لاک ڈاؤن کے باعث فاقہ کشی ،محنت کش کی خاندان سمیت نہر میں کود کر خودکشی

لاک ڈاؤن کے باعث فاقہ کشی ،محنت کش کی خاندان سمیت نہر میں کود کر خودکشی

  

موجودہ حالات اس قدر سنگین ہیں کہ معاشرتی مایوسیاں محرومیاں اور استحصال خود کشیوں کے واقعات کو شدید ہوا دے رہا ہے جس سے ایسے ایسے دلخراش واقعات رونما ہورہے ہیں کہ انسان افسردگی و غم کا شدید شکار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا جس کی ایک مثال گزشتہ روز پیش آنے والا ہے کہ جو یقینا دل دہلا دینے والا ہے، ہوا یوں کہ شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب کے سنگم میں واقع منڈی فیض آباد کی آبادی سلیم پور کچہ کے رہائشی محنت کش فیاض احمد مختلف زمینداروں کے کھیتوں میں کام یا راج مستریوں کے ساتھ دہاڑی کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا تھا لاک ڈاؤ ن کے بعد اسکے گھریلو حالات مزید خراب ہوگئے اور وہ فاقہ کشی کا شکار ہوگیا اس نے اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کیلئے مختلف شخصیات کے گھروں پر کام کی تلاش کی مگر کسی نے اسکی ایک نہ سنی اور روزگار نہ مل سکا، 12جولائی کے روز جب وہ کام کی تلاش کے بعد گھر واپس آیا تو وہ بھوک اور پیاس سے بلکتے اپنے بچوں کو دیکھ کر دلبرداشتہ ہو گیا اس نے اپنی بیوی سلیم بی بی، تین بیٹیوں 5 سالہ رابعہ 3سالہ مسکان اور 1.5 سالہ انعم کو لیکر سیر کروانے کے بہانے ساتھ لیا کسی مقامی رہائشی کی موٹر سائیکل کچھ وقت کیلئے مانگی اور اہلخانہ کو اس پر سوار کرکے کیوبی لنک نہر پر آگیا جہاں اس نے آخری بار اپنے بچوں کو پیار کرنے کے بعد اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ نہر میں چھلانگ لگادی تیز بہتے پانی کی بے رحم موجیں اس پریشان حال خاندان کو بہا کر ساتھ لے گئیں اور تمام کے تمام افراد چند ہی لمحوں میں زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ کنارے پر کھڑی موٹر سائیکل اس خاندان کے یہاں آنے کا پتہ دے رہی تھی جبکہ انہیں اس طرف آتے دیکھنے والے بعض افراد نے جب حالات کی کڑیاں جوڑیں تو تمام صورتحال سامنے آگئی کہ موٹر سائیکل کی یوں یہاں موجودگی کیا بیان کررہی ہے لہذاٰٗ مقامی پولیس کو مطلع کیا گیا جس نے آکر حالات کا جائزہ لیااور ریسکیو 1122کی غوطہ خور ٹیموں کو نعشیں تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی جنہوں نے خاصی تگ و دو کے بعد پانچ سالہ بچی رابعہ کی نعش برآمد کرلی تاہم میاں بیوی اور دیگر دوبچوں کی نعشیں سارا دن جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے باوجود نہ مل سکیں اگلے روز پھر سے تلاش جاری رکھی گئی اور یوں تین روز تک کی گئی ریسکیو اہلکاروں کی بھرپور جدوجہد کے بعد جا کر تمام افراد کی نعشیں مل پائیں بعدازاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس سانحہ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے رپورٹس طلب کی جو متعلقہ حکام جیسے تیسے مرتب کرکے وزیر اعلیٰ ہاؤس بھجوادیں گے تاہم اس توقع کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار خود کشی کرنے والے خاندان کے ورثا ء سے ملاقات کرنے آئیں گے مگر سوال یہ ہے کہ کن ورثاء سے ملنے آئیں گے کہ جنہوں نے فیاض کی کسمپرسی میں اس کا ساتھ تک نہیں دیا اسے اور اسکے اہلخانہ کو فاقہ کشی سے مکمل نجات نہ سہی اتنا سہارا بھی نہ دیا کہ انہیں کم از کم دو وقت کی روٹی ہی میسر کردیتے اور اگر اب صوبائی حکومت ان نام نہاد ورثاء کی کوئی مالی مدد کرتی بھی ہے تو اس کا فائدہ فیاض اور اسکے اہل خانہ کو کیونکر اور کیسے پہنچ سکتا ہے جو کام پہلے کرنے کا تھا وہ اگر حکومت اب کرے گی تو اس سے بڑی عجیب بات اور کیا ہوگی ریاست اور حکومت اگر اتنی ہی خیر خواہ ہوتی تو فیاض کی بیوی بچوں کے ہمراہ خود کشی جیسے قبیح فعل کی نوبت کیوں آتی، یہ وہ سوال ہیں جو اٹھ رہے ہیں اور اٹھنے چاہئیں کیونکہ مدینہ کی ریاست (نیا پاکستان) کے امیر (وزیراعظم) اور نائب امیر (وزیر اعلیٰ پنجاب) کے دعوے بہت بڑے بڑے ہیں پاکستانیوں کو خوشحال اور اتنا خوشحال کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ 22کروڑ عوام نہ صرف خود نہایت خوشحال کئے جانا ہے بلکہ اس قابل کیا جانے کی بار بار بات کی گئی ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی بھی مدد کریں گے اور کشکول لیکر بھیک مانگنی نہیں پڑے گی بلکہ دوسروں کے کشکول بھرے جائیں گے مگر یہ تمام وعدے دھرے کے دھرے ہیں اور اہلیان پاکستان اس تذلیل اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں کہ انہیں کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی اور اب حکمرانوں سے مایوسی کا عالم یہ ہے کہ نوبت اجتماعی خودکشیوں تک جا پہنچی ہے، وزیر اعظم موصوف کہتے ہیں کہ پاکستان کی تذلیل کا سبب بننے والا پی آئی اے سکینڈل اگر ہم واضح نہ کرتے تو مشکوک ڈگریوں والے پائلٹس کی غلطیوں کے باعث جو بھی انسانی جانوں کے ممکنہ ضیاع کا واقعہ رونما ہوتا تو اس کا سارا بوجھ مجھ پر اور ایئر حادثات میں مرنے والوں کا خون میرے ہاتھ پر ہوتا جو جناب وزیر اعظم فیاض احمد جیسے اجتماعی خودکشیاں کرنے والوں کا خون بھی تو آپ ہی ہے ہاتھوں پر ہے اس کا بھی کوئی ذکر کردیتے کیونکہ نہر فرات پر کتا بھوکامر جائے تو اس کا ذمہ حکمران پر ہوگا کی کمٹمنٹ اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ واضح کرسکتے ہیں تومملکت خداداد پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کیلئے واضح پیغام ہے مگر اسے مشعل راہ بنا کر عوامی خدمت کی نہیں جارہی جس کی سینکڑوں ہزاروں مثالوں میں سے ایک مثال فیاض احمد کا اہلخانہ کے ہمراہ خود کشی کرنا ہے اور یہ بھی ہرگز نہیں کہ فیاض احمد کا دلبرداشتہ ہو کر یوں اہلخانہ سمیت خود کشی کرنا کسی طرح سے قابل قبول ہے کیونکہ ہمیں ہمارے مذہب نے نہ صرف دوسروں بلکہ خود اپنی جانوں کے تحفظ کی بھی بار بار تلقین فرمائی ہے، حوصلہ شکنی جتنی بھی، حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، بھوک اور افلاس کتنا ہی سر چڑھ جائے مگر خود کشی جیسے قبیح فعل کی کسی طرح سے اجازت نہیں دی جاسکتی، اتنا ضرور ہے کہ اس گناہ کبیرہ میں فیاض اور اسکی بیوی ہی قصور وار نہیں کہ جو اپنے بچوں سمیت یوں اپنی ہی زندگی کھلے بے رحم پانی میں گود کر ضائع کرگئے بلکہ موجودہ حکمران اور ریاستی حکام بھی ہیں جنہیں عوام کے حالات سے کوئی غرض نہیں فقط بیان بازی سے عوام کو بہلایا جارہا ہے جس سے لگتا ہے کہ خداناخواستہ نہ جانے کتنے مزید انفرادی و اجتماعی خودکشیوں کے واقعات ابھی مزید رونما ہونا ہیں جن کی وجہ موجودہ دگرگوں حالات اور محرومیاں ہیں جن کے خاتمہ کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے اسی طرح استحصال زدہ پریشان حال شہریوں کے اہلخانہ، اوس پڑوس اور جملہ دوست احباب بھی قطعی بری الذمہ نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر سوتے ہیں مگر ان افراد پر نظر نہیں ڈالتے جو حالات کی سنگینی کے باعث مایوسی کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں، ایسے افراد کو بچائے، ساتھ دیجئے، مایوسی کم کیجئے، روزگار فراہم کی جائے اور کچھ بن نہ پڑے تو کم از کم پیٹ بھر کھانا ضرور دیجئے خدا خوش ہوگا اور معاشرہ مایوسی سے نجات پائے گا مگر جھوٹا دلاسہ ہرگز نہ دیجئے کیونکہ اس سے مایوسی بڑھتی اور بددلی مزید گھر کر جاتی ہے جس کے نتائج بھیانک برآمد ہوتے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -