گوشوارے معاشرے کاعکس ؟

گوشوارے معاشرے کاعکس ؟
گوشوارے معاشرے کاعکس ؟

  

شفافیت کو جمہوریت کی روح کی روح کہا جاتا ہے انتخابی عمل امیدواروں کی فراہم کردہ معلومات ، ٹیکسوں کی ادائیگی سمیت کسی بھی معاملے میں شفافیت کی عدم موجودگی یاکسی بھی حلقے کی جانب سے حقائق پر پردہ ڈالنے کے عمل کو بہت سے ملکوں میں جمہوریت پر حملہ اور عوام کے حقوق پر ڈاکہ تصور کیا جاتا ہے اسی بنا پر وطن عزیز میں بھی انتخابی عمل میں حصہ لینے والا ہر امید وار اس بات کا تحریری اقرار کرتا ہے کہ فراہم کردہ معلومات کسی بھی وقت غلط قرار پائیں تو اس کا انتخاب کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے چنایچہ جعلی ڈگریاں پیش کرنے یا دوہری قومیت کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کرنے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے کئی ارکان کو حقائق سامنے آنے کے بعد نااہلی کا سامنا کرنا بھی پڑا ہے الیکشن میں حصہ لیتے وقت امیدواروں کو اپنی امدنی اور اثاثوں کے گوشوارے بھی جمع کرانے پڑتے ہیں اور منتخب ہونے والے امیدواروں کو بعد ازاں ہرسال کے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرانے ہوتے ہیں مگر ان گوشواروں کی صحت کے حوالے سے جب سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو الیکشن کمیشن کا موقف یہ ہوتا ہے کہ وہ ازخود تحقیقات نہیں کرسکتا تاہم انہیں مشتہر کردیتا ہے تاکہ کسی کو اس باب میں شکایت ہو تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے اور براہ راست الیکشن کمیشن کو بھی درخواست دے سکتا ہے پچھلے برسوں کے دوران ان ٹیکس گوشواروں کا عام آدمی کو اتنا ہی فائدہ ہوا ہے کہ انکی تفصیلات سامنے آنے پر کچھ ہنسنے ہنسانے کا سامان ہوجاتا ہے اگرچہ تمام ارکان کے گوشواروں کی صحت کو مشکوک سمجھنا درست نہیں مگر ایسے گوشواروں کے قابل لحاظ تعداد سے انکار بھی ممکن نہیں جن میں دی گئی معلومات گوشوارے جمع کرانے والوں کے عام معیار زندگی کے برعکس محسوس ہوتی ہیں اسکی ایک وجہ ٹیکسوں سے کلی یا جزوی طور پر بچنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے جس ملک میں ٹیکس ادائیگی کی شرح دنیا میں سب سے کم ہو جہاں مجموعی ملکی پیداوار کا صرف 9 سے 12 فیصد بطور ٹیکس خزانے میں جاتا ہو اور جہاں آبادی کی ایک فیصد سے بھی کم شرح ٹیکس دہندہ ہو وہاں الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کئے گئے ارکان اسمبلی کے گوشواروں میں فراہم کردہ معلومات اور ایف بی آر کے ریکارڈ کے مندرجات میں تضادات کا نظر آنا تعجب خیز نہیں ہے درحقیقت یہ گوشوارے ہمارے معاشرے کاعکس ہیں ۔کیا یہ مذاق نہیں کہ بعض لوگوں مجموعی اثاثے انکے ایک الیکشن کے اخراجات سے بھی کم معلوم ہوتے ہیں ۔ سماج کی اچھی اور بری روایات عمومآ اوپر سے نیچے سفر کی طرف سفر کرتی ہیں جس ملک کی اشرافیہ عوام کے منتخب نمائندے اور علاقائی و قومی رہنما خود براہ راست ٹیکس دیتے ہیں وہاں عوام کو بھی براہ راست ٹیکس دینے کی ترغیب ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں جھوٹ کا ایسا چلن ہے کہ سب اسی راستے پر چلتے نظر آرہے ہیں اسے بدلنا ہوگا اور اس مقصد کےلیے آغاز ان لوگوں کی طرف سے ہونا چاہیے جو کسی بھی عنوان سے قوم کی رہنمائی کے دعویدار ہیں کیونکہ سیاستدان اورعوامی قیادت کرنے والے منتخب نمائندے عوام کےلیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ہماری پارلیمینٹ اور صوبائی قانون ساز اداروں کے ارکان جب مجموعی طور پر سچ کا راستہ اختیار کریں گے تو سرکاری اداروں کو بھی اپنا رویہ بدلنا ہوگا جو اب تک درست اثاثے ظاہر کرنے والوں کےلیے شمشیربدست ہو کر انہیں سچ بولنے سے روکنے جا زریعہ بنتے رہے ہیں ایسے حالات میں کہ بالادست طبقوں کی طرف سے ٹیکس سے اجتناب کے رویے کے باعث دوست ملکوں اور ڈونرز اداروں میں ردعمل پیدا ہو رہا ہے ہماری تجویز یہ ہوگی کہ ایک دفعہ پھر سب کو نئے سرے سے گوشوارے جمع کرانے کی اجازت دی جائے اس مقصد کےلیے ٹیکس حکام عوامی نمائندوں کو بریفینگ دے کر حقیق اثاثے ظاہر کرنے کے انفرادی و قومی فوائد سے آگاہ کریں ساتھ ہی ایسا قانون بنایا جائے جس میں سچ بولنے والوں کو قابل تعزیر انعام کا حق دار ٹھرایا جاےء ہمارے سیاستدانوں ، عوامی رہنمائوں اور بالادست طبقوں جو یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ انہیں خواہ اپنی مرضی سے خواہ عوامی دبائو پر ٹیکس ادائیگی اور سچ بولنے کے کلچر کی طرف جلد یا بدیر آنا ہی ہوگا ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -