شی جن پھنگ ایک عہد ساز شخصیت

شی جن پھنگ ایک عہد ساز شخصیت
شی جن پھنگ ایک عہد ساز شخصیت

  

چین کے صدر شی جن پھنگ کا شمار عصر حاضر کی ایسی شخصیات میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے  پوری دنیا کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ شی جن پھنگ کے نظریات میں انسانی بھائی چارے ، انسانوں کی مشترکہ ترقی، پرامن بقائے باہمی،  ترقی کے راستے پر سب سے پہلے اور ترقی کے راستے کوئی بھی پیچھے نہ چھوٹے جیسی لاتعداد مثالیں اور کہانیاں ملتی ہیں۔ صدر شی جن پھنگ نچلی سطح سے اپنے عملی سفر کا آغاز کیا اور آج دنیا کی عظیم ریاست عوامی جمہوریہ چین میں اعلیٰ ترین عہدے پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان تمام کامیابیوں، عہدوں اور اعلیٰ مقامات پر پہنچنے کے باوجود  ان دل آج بھی عوام کے لئے دھڑکتا ہے۔

شی جن پھنگ ایک ایسی عالمی قیاد ت ہیں جنہوں نےنہ صرف اپنے عوام بلکہ اقوام عالم کے لئے ہم نصیب معاشرے کا تصور پیش کیا۔ صدر شی جن پھنگ نے عالمی سفارت کاری کے افق پر " دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشٹیو" کی صورت میں بھائی چارے اور ترقی کا ایک ایسا تصور پیش کیا جس نے مشرق اور مغرب کی ترقی کو باہم یکجا کردیا۔ ترقی بھی ایسی جس کے ثمرات سرحدوں سے ماورا عام آدمی تک منتقل ہوں۔ آج دی بیلٹ اینڈ روڈ سے اربوں انسانوں کا مستقبل وابستہ ہو چکا ہے۔

کووڈ-19 کی وبا کے مقابلے میں صدر شی جن پھنگ کی حکمت عملی اور دانش نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ان کی معاملات خصوصاً چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت شاندار ہے۔ چین دنیا کا وہ پہلا ملک تھا جس نے کووڈ-19 کی وبا کے مقابلے میں شاندار حکمت عملی اختیار کی، لاک ڈاؤن جیسا مشکل فیصلہ جو اب دنیا کے متعدد ممالک کی سمجھ سے بالا تر ہے اس کو اپنا یا، آج اسی فیصلے کی وجہ سے چین نے نہ صرف اپنے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو وبا کے اثرات سے بچایا بلکہ چین میں تجارتی سرگرمیوں کا بھی آغاز کیا۔

آج جب عالمی مالیاتی فنڈ یہ پیش گوئی کر رہا ہے کہ دنیا کی معیشت شدید مشکلات سے دوچار ہے اور مستقبل قریب میں بھی کساد بازاری کا شکار ہوگی۔ چین کی شرح نمو  صدر شی جن پھنگ جامع پالیسیوں کی وجہ سے مثبت زون میں داخل ہو چکی ہے۔

صدر شی جن پھنگ کی سفارتی سوچ اور خیالات کی ترویج و تفہیم کے لئے چینی وزارت خارجہ نے ایک ریسرچ سینٹر قائم کیا ہے۔اس ریسرچ سینٹر کی افتتاحی تقریب  20 تاریخ کو ، بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ ریسرچ سینٹر  ، چینی وزارت خارجہ نے  چین کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز  کے ساتھ مل کر قائم کیاہے۔اس کا مقصد  شی جن پھنگ کے سفارتی نظریات و خیالات کے حوالے سے تحقیق کو فروغ دینا، ان کی تشہیر کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ سفارتی سرگرمیوں میں ان نظریات اور خیالات کے رہنما کردار کو بروئے کار لانا  ، اور نئے دور میں چینی خصوصیات  کی حامل  سفارتی حکمت عملی  کے قیام کے لئے  نظریاتی بنیاد فراہم کرنا ہے۔

چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر  خارجہ وانگ ای نےاس تحقیقی مرکز کا افتتاح کیا۔ وانگ ای نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عظیم زمانہ لامحالہ عظیم نظریات و خیالات پیدا کرتا ہے۔ شی جن پھنگ  کی سفارتی سوچ عوامی جمہوریہ چین  کے سفارتی نظریے کی تعمیر میں عہد سازاہمیت کا  حامل ایک اہم کارنامہ ہے۔ سب سے پہلے ، سفارت کاری کے بارے میں شی جن پھنگ کی سوچ نئے دور میں چینی خصوصیات کے حامل  سوشلسٹ نظریاتی نظام کا ایک نامیاتی جزو ہے۔ دوسرا ، شی جن پھنگ کی سفارتی سوچ  اکیسویں صدی میں سفارتکاری کے بارے میں مارکسزم کے نظریات کی ترقی کا نتیجہ اور تازہ ترین کامیابی ہے۔ تیسرا ، شی جن پھنگ  کی سفارتی سوچ چین کی روایتی ثقافت کی وراثتی خوبیوں کےساتھ ساتھ جدت  سے ہم آہنگ ہے۔ چوتھا ، شی جن پھںگ  کی سفارتی سوچ  عوامی جمہوریہ چین کے سفارتی نظریے کی  نئی ترقی ہے۔ پانچویں ، شی جن پھنگ کی سفارتی سوچ بین الاقوامی تعلقات کے روایتی نظریہ سے پار مستقبل میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

وانگ ای نے نشاندہی کی کہ ہمیں بین الاقوامی تبادلے کو فعال طور پر انجام دینے کی ضرورت ہے تاکہ تمام ممالک کے عوام شی جن پھنگ کی سفارتی سوچ کے بارے میں گہری تفہیم حاصل کریں۔ انہوں نے کہا  چینی کہانی ، چینی فلسفے ، اور بین الاقوامی سطح پر چینی نطریات کی ترویج کی ضرورت ہے تاکہ اور چین کا تاثر اور چین کا پیغام موثر طریقے سے دنیا تک پہنچ سکے۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -