بلوچستان، اتحادی جماعتوں بلوچستان عوام پارٹی اور اے این پی میں اختلافات

بلوچستان، اتحادی جماعتوں بلوچستان عوام پارٹی اور اے این پی میں اختلافات

  

کوئٹہ (آن لائن)بلوچستان حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں بلوچستان عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی میں اختلاف شدت اختیار کر گئے، چمن بارڈر سے متعلق تحریک التوا پر بحث نہ ہونے پر اے این پی نالاں اور افسوس کا اظہار کردیا جس پر صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے اے این پی کو حکومت سے علیحدگی کا مشورہ دیدیا۔ گزشتہ دنوں بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ریکوزیشنڈ اجلاس میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی جانب سے پاک افغان چمن بارڈر کی بندش سے متصل تحریک التوا جمع کرائیں تاہم کورم ٹوٹنے کی وجہ سے تحریک التوا پر بحث نہ ہوسکی جس پر عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی شاہینہ کاکڑ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں گزشتہ تین دن پہلے اے این پی نے چمن کے تجارتی راستے کی بندش کے خلاف تحریک التوا جمع کروایا اور التوا پر بحث کا آغاز ہونا تھا تو حکومتی اراکین نے کورم کی نشاندہی کی اور کورم توڑ دیاحکومتی اراکین پر بہت افسوس ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے اہم مسئلے پر کس کی ہدایات پر کورم ٹوٹا۔ جس پر ردعمل دیتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ الزام لگانے سے بہتر ہے کہ آپ حکومت سے علیحدہ ہو جائیں، یہ اپوزیشن کی بلایا ہوا اجلاس تھا پھر آپ کی تحریک میں آپ کے دو اسمبلی کے ممبر نہیں تھے اور آپ کے الزامات حکومت پر ہیں۔

اختلافات

مزید :

صفحہ آخر -