیع نئے تو نہیں تھے بلکہ انکی کامیابی کا وسیلہ ثابت ہوتے ۔انہوں نے محمد علی منّو جو صابر اللہ رکھے کا بھائی تھا ، سے کہا کہ محمد صدیق رفیع کو موقع ملنا چاہئے ۔انکے آنے سے پاکستانی فلم انڈسٹری کو تقویت ملے گی ۔اس دور میں اونچی سروں میں جاندار آواز چاہئے تھے جس میں رچاو اور ورائٹی بھی ہوتی ۔محمد علی منّو نے بھی محمد صدیق رفیع کے ساتھ یہی کھیل شروع کردیا اور شباب کیرانوی سے کہا کہ محمد صدیق رفیع میں آدھے سُر کی کمی رہ جاتی ہے ۔یہ بڑی حیران کن بات تھی۔کسی بھی گلوکار کوکامیاب بنانے اور ناکام کرنے میں موسیقار کا ہاتھ ہوتا ہے ۔یہ اچھے بھلوں کا پتہ پانی کردیتے ہیں۔میڈم نورجہاں ،مہدی حسن جیسے گلوکار بھی ان کے تختہ مشق بن گئے تھے ۔آدھے سُر سے ایک سریلے گلوکار کا قتل کردیا گیا۔اس معاندانہ رویہ اور پرخاش نے موسیقاروں کو محمد صدیق رفیع کی بجائے احمد رشدی اور مسعود رانا کو محمد رفیع کے متبادل کے طو ر پر متعارف کرادیا ۔یہ دونوں قابل ذکر گلوکار ہیں لیکن انہیں محمد رفیع کے بھائی کی ’’ لاش ‘‘ پر کھڑا کرکے گلوکاری کا چانس دیا گیا تھا ۔

نذیر صاحب اپنے دور کے بڑے اداکار تھے ،وہ تو محمد صدیق رفیع کو اداکار بنانے پر تُل گئے تھے لیکن محمد صدیق رفیع نے اداکاری سے توبہ ہی کی ۔گلوکاری ان کا شوق اور جنون تھا ۔وہ بتاتے ہیں’’ میں رفیع بھائی کے ساتھ لاہور کے میلوں ٹھیلوں میں بھی جاتا تھا اور اسی دور میں انکی دیکھا دیکھی سُرلگانا شروع کردئیے تھے۔مجھے ابھی تک منٹو پارک کا وہ منظر یاد ہے ۔اس میں سہگل نے گانا گانا تھا جب بجلی کا مسئلہ بن گیا ۔رفیع بھائی نے اس موقع پر گلوکار سیٹھ و داناتھ کا گانا نقل کرکے سنایا تھا ۔ مقبول عام گانا ’’آئی ملن کی رات‘‘ گا کر مجمع لوٹ لیا تھا ۔میں رفیع بھائی کے ساتھ لاہور کی معروف ترین تنظیم ککڑ کمیٹی کی محفلوں میں بھی جاتا تو ایک آدھ گانا میں بھی سنا دیتا تھا ۔لوگ تو اب بھول چکے ہوں گے کہ ایک زمانہ میں لاہور کے آرائیوں نے شاہ عالمی میں ککڑ کمیٹی بنائی تھی۔شاہ عالمی میں ایک ’’حویلی کابلی مَل‘‘ تھی جس کے مالک اب آرائیں تھے ۔وہ ہر ہفتہ ککڑ(دیسی مرغ) پکاتے تھے۔چاولوں میں ککڑ ڈالتے،سالن بھی ککڑ کا ۔اس دور میں ککڑ کمیٹی کافی مشہور تھی ۔اس میں گانے کے لئے رفیع بھائی کو گوایا جاتا تھا۔ککڑ کمیٹی میں گانے سے رفیع بھائی کا اعتماد بڑھ گیا تھا۔‘‘

محمد صدیق رفیع نے پرانے لاہور کا کلچر تازہ کردیا تھا ۔آپ کو بتاتے چلیں کہ جس حویلی میں ککڑ کمیٹی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے اور وہاں محمد رفیع کی آواز گونجا کرتی تھی ،یہ کس نے بنائی تھی اور اسکی تاریخ کیا ہے،سن کر آپ کو اچھا لگے گا۔اس زمانے میں لاہور میں کم وبیش چونسٹھ حویلیاں ہوا کرتی تھی اور ہر حویلی اپنی تاریخ اور ثقافت رکھتی تھی ۔اب تو ان میں سے چند حویلیوں کے آثار ہی باقی بچے ہیں ۔

ککڑ کمیٹی نے حویلی کابلی مل کی یادیں تازہ کی ہیں تو سنتے چلیں کہ اسکے آثار ابھی بھی موجود ہیں لیکن امتداد زمانہ اور آثار قدیمہ کی غفلت نے اسکو برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق کابلی مل حویلی ڈبی بازار اور محلہ سْرین کے مغربی جانب واقع تھی۔ اس کے شمال میں جنڈی ویڑہ تھا جس میں جنڈ کے پرانے درخت ہوا کرتے تھے ۔ کشمیری دروازہ اور موتی بازار کے راستے اس حویلی سے جڑے ہوئے تھے ۔ لاہور کے حاکم کابلی مَل نے یہ حویلی 1762ء تا 1765ء کے دوران تعمیر کروائی تھی ۔

1762ء میں احمد شاہ ابدالی نے سکھوں سے ستلج کے کنارے پر مقابلہ کیا تو واپس جاتے ہوئے اس نے کابلی مَل کو لاہور کا گورنر مقرر کردیا تھا ۔بعد میں سکھوں کے پے درپے حملوں کی وجہ سے احمد شاہ ابدالی نے کابلی مل کی جگہ خواجہ عبید خان کو نیا گورنر مقرر کردیااور کابلی مَل کو نائب صوبہ دار بنا دیا۔ محقق بتاتے ہیں کہ لاہور سے عبید خان فوج لے کر ابدالی لشکر کی مدد کو نکلا لیکن دونوں کو شکست ہوئی۔ لاہور کا حاکم عبید خان لڑائی میں مارا گیا اور امیر نور الدین بھاگ کر جموں چلا گیا۔ اس واقعے کے بعد کابلی مَل نے دوبارہ لاہور کا اقتدار سنبھال لیا۔ لیکن سکھوں کے حملوں کے بعد وہ لاہور چھوڑ کر بھاگ گیا۔جس کے بعد تین سکھ سردار سوبھا سنگھ ،لہنا سنگھ اور گوجر سنگھ نے لاہور پر قب کیا۔ انہوں نے کابلی مَل کے خاندان کو قید کر لیا اور لاہور پر قابض ہو جانے کے بعد اسے تین حصو ں میں بانٹ لیا۔ تاریخ نویسوں کے مطابق سہ حاکمان لاہور کے زمانے میں مسلسل لاہور کا حاکم رہنے والا کابلی مَل باتدبیر اور رحم دل انسان تھا۔ اس نے پاس ہی کالی حویلی بھی بنوائی تھی۔جس میں قیام پاکستان کے بعد کئی نامور لوگوں نے بسیرا بھی کیا ۔

لاہور سے بمبئی چلے جانے کے بعد محمد رفیع پھر تین بار ہی پاکستان آسکے تھے ۔محمد صدیق رفیع بھائی سے ہر سال ملنے چلے جاتے لیکن محمد رفیع کو واپس آنا نصیب نہ ہوا ۔ ان کا تین بار پاکستان آنا بھی عجیب اتفاقات کا مجموعہ ہے ۔ 

(جاری ہے ) 

مزیدخبریں