برساتی پانی کی نکاسی کیلئے واسا میں ایمرجنسی نافذ، چھٹیاں منسوخ، عملہ سڑکوں پر رہیگا: ایم ڈی واسا

  برساتی پانی کی نکاسی کیلئے واسا میں ایمرجنسی نافذ، چھٹیاں منسوخ، عملہ ...

  

لاہور(رپورٹ،جاوید اقبال،تصاویر ندیم احمد) واسا کے مینیجنگ ڈائریکٹر زاہد عزیز سید نے کہا ہے کہ مون سون میں شہر لاہور میں بارشی پانی کی فوری نکاسی اور بارش کے دوران عوام کو فوری ریلیف کی فراہمی کیلئے واسا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے جو کہ 30 ستمبر تک جاری رہے گی،جس کے تحت میرے سمیت تمام افسر اور ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں۔برساتی پانی کی بر وقت اور مقررہ وقت میں نکاسی کو یقینی بنانے کیلئے ایسا نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت بارش کا پانی اب دنوں میں نہیں گھنٹوں میں نکل جاتا ہے۔اس مرتبہ پانی جمع ضرور ہو گا لیکن شہر ڈوبے گا نہیں۔ گزشتہ روز روزنامہ ”پاکستان“ کو انٹرویو میں ایم ڈی واسازاہد عزیز سید نے کہا کہ مون سون میں لوگوں کو بارش کے دوران فوری ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جا رہے ہیں اورہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ واسا کی صوبائی دارلحکومت میں چھ ہزار کلو میٹر سیوریج کی لمبی پائپ لائنیں برساتی پانی کو راوی میں پھینکتی ہیں۔ 31ایسے مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں زیادہ پانی جمع ہونے سے ایمرجنسی لاحق ہو سکتی ہے وہاں ایمرجنسی کمپلینٹ سیل قائم کئے گئے ہیں جو 24 گھنٹے اور مشینری ضروری سازو سامان کے ساتھ مسلح حالت میں الرٹ رہتا ہے۔ شہر میں 26مقامات کو حساس قرار دیا گیا ہے جہاں پانی نکالنے کیلئے ہیوی مشینری الرٹ رکھی گئی ہے جو بارش ہوتے ہی ان مقامات پر پہنچ جاتی ہے۔مون سون کے دوران شہر کی نگرانی،عملے اور افسروں کی مانیٹرنگ کے لئے 22مقامات پر جدید ریڈیائی شعاعوں پر مشتمل آلات لگائے گئے ہیں جنہیں واسا کے مرکزی مانیٹرنگ روم سے منسلک کیا گیا ہے یہ ایسے آلات ہیں اگر ان کے قرب و جوار میں پانی مقررہ اوقات کار میں ایس او پیز کے مطابق نہیں نکالا جاتا تو یہ فوری مرکزی شکایات سیل کو آگاہ کرتی ہیں اور فوری طور پر ایکشن ہوتا ہے اور جمع پانی نکال دیا جاتا ہے اور ایم ڈی سمیت پورا واسا عملہ بارش کے دوران عوام کو ریلیف ملنے تک شہر کی سڑکوں پر موجود رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کا سیوریج سسٹم اگر بارش نہیں ہوتی تو بھی شہر کا 60کروڑ گیلن پانی یومیہ نکالتا ہے۔زاہد عزیز نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ برسات سے قبل سیوریج نالوں کی صفائی نہیں کی گئی۔ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ کی گئی یہی وجہ ہے کہ برسات کا پانی اب شہر میں کھڑا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو دس گھنٹے پانی یومیہ سپلائی کیا جا رہا ہے لاہور میں جو پانی کی قلت کا رونا روتے ہیں میں ان سے کہوں گا کہ وہ فیصل آباد،روالپنڈی اور کراچی کا دورہ کریں۔کراچی میں ہفتہ میں ایک گھنٹہ،فیصل آباد میں چار گھنٹے اور روالپنڈی میں ایک گھنٹہ گھروں میں پانی آتا ہے پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ واسا لاہور گندہ ہے۔

ایم ڈی واسا

مزید :

صفحہ اول -