پنجاب پولیس جرائم کو روکنے کے لیے سرگرم

پنجاب پولیس جرائم کو روکنے کے لیے سرگرم
پنجاب پولیس جرائم کو روکنے کے لیے سرگرم

  

اگر آپ کوئی بھی کام نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ کریں تو کائنات کی تمام قوتیں آپ کی مددگار ہو جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ہمیشہ کامیابی آپ کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ناانصافی کے بے شمارواقعات سننے کو ملتے ہیں وہاں امید اور روشنی پھیلاتی ایسی حقیقی داستانیں سننے کو بھی ضرور ملتی ہیں،جس میں کسی نہ کسی نے مسیحا کا کردار ادا ضرور کیا ہو تا ہے۔پولیس کا محکمہ بھی ایک ایسا ادارہ ہے جس پر ہر وقت طرح طرح الزامات لگتے رہتے ہیں۔ عموماً پولیس کے اچھے کام کو اتنی پذیرائی نہیں ملتی جتنا ان کے برے کام یا غلطی پر شور مچایا جاتا ہے۔پولیس میں جہاں بہت ہی برے اور بدعنوان افسر و ملازمان بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں، وہیں بہادر اور فرض شناس لوگ بھی کم نہیں ہیں۔ اپنی کم تنخواہ اور ناکافی سہولتوں کے باوجود جس طرح اپنا فرض نبھاتے ہوئے یہ لوگ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اس کی مثال کسی اور نوکری میں نہیں ملتی۔ حالات چاہے کتنے ہی مشکل ہوں، ایسے پولیس والے کبھی اپنے فرض سے منہ نہیں موڑتے۔ فرض شناس اور بہادر پولیس والے کو نہ کسی بااثر سیاستدان سے کوئی خوف محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی روپے پیسے کی لالچ اس کا ایمان کمزور کرسکتی ہے۔ جہاں اللہ تعالی نے ہمیں خوبصورت موسم اور ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے وہاں کئی ایسے خوبصورت لوگ بھی پیدا کیے ہیں جو دولت، طاقت اور عزت ہونے کے باوجود بھی فرعونی رستے کے مسافر نہیں بنتے بلکہ انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ ملک اور یہاں بسنے والے غریب، لاچار اور مفلوک الحال لوگوں کی امداد اور بہتری کے لئے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے ہی ایک شخص کا نام ڈی آئی جی آپریشن لاہور اشفاق احمد خان ہے جس کا شمار محکمہ پولیس کے تیزی سے ناپید ہوتے نیک اور ایماندارافسروں میں ہوتا ہے۔ ان کا یہ بھی کمال ہے کہ اپنی پوری سروس کے دوران جہاں بھی گئے نیک نامی اور اچھے کاموں کی داستان چھوڑ کر آئے۔ بطور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جن اضلاع میں ذمہ داریاں سر انجام دیں وہاں جرائم ریٹ صفر رہ گیا اور خصوصیت یہ ہوتی کہ ہر شہری کے لئے دفتر کے دروازے کھلے ہوتے جہاں یہ صبح و شام کی پروا کئے بغیر اپنی اپنی درخواستیں پیش کرتے اور فوری ان پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے اب لاہور میں امن وامان کی فضا کو دوبارہ قائم کر نے کے لیے یہ اپنے کمانڈر سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید اور آئی جی پولیس پنجاب شعیب دستگیر کی نگرانی میں ہمہ وقت کوشاں اور سر گرم دکھائی دیتے ہیں۔اشفاق احمد خان نے فورس کو محب الوطنی اور دور حاضر کے تما م تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے تربیت کا ایسا نظام وضح کیا ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ چند ہی دنوں میں حیرت انگیز نتائج دیکھنے کو ملے۔

اشفاق احمد خان کی جب سے ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعیناتی ہوئی ہے، فورس میں کام کرنے کا جذبہ بڑھ گیا ہے،جرائم پیشہ افرادجن کی گرفتاری پولیس کے لیے چیلنج کی حثیت رکھتی تھی اب وہ خود سی سی پی او لاہورکو گرفتاریاں پیش کر رہے ہیں۔ یہ انقلابی تبدیلی کیسے ہوئی؟ اس کے پیچھے اشفاق احمد خان کی وہی انسانی ہمدردی اور لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کر نے کا جذبہ موجودہے۔ شہر میں امن قائم کرنے کے لیے حکومت سمیت بڑے بڑے فنڈز ڈکار نے والی این۔جی۔اوز اور مذہبی تنظیمیں جوکام نہیں کرسکیں وہ کام ڈی آئی جی آپریشن نے اپنے سی سی پی او لاہور کے ساتھ ملکر کیاہے اور اسکے انتہائی مثبت نتائج مل رہے ہیں۔ حال ہی میں شہر میں چند شر پسند عناصر دو مذاہب کے درمیان اشتعال انگیزی پر اترے ہوئے تھے جسے لاہور پولیس نے بڑی عقلمندی سے اس پر قابو پالیا ہے علاوہ ازیں شہر میں پولیس کے لیے دیگر کئی واقعات بھی چیلنج اختیار کرگئے تھے انھیں بھی پولیس نے احسن طریقے سے حل کر لیا ہے جرائم روکنے کے لیے لا ہور پولیس کی بہتر حکمت عملی کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سراہتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پولیس کی کاوشوں کو سراہا ہے جبکہ ڈی آئی جی اشفاق احمد خان کا کہنا ہے محکمہ پولیس کو جہاں کرپشن، تشدد،بے گناہوں کی گرفتاریوں سمیت دیگر کئی معاملات میں سخت تنقید کا سامناہے وہاں لاہور کے کمانڈر ذوالفقار حمید اور آئی جی پولیس شعیب دستگیر جیسے نیک، ایماندار اور لوگوں کا بھلا چاہنے والے اس فورس کے سربراہ بھی موجود ہیں جو دشمنوں کے بچوں کا بھی بھلا سوچتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایسے خوبصورت لوگوں کی وجہ سے ہی محکمے کی عزت اور یہ دنیا قائم ہے۔

مزید :

رائے -کالم -