عثمان بزدار تحریک انصاف کی پہلی دفاعی لائن ہے جسے ن لیگ عبور کرنا چاہتی ہے مگر کیوں اور کیسے؟ سینئر کالم نویس نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

عثمان بزدار تحریک انصاف کی پہلی دفاعی لائن ہے جسے ن لیگ عبور کرنا چاہتی ہے ...
عثمان بزدار تحریک انصاف کی پہلی دفاعی لائن ہے جسے ن لیگ عبور کرنا چاہتی ہے مگر کیوں اور کیسے؟ سینئر کالم نویس نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  

لاہور (کالم: نسیم شاہد) یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس دن وزیراعظم عمران خان نے لاہور آ کر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو شاباش دی اور کھل کر کام کرنے کی تھپکی دی،اسی دن مسلم لیگ(ن) نے پنجاب بچائو تحریک چلانے کا اعلان کیا،اب یہ کریڈٹ تو عثمان بزدار کو جاتا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ(ن) کو وزیراعظم ہٹاؤ تحریک چلانے سے یوٹرن لے کر وزیراعلیٰ پنجاب ہٹاؤ تحریک پر مجبور کر دیا ہے اب یہ عجیب منطق ہے کہ تحریک انصاف پنجاب تباہ کر رہی ہے، کیونکہ اس نے وہاں بقول مسلم لیگی رہنماؤں کے ایک کمزور وزیراعلیٰ مقرر کر رکھا ہے، جس نے پنجاب کی حالت بگاڑ دی ہے۔

روزنامہ پاکستان میں نسیم شاہد نے لکھا کہ تحریک انصاف تو وفاق میں بھی برسر اقتدار ہے، خیبرپختونخوا بھی اس کے پاس ہے۔ اگر وہ تباہ کر رہی ہے تو پورا ملک تباہ ہو گا صرف پنجاب کیسے تباہ ہو سکتا ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کو یہ خوف لاحق ہو چکا ہے کہ پنجاب میں عثمان بزدار کا اقتدار جاری رہا تو پنجاب میں دس سالہ مسلم لیگی حکومت کے عیب سامنے آ جائیں گے۔میرے نزدیک تو یہ مسلم لیگ(ن) کے لئے اطمینان بخش بات ہونی چاہئے کہ بقول ان کی قیادت کے ایک کمزور وزیراعلیٰ پنجاب چلا رہا ہے، اس طرح تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی کہ شہباز شریف نے پنجاب کیسے چلایا اور عثمان بزدار کیسے چلا رہے ہیں،مگر اس کی بجائے مسلم لیگ(ن) نے پنجاب بچاؤ، بزدار ہٹاؤ تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔یہ تو عثمان بزدار کے لئے ایک بہت بڑا تعریفی سرٹیفکیٹ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت انہیں ہٹا کر پنجاب بچانا چاہتی ہے، گویا ان کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

حیرت ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ہٹانے کی تحریک ابھی تک کیوں نہیں چلائی، وہاں تو تباہی کے آثار جا بجا نظر آ رہے ہیں،اگر پنجاب کو بچانا ضروری ہے تو پھر سندھ کو بھی بچانا عین ضرورتِ وقت ہے اور مسلم لیگ(ن) ایک ملک گیر جماعت ہے، اسے سندھ بچانے کی تحریک بھی لگے ہاتھوں شروع کر دینی چاہئے، مگر وہ نہیں کرے گی، کیونکہ بغض ِ بزدار میں مبتلا ہو چکی ہے۔ کیا دو سال پہلے کسی کے وہم و گمان میں تھا کہ تونسہ شریف سے جس عام سے نوجوان کو کپتان نے پنجاب جیسے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ چنا ہے وہ ایک دن اپوزیشن کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے گا، اپوزیشن عمران خان کو بھول کر اس کے پیچھے پڑ جائے گی اور اس کی رخصتی کو اپنی ضد بنا لے گی۔

اگر کپتان کی نظر میں عثمان بزدار کی تھوڑی بہت کمزوریاں تھیں بھی، تو اب اپوزیشن اور وہ بھی مسلم لیگ(ن) نے پنجاب کو ٹارگٹ بنا کر انہیں خوبیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ مسلم لیگ(ن) اگر عثمان بزدار کو ہٹانا چاہتی ہے تو اس کا اگلا ہدف عمران خان ہی ہوں گے،یعنی عثمان بزدار تحریک انصاف کی پہلی ڈیفنس لائن ہے جسے مسلم لیگ (ن) عبور کرنا چاہتی ہے، لیکن اسے کامیابی اِس لئے نہیں مل سکتی کہ کپتان ڈٹ کر عثمان بزدار کے ساتھ کھڑا ہے۔ شہباز شریف نے اپنے میگا پراجیکٹس کے حوالے سے شہرت حاصل کی تھی، میٹرو بس منصوبے، اورنج ٹرین، دانش سکولز، آشیانہ سکیم وغیرہ، مگر ترجیحات غلط تھیں، اِس لئے یہ منصوبے وبال جان بن گئے، مثلاً میٹرو بس منصوبوں میں سبسڈیز نے پنجاب پر نیا بوجھ ڈال دیا، اورنج ٹرین پر کھربوں روپے لگے، ابھی نا مکمل ہے، چلے گا تو ہر ماہ بجلی کے بل اور دیگر مدات میں اربوں روپے کی سبسڈی دینی پڑے گی۔

دانش سکولز بیٹھ گئے اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیم ایک بڑا مالیاتی سکینڈلز بن گئی۔ عثمان بزدار نے ایک دوسری راہ اختیار کی ہے۔ میگا پراجیکٹس دیئے ہیں،مگر انہیں زمینی حقیقتوں سے دور نہیں کیا، وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں جس اکنامک زون منصوبے کا افتتاح کیا، وہ بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا، کیونکہ اس سے صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا اور روز گار کے بے تحاشہ مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ لاہور کے نواح میں ایک بڑا شہر بسانے کا منصوبہ بھی گیم چینجر ثابت ہوگا۔ خاص طور پر اسے دبئی کی طرز پر ایک جدید شہر بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کے لئے اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ غالباً یہی وہ منصوبے ہیں، جن کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) کو لگا ہے کہ عثمان بزدار اب ”خطرناک“ ہوتا جا رہا ہے اگر اسے مزید وقت دیا گیا تو پنجاب ہاتھ سے نکل جائے گا۔

عثمان بزدار نے غالباً شعوری طور پر یہ حکمت ِ عملی اختیار کی ہے کہ بہت زیادہ شو آف نہیں کرنا، کیونکہ ایسا کیا گیا تو یہی کہا جائے گا کہ شہباز شریف کی نقل کی جا رہی ہے۔ وہ خاموشی سے عملی کام کر رہے ہیں مثلاً انہوں نے کسی کو پتہ ہی نہیں چلنے دیا کہ وہ لاہور کے ساتھ ایک نیا شہر بسانے جا رہے ہیں، جنوبی پنجاب کو سیکرٹریٹ دینے کے دعوے کو بھی انہوں نے اچانک عملی جامہ پہنا دیا، اب یہ اکنامک زون کا قیام بھی ان کی حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہے، جس کی انہوں نے پہلے سے کوئی تشہیر بھی نہیں کی۔ لاہور میں بارشیں ہوئیں تو عثمان بزدار شہباز شریف کی طرف لمبے بوٹ اور ہیٹ پہن کر باہر نہیں نکلے انہوں نے لکشمی چوک پر پانی ذخیرہ کرنے کا زیر زمین ٹینک بنا دیا، جس کی وجہ سے وہ جگہ جہاں شہباز شریف لاو¿ لشکر کے ساتھ پانی نکلوانے آتے تھے، اب بارش کے باوجود خشکی کا منظر پیش کرتی ہے۔

اب اگر کوئی یہ سوال پوچھتا ہے کہ ہر چھ ماہ بعد وزیراعظم عمران خان کو عثمان بزدار کو تھپکی دینے کے لئے لاہور کیوں آنا پڑتا ہے تو اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ ان تھپکیوں کی وجہ سے عثمان بزدارکی خود اعتمادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ پارٹی قائد اور وزیراعظم کی طرف سے کسی وزیراعلیٰ کو شاباش ملنا اس کے لئے ایک بڑا اعزاز ہوتا ہے۔ نوازشریف وزیر اعظم تھے تو شہباز شریف کو باوجود اس کے وہ ان کے بھائی تھے، شاباش ضرور دیتے تھے، حتیٰ کہ ایک بار تو سب کے سامنے انہیں تھپکی بھی دی تھی، عثمان بزدار کے لئے آغاز میں کپتان کی تھپکیاں اِس لئے بھی ضروری تھیں کہ ان کی حکومت کو چند دن کی مہمان کہا جاتا تھا۔ یہ تک کہا گیا کہ پنجاب میں بیک وقت چار وزرائے اعلیٰ کام کر رہے ہیں، جن میں گورنر چودھری محمد سرور، چودھری پرویز الٰہی اور علیم خان شامل ہیں، مگر آج یہ عالم ہے کہ شاید ہی کوئی اِس بات پر یقین کرے کہ پنجاب میں عثمان بزدار کے علاوہ کسی اور کا حکم بھی چلتا ہے،پھر چونکہ جب بھی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے بارے میں افواہیں اڑتی ہیں، ان کا نکتہ یہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ان سے خوش نہیں، اِس لئے کپتان کے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ لاہور آئیں اور ایسی افواہوں کا بزدار کو تھپکی دے کر خاتمہ کر دیں۔

کیا کپتان کی اس تھپکی پر عثمان بزدار کو خوش ہو کے اطمینان سے بیٹھ جانا چاہئے؟ میرا خیال ہے کپتان کی اس تھپکی اور مسلم لیگ(ن) کی پنجاب بچاؤ تحریک نے عثمان بزدار کے لئے چیلنجز کچھ اور بڑھا دیئے ہیں جیسا کہ کپتان نے بھی پنجاب میں کرپشن کی بڑھتی ہوئی شکایات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، عثمان بزدار کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ اب صوبے کی گورننس پر توجہ دیں اور بے رحمانہ فیصلے کریں، اِس بات کا سنجیدگی سے کھوج لگائیں کہ آخر خرابی کہاں ہے کہ جس کی وجہ سے پنجاب میں کرپشن کی زیادتی کا تاثر پھیل رہا ہے۔

اس بات پر بھی توجہ دیں کہ آخر بیورو کریسی ان کے احکامات کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتی۔ ان پر الزام ہے کہ وہ تین چیف سیکرٹریز بدل چکے ہیں اور اتنے ہی آئی جیز بھی تبدیل کرائے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ بیورو کریسی من مانی کر رہی ہے۔خاص طور پر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ان کے تمام احکامات کو ہوا میں کیوں اڑا دیا جاتا ہے۔اخبارات اور میڈیا بار بار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پنجاب میں ذخیرہ اندوزوں اور مافیاز نے مصنوعی مہنگائی پیدا کر رکھی ہے،لیکن انتظامی افسران ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -