” میں نے مہیش بھٹ کی ایک فلم مسترد کر دی تو وہ غصے میں آگئے اور پھر۔۔۔“ کنگنا رناوت نے ایک اور پنڈورا باکس کھول دیا

” میں نے مہیش بھٹ کی ایک فلم مسترد کر دی تو وہ غصے میں آگئے اور پھر۔۔۔“ کنگنا ...
” میں نے مہیش بھٹ کی ایک فلم مسترد کر دی تو وہ غصے میں آگئے اور پھر۔۔۔“ کنگنا رناوت نے ایک اور پنڈورا باکس کھول دیا

  

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے دعویٰ کیا ہے کہ جب انہوں نے مہیش بھٹ کی ایک فلم کو مسترد کر دیا تو وہ پرتشدد ہو کر غصے میں ان کے پاس تک آ گئے۔ یہ فلم ایک ایسی خاتون کے بارے میں تھی جو پولیس کے ظلم کا شکار ہونے کے بعد خودکش حملہ آور بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہیش بھٹ نے تقریبا ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔ موقع پر ہی انہیں ان کی بیٹی پوجا بھٹ نے روک لیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کنگنا رناوت نے ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ مہیش بھٹ نے انہیں فلم گینگسٹر میں لانچ کیا تھا، ٹھیک ہے، میں اس کے لئے ممنون ہوں، لیکن اس سے انہیں مجھے کال کرنے اور مجھے پاگل اور سائیکوتھک کہنے اور مجھ پر چپپل پھینکنے کا حق نہیں دیتا ہے۔ کنگنا نے پھر کہا کہ مہیش بھٹ نے مجھ پر ایک چپپل پھینکی۔

کنگنا کے مطابق جب وہ مہیش بھٹ کے ساتھ گینگسٹر اور وہ لمحے کر رہی تھیں تب مہیش نے انہیں اپنے ایڈیٹنگ اسٹوڈیو میں بلایا اور انہیں فلم ’دھوکہ‘ آفر کیا جو ’ ہیروازم آف اے سوسائڈ بومبر‘کی کہانی تھی۔ کنگنا کو فلم کی آئیڈیالوجی پر یقین نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میری عمر اٹھارہ سال کی تھی، پھر بھی میرے پاس بہت کامن سینس تھا۔ کنگنا نے کہا کہ اگر آپ پر ظلم کیا جاتا ہے تو بہت کچھ ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔ آپ کو خودکش حملہ آور کیوں بننا ہے؟ میں نے اس فلم کو نہیں کیا۔

مہیش بھٹ نے کنگنا کے فیصلے کو اچھی طرح سے نہیں لیا اور وہ ان پر مبینہ طور پر چیخے، چلائے۔ وہ سچ مچ میرے پاس آنے والے تھے جیسے وہ مجھے ہاتھوں یا کسی چیز سے پیٹنے والے ہوں۔ ان کی بیٹی نے انہیں روکا اور انہیں واپس بلا لیا اور کہا، پاپا، یہ مت کرو۔ کنگنا نے بتایا کہ میں کسی طرح سے بچ گئی۔

مزید :

تفریح -