باپ کے قتل کے شبہ میں کزن کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا

باپ کے قتل کے شبہ میں کزن کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا

  

صوبائی دارالحکومت لاہور میں چھ ماہ کے دوران قتل و غارت گری کا بازار گرم رہا۔ قتل و غارت کے بازار میں خاندانی دشمنی، غیرت کے نام پر اور لڑائی جھگڑے سمیت دیگر واقعات میں 141 افراد قتل ہوئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہی 6 ماہ کے دوران 27 اندھے قتل رپورٹ ہوئے۔ 17افراد کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کر دیا گیا۔اسی دوران پولیس کی جانب سے 61 کیس ٹریس کیے گئے جبکہ 80 کیسز تاحال زیر تفتیش ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسے واقعات پر پولیس بروقت اپنا کردار ادا نہیں کرتی ایسے واقعات پر جب مقدمات کا اندراج کیا جاتا ہے تو پولیس فریقین میں منصفی کا کردار ادا کرنے یا ملزمان کو سخت سزائیں دلوانے کی بجائے لینے دینے کے چکر میں معاملات کو مزید خراب کر دیتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کے فریقین میں رنجش بڑھ جاتی ہے اور خاندان کے خاندان اس دشمنی کی آڑمیں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جب خاندان ہی اجڑ جائیں تو پھر ارباب اختیار کے نوٹس کا بعد میں کیا فائدہ اسی طرح کا ایک واقعہ 5جولائی کی رات تقریباً نو ساڑھے نو بجے ہربنس پورہ کے علاقہ میں ایک پولیس اہلکار محمد کاشف اور اس کے ہم نام دوست کاشف کو اس کے ماموں زادعمران، رضوان اور رحمان وغیرہ نے اند ھا دھند فائرنگ کر کے قتل جبکہ ان کے ایک ساتھی زوہیب کوشدید زخمی کر دیا۔تھانے میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں مقتول پولیس اہلکار محمد کاشف کے بھائی محمد ارشد نے موقف اختیار کیا ہے میں اپنا کاروبار کرتا ہوں ہم تین بھائی ہیں میرا بھائی محمد کاشف شریف جو کہ گندہ نالہ اسٹیل مل کوٹلی سکھ نہر پر رہائش پذیر ہے 5 جولائی2020 کو ہم اس کے گھر پر موجود تھے کے تقریباً سوا نو بجے رات میرا بھائی کاشف شریف اپنے دوست کاشف آصف اور زوہیب کے ہمراہ ایک گاڑی پر سوار ہوکر ساہواڑی جانے کے لیے نکلے جبکہ میں اور بلال وغیرہ گھر لا کر کے ان کے پیچھے نکلے جب گاڑی گھر سے کچھ فاصلے پر جنازگاہ روڈ پر پہنچی تو مسمیان عمران صابر مسلح کلاشنکوف۔ سلمان صابر مسلح کلاشنکوف۔ رحمان صابر مسلح پسٹل۔ رضوان صابر مسلح پسٹل۔عمران ذوالفقار مسلح رائفل اور تین چار کس نامعلوم ملزمان باسواری موٹر سائیکلوں پر آئے اور میرے بھائی کی گاڑی پر اپنے اپنے دستی اسلحہ آتشیں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی جو کہ اندھا دھند فائرنگ سے عوام الناس میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنی جان بچانے کے لئے چھپ گئے ملزمان کی فائرنگ سے میرے بھائی کاشف شریف اور اس کے دوست کاشف آصف کے سارے جسم میں بے شمار گولیاں لگنے سے ان کے جسم چھلنی ہو گئے اور جسم کے لوتھڑے بکھر گئے جو دونوں کی موقع پر موت واقع ہوگئی جب کہ مسمی زوہیب زخمی ہوا اور خوش قسمتی سے بچ گیا میں نے اور دیگر نے بھی چھپ کر اپنی جان بچائی جبکہ کئی فائر لوگوں کی دیواروں اور دروازوں پر لگے اس وقوعہ کو میرے علاوہ ظہیر۔بلال۔آصف ودیگر افراد نے بچشم خود دیکھا ہے ملزمان نے یہ وقوعہ مسمات نسیم صابر اور مسمات گڑیا کے ایما پر کیا ہے وجہ عناد یہ ہے کہ ملزمان کے ساتھ سابقہ رنجش /دشمنی ہے ملزمان قتل اقدام قتل ڈکیتی اور پولیس مقابلے کے متعدد مقدمات میں سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں جو کہ فائرنگ کرتے ہوئے اور اسلحہ لہراتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے ہیں ملزمان نے میرے بھائی اور اس کے دوستوں کو ناحق قتل اور شدید زخمی کر کے سخت زیادتی کی ہے۔مقتول پولیس اہلکار محمد کاشف شریف کے بچوں اور بھائی نے روز نامہ پاکستان کو روتے ہوئے بتایا ہے کہ مقتول کے ماموں محمد صابر جنہیں 21 نومبر2019 میں ان کی حقیقی بھائی عارف وغیرہ نے جائیداد کے تنازعہ پر قتل کر دیا تھا جو کہ یہ ملزمان تاحال جیل میں ہیں اس قتل کے الزام میں مقتول صابر کے بیٹوں نے مقتول پولیس اہلکار کاشف شریف کو بھی جیل بھجوایا تھا کیونکہ انھیں شبہ ہے کہ ان کے والد کو مقتول پولیس اہلکار نے قتل کروایا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اب مقتول پولیس اہلکار ضمانت پر رہا ہو کر جیل سے آیا تھا کے مقتول صابر کے بیٹوں نے اسی رنج پر اسے قتل کر دیا ہے حقیقت میں مقتول پولیس اہلکار کا شف شریف کا مقتول صابر کے بیٹوں کے ساتھ ایک مکان کی رقم کے عوض تنازعہ چل رہا تھا جس سے یہ سارے معاملات خراب ہوئے ہیں اور بات یہاں تک پہنچی ہے یہ ہی نہیں مقتول صابر کا اپنے دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ آبائی گھر کی وراثت کی تقسیم پر جھگڑا چل رہا تھا مقتول صابر اپنے دیگر بہن بھائیوں کو آبائی گھر میں سے حصہ دینے سے انکاری تھا جس پر اس کے حقیقی بھائی نے اسے قتل کر دیا اور کاشف شریف کو ماموں کے قتل کے شبہ میں پہلے جیل بھجوایا گیا اور اب اسے قتل کرکے اس کے بچوں اور بیوہ کے سر سے سایہ چھین لیا گیا ہے جو کہ سخت نا انصافی ہے مقتول پولیس اہلکار نے سوگواروں میں چار نوعمر بیٹے علی حیدر،محمد زین،محمد امان، محمد حسنین اور بیوہ ناہید کاشف چھوڑے ہیں جنہوں نے وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمہ پولیس کو چاہیے کہ مقدمات کے بوجھ میں کمی کے لیے دشمنی کے معاملات میں مصالحت کو فروغ دے۔ہم اس ضمن میں محکمہ پولیس پنجاب سے گذارش کرتے ہیں کہ جس طرح پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جرگہ سسٹم ہے وہ کافی فعال ہے پنجاب کی آبادی 12 کروڑ سے زائد ہے لہذا اس کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ پولیس میں مصالحتی ڈیسک اگرچہ قائم ہے اور اس ضمن میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے وہ ایسے خاندانوں جو کسی اخلاقی، سماجی جرائم میں ملوث نہیں صرف ان کے درمیان وقت،بچوں، زمینوں، پانی کے معاملات پر معمولی سا جھگڑا اتنی شدت اختیار کر جاتا ہے کہ آس پاس کے رہنے والے بھی اس کے نرغے میں آجاتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے تمام DPOS آفسز میں ایک سپیشل ڈیسک بنا یا جائے جو خاندانی تنازعات کے معاملات کو دیکھے اور ان کے درمیان مفاہمت کرا کے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے کیونکہ بہت ہو چکا ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں۔بہنوں کے بھائی بیواؤں سے ان کے شوہر بچوں سے ان کے باپ، دوستوں کے دست بازو اب یہ سلسلہ روکنا ہو گا وگرنہ ہماری داستان نہ ہو گی بلکہ داستانیں، آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر کو اپنے تمام افسران بالاسی سی پی او، ریجنل و ڈسٹرکٹ پولیس افسران سمیت نچلی سطح کے افسران کو سختی سے یہ حکم دینا چاہیے کہ کسی بھی سنگین یا عام نوعیت کے مقدمے میں کسی کو شک کی بنیاد پر گرفتار نہ کیا جائے اس سے پوچھ گچھ کی جائے لیکن بغیر کسی عذر یا ملزموں کے ساتھ رشتہ داری یا تعلق داری کی بنیاد پر گرفتار نہ کیا جائے ہاں جب شواہد اور تحقیقات میں ثابت ہو جائے کہ فلاں شخص کسی واقعہ میں ملوث ہے تو اس کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ دشمنیوں کا پھیلاؤ اس وجہ سے بھی ہوتاہے کہ اگر مدعی پارٹی کسی بھی مقدمے میں ملزمان کو گرفتار کروانے کیلئے ان کے عزیزوں، دوستوں و احباب کو پکڑنے کے لئے سیاسی دباؤ یا اور کوئی ذرائع استعمال کروا کر گرفتار کرواتی ہے تو دوسر ی جانب ملزم پارٹی کے ہمدرداس پر بات کرتے ہیں۔ ایک عام شکایت یہ بھی ہے کہ پولیس کے بارے میں جس میں پولیس پارٹی صاف طور پر کہتی ہے کہ ہم نے تو مدعی پارٹی کے کہنے پر انہیں پکڑا ہے اصل ملزمان دے دیں پھر ان کو ہم چھوڑ دیں گے اس طرز عمل سے جوافراد بے گناہ پکڑے جاتے ہیں جس سے ان کی تھانوں میں تذلیل ہوتی ہے اہلخانہ الگ پریشان ہوتے ہیں وہ الگ سے وہاں روش قائم ہو جاتی ہے جن پارٹیوں کے درمیان مقدمہ بازی چلتی ہے وہ تو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوتے ہی ہیں، بغیر مقدمات میں خونی رشتہ داروں کی پکڑ دھکڑ جلتی پر تیل ڈالنے کا سبب بنتی ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -