دنیاکے چوتھے امیر ترین ملک سمیت مالدارعرب ریاستیں قرض لینے پر مجبورکیوں ہوئیں؟

دنیاکے چوتھے امیر ترین ملک سمیت مالدارعرب ریاستیں قرض لینے پر مجبورکیوں ...
دنیاکے چوتھے امیر ترین ملک سمیت مالدارعرب ریاستیں قرض لینے پر مجبورکیوں ہوئیں؟

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیاکے چوتھے امیر ترین ملک کویت سمیت مالدارعرب ریاستیں ملکی اخراجات کے لیے قرض لینے پر مجبور ہوگئیں۔

کورونا وائرس کی وبا نے جہاں دنیا بھر میں لاکھوں قیمتی جانیں نگلی ہیںاوراس نے دنیاکے جدید ترین طبی نظام بھی ہلاکر رکھ دیئے ہیں وہیں اس سے عالمی معیشت اور ریاستوں کا معاشی نظام بھی لڑکھڑا کر رہ گیا ہے۔

پہلی بار عرب ممالک جہاں سے ہمیشہ دولت کی ریل پیل کی خبریں آتی تھیں اب وہاں سے قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر بحث ہورہی ہے اور وہ قرض مانگنے کی نہج پر آ پہنچے ہیں۔

برطانوی خبررساں اورایک نشریاتی ادارے کی رپورٹس کے مطابق دنیابھر میں لاک ڈاو¿ن کے باعث تیل کی کھپت میں کمی اور عالمی منڈیوں میں اس کی قیمت میں گراوٹ نے عرب ریاستوں کے سب سے بڑے ذریعہ آمدن کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق کویت میں ایسی قانون سازی کی جا رہی ہے کہ وہ قرضے کے لیے بین الاقوامی منڈی کا در کھٹکھٹا سکے۔

کویت میں قانون ساز چاہتے ہیں کہ حکومت فنڈز اور ادائیگیوں کے معاملے میں زیادہ شفافیت کا مظاہرہ کرے۔ ایک حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’اگر قرضوں سے متعلق قانون منظور نہیں ہوتا تو حکومت کو صحیح معنوں میں ہر معاملے میں بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

عرب ممالک کی آمدن کا زیادہ تر انحصار تیل پرہے لیکن تیل کی قیمت نصف ہوچکی اوراس میں مزید کمی متوقع ہے،ماہرین کا خیال ہے کہ کویت اور سعودی عرب جیسے ممالک میں بادشاہت اور اقتدارکی بقا اس وعدے پرہے کہ وہ عوام کی ضرورتوں کو پورا کریں گے لیکن اس وقت تیل کی قیمتوں کے حالات کو دیکھا جائے تو یہ وعدہ زیادہ دیر تک وفا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

مزید :

بین الاقوامی -عرب دنیا -بزنس -کورونا وائرس -