حکومت کو بلدیاتی انتخابات میں اپنی شکست نظر آرہی ہے: ایمل ولی خان

  حکومت کو بلدیاتی انتخابات میں اپنی شکست نظر آرہی ہے: ایمل ولی خان

  

پبی (نما ئندہ پاکستان) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات دو سال تک مؤخر کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بلدیاتی انتخابات سے بھاگ کر دراصل اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ پی ٹی آئی کو بلدیاتی انتخابات میں اپنی شکست نظر آچکی ہے اسی لئے صوبائی اسمبلی میں تعداد کا فائدہ لے کر ایک بل کے ذریعے بلدیاتی انتخابات کو موخر کردیا گیا ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ اگست 2019ء میں بلدیاتی اداروں کی مدت پوری ہوچکی تھی اور تین مہینے کے اندر نئے بلدیاتی انتخابات کرانا آئینی ذمہ داری تھی جسے پی ٹی آئی حکومت نے پورا نہیں کیا۔ عوام موجودہ حکومت سے تنگ آچکے ہیں، موجودہ حکومت میں عوامی عدالت جانے کے قابل نہیں رہی ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ کورونا وبا کے آڑ میں بلدیاتی انتخابات موخر کرنا افسوسناک ہے۔ اسی کورونا وبا میں حکومتی پروگرامات اور دورے اب بھی جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ، وزراء اور انکے مشیر اپنے دفاتر سے نکل نہیں سکتے تو عوام کا سامنا کیسے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو مالی طور پر دیوالیہ کردیا گیا ہے، سات سال سے پورے صوبے میں ایک میگا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، ایک بی آر ٹی شروع کیا گیا لیکن 100 ارب روپے سے زائد کی رقم لگا کر بھی یہ منصوبہ مکمل نہیں کیا جاسکا۔ ترقیاتی فنڈز ضائع ہورہے ہیں لیکن حکومت کے پاس عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں۔ انہوں نے بلدیاتی انتخابات موخر کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی و قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اے این پی جلد اپنا لائحہ عمل دے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -