یاد رفتگاں

یاد رفتگاں
یاد رفتگاں

  

کتب خانوں کی ضرورت اور اہمیت قدیم تر زمانوں میں بھی محسوس کی جاتی رہی ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں قبل مسیح 2000 میں عراق، 1200 میں مصر اور 1300 میں کتب خانوں کے آثار ملتے ہیں۔ اسی طرح عراق میں kingAshburbunipal (قبل مسیح 668)کا وہ کتب خانہ موجود ہے جس میں چکنی مٹی، چمڑے سے تیار کیے ہوئے کاغذ، کھالوں اور ہڈیوں پر مشتمل ایک لاکھ نسخے (ق م 2000) ملے ہیں۔ سکندر اعظم کے عہد قبل مسیح 300 میں ایک کتب خانہ، جسے ہم قدیم زمانہ کا منظم کتب خانہ کہہ سکتے ہیں، 7 لاکھ مختلف نسخوں پر مشتمل تھا۔ پاکستانی کتب خانوں کے معماروں میںمحمد عادل عثمانیؒ کا نام دنیائے کتب میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔محمد عادل عثمانی CSP آفیسر بننا چاہتے تھے جس کے لیے تیاری بھی مکمل تھی لیکن انہوں نے بیورو کریسی کا کل پرزہ بن کر عوام پر حکومت کرنے کے بجائے کتابوں اور علم و معلومات کے سمندر میں غوطہ زن ہونا پسند کیا اور اس کے ذریعے زندگی بھر علما، فضلا اور طلبہ کی خدمت کرکے روحانی سکون اور قلبی مسرت حاصل کرنا پسند کی۔ معلومات و تحقیقات کو منتقل کرنا بھی ایک خدمت ہے لیکن ان تحقیقات اور معلومات کو منظم رکھنا اور کرنا دوسرا اہم کام ہے جسے ایک امین الکتبہ (لائبریرین) انجام دیتا ہے۔ لائبریرین کی اہم ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ علم و تحقیق کے متلاشیوں کو اس کے مقصد اور ہدف تک پہنچائے۔ لائبریرین کو خود بھی ان علوم اور معلومات سے باخبر ہونا پڑتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہترین اور پروفیشنل لائبریرین وہ ہے جو سچا، مخلص، معاون اور مددگار ہو۔ اس کی شخصیت ایسی پرکشش ہو کہ وہ عام لوگوں میں بھی کتب خانوں سے دلچسپی اور انس پیدا کردے۔ جناب محمد عادل عثمانی ؒ بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ وہ پاکستان اور سعودی عرب میں اپنے احباب میں عزت و احترام سے دیکھے جاتے تھے۔ حکیم محمد سعیدؒ (ہمدرد)نے کراچی میں ہمدرد یونیورسٹی بنائی تو انہوں نے عثمانی صاحب ؒکے ہمراہ یونیورسٹی کا دورہ کیا اور ایک بڑے کمرے میں پہنچ کر کہا کہ عثمانی صاحب! آپ جب بھی سعودی عرب سے آئیں، یہ کمرہ آپ کے لی¿ے مختص ہوگا اور یہاں کی لائبریری آپ ہی کی زیر نگرانی ہوگی۔

ملک و بیرون ملک یکساں احترام کے حامل محمد عادل عثمانیؒ میرے حقیقی چچا اور سسر تھے۔ جامعہ ملک عبدالعزیز جدہ کی ملازمت کے دوران وہ اپنی 5 سالہ مدت مکمل کرکے پاکستان جا رہے تھے تو جامعہ کے امین العام ڈاکٹر محمد زبیر اور سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد حبشی خود انہیں الوداع کہنے کے لیے ائرپورٹ پر موجود تھے۔ جامعہ ملک عبدالعزیز میں ان کی ملازمت ہی کے دوران سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ پیش آیا۔ محمد عادل عثمانیؒ نسلی و لسانی تعصبات کے زبردست مخالف تھے۔ سرزمین پاکستان سے محبت ان کے رگ و پہ میں بہت گہری اتری ہوئی تھی۔ وہ وطن سے باہر تھے کہ جب سقوط ڈھاکا کا المیہ پیش آیا۔ ان کی حساس طبیعت نے اس کا بہت اثر لیا اور چلتے پھرتے وہ عرصے تک گہرے صدمے میں رہے اورمسلسل آنسو تھے کہ تھم تے ہی نا تھے۔ وہ اپنے دوست واحباب سے بھی یہ کیفیت چھپا نہ پاتے۔ انہوں نے لائبریری سائنس کے متعدد سیمینار ڈھاکا میں منعقد کیے تھے۔الطائف میں قیام کے دوران کچھ متحرک پاکستانیوں نے پاکستان اوورسیز فورم کی داغ بیل ڈالی تو اس کے چیئرمین کے لیے نگاہ انتخاب محمد عادل عثمانیؒ ہی پر پڑی۔ وہ دینی پہلو کو ہمیشہ ترجیح دیتے تھے، چنانچہ انجینئرا صدر امام کے ساتھ مل کر وہ دینی اصلاح و تربیت کے لیے علم و عمل کے نام سے ایک حلقہ مرتب کیا جو تقریباً 20 سال سے ابھی جاری ہے ۔محمد عادل عثمانیؒ نے 1952ءمیں الٰہ آباد یونیورسٹی (انڈیا) سے بی اے کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد پاکستان ہجرت کر آئے۔ ان کے بڑے بھائی یعنی میرے والد محترم محمد فاضل عثمانیؒ اس سے قبل پاکستان ہجرت کر چکے تھے۔ عادل صاحبؒ نے 1954ءمیں کراچی یونیورسٹی سے اپنے پیشہ ورانا کیری¿ر کا آغاز کیا۔ اسی ملازمت کے دوران انہوں نے امریکی تعلیمی فا¶نڈیشن کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور اسکالر شپ حاصل کرکے نیو جرسی (امریکہ) سے صرف دو سیمسٹر (9 ماہ) میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرلی جو ایک ریکارڈ تھا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کی دعوت پر انہوں نے دو مرتبہ 1949ءاور 1977ءمیں برٹش لائبریری اور کامن ویلتھ آفس لائبریری اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لائبریری اور مانچسٹر پبلک لائبریری کے پروگراموں میں حصہ لیا۔ پاکستان کے کتب خانوں میں ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک لائبریرین، مصنف، (16 پےشہ ور کتابوں کے مصنف)، ملف، مدیر اور ناشر تھے۔ کتب خانوں سے متعلق کئی انجمنوں کے بانی رکن رہے۔ کئی قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں عملی اور مرکزی حیثیت کے طور پر حصہ لیا۔ کراچی یونیورسٹی کے ڈھانچہ میں ہمےشہ ایک ممتاز ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ان کے انہی گراں قدرپیشہ ورانا صلاحیت کا شہرہ کچھ اس قدر ہوا کہ جب سعودی عرب کے اس وقت کے دارالحکومت جدہ میں جب جامعہ ملک عبدالعزیز (الاھلیہ) کی بنیاد ڈالی گئی تو پاکستان سے جناب عثما نیؒ ہی کوانکی لائبریری منظم کرنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنے تجربہ، محنت اور لگن سے اس کو اس طرح منظم کیا کہ جامعہ ملک عبدالعزیز کے بڑے عہدیداران بھی ان کی زبردست صلاحیتوں کے قائل ہو گئے۔ انہوں نے 1968ءتا 1973ءکراچی یونیورسٹی سے ڈیپوٹیشن پر اپنے وطن پاکستان کا نام بھی رو شن کرتے ہوے جامعہ ملک عبدالعزیز میں خدمات انجام دیں۔ یہاں ایک بات ذکر کرنا چاہوں گا کہ جب وہ اپنے پہلے دورانیہ مکمل کرکے وطن چلے گئے، اس کے بعداتفاقا ایک مرتبہ اسی یونیورسٹی (جامعہ) کے بورڈز آف ڈائریکٹرز کے اہم ممبراو ر ممتازترین مقامی تاجر احمد صالح جمجوم سے میری حرم مکی شریف میں ملاقات ہوئی (وہ مجھے جانتے تھے) تو انہوں نے فور ہی مجھ سے پوچھا کہ عثمانی صاحب کب واپس آ رہے ہیں، وہ نہایت باصلاحیت اور محنتی انسان ہیں ’ ان کی ملک عبدالعزیز یونیورسٹی میں ہمیشہ ضرورت رہے گی ۔ لیکن کیا کیا جاتا کہ ایسے مخصوص پیشہ ور شخصیت کی ضرورت کراچی یونیورسٹی کو بھی تھی اسی لیے انہیں واپس جانا پڑتھا۔ ان کی شاندار خدمات کے پیش نظر ڈاکٹر احسان رشید (سابق وائس چانسلر جامعہ کراچی) نے ایک تعریفی سند میں تحریر فرمایا تھاکہ جامعہ کراچی میں محمد عادل عثمانی کے موجودہ مقام کے لیے ڈاکٹریٹ ہونا لازم تھا لیکن ان کے طویل اور جامع تجربہ کے پیش نظر اس شرط کونظر انداز کردیا کیا گیاہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ یونیورسٹی کے لائبریرین کی حیثیت سے ان کی گراں قدر خدمات پر انہیں جتنے بھی تعریفی کلمات سے نوازا جائے ان کے لیے سب زیب دیتے ہیں۔ اسی طرح ہمدرد یونیورسٹی کے امین الجامعہ نے اپنی ایک کتاب Literature On Quran In English Language پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک مخلص، حقیقت پسند اور بامقصد محنتی اور عالم کے الفاظ سے متعارف کرایا تھا۔

محمد عادل عثمانیؒ نے 1979ءمیں مملکت میں دوبارہ اس وقت قدم رکھا جب ان کی ضرورت مکہ مکرمہ کی نئی یونیورسٹی جامعہ ام القریٰ کو محسوس ہوئی۔ انہوں نے 1979ءتا 1982ءیہاں خدمات انجام دیں اور وہاں کے عمومی کتب خانہ کو لائبریرین کی حیثیت سے سنبھالا دیا۔ اسی دروان جامعہ کراچی کی جانب سے واپسی کے اصرار پر انہیں وہاں سے مجبوراً ریٹائرمنٹ حاصل کرنا پڑی۔ ام القریٰ کے طائف کیمپس میں ایک بار پھر کتب خانہ کی تنظیم کا مسئلہ درپیش ہوا۔ (طائف کیمپس بعد میں خودمختار یونیورسٹی بن گیا) تو انہیں ڈائریکٹر لائبریرین (طائف) کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کی دعوت دی۔ یہاں انہوں نے 1982ءتا 1999ءکام کیا اور وہاں کا کتب خانہ سنوارا۔ اس کے بعد انہیں سعودی جامعات سے ریٹائرمنٹ ملی۔ غالباً محمد عادل عثمانی منفرد پاکستانی ہیں جنہیں درس و تدریس کی معاونت میں سعودی عرب کی تین مختلف جامعات کی خدمات کا شرف حاصل ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ جدہ میں اپنے سب سے چھوٹے بیٹے محمد سلمان عثمانی کے ہمراہ تھے۔ آخری دنوں میں مختلف امراض کا شکار ہو گئے اور 6 اکتوبر 2009ءکو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ محمد عادل عثمانی کے لاتعداد شاگرد اور پیشہ ور ساتھی ملک و بیرون ملک موجود ہیں۔ ان میں سے چند کے ان صفحات میں تاثرات لانا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔

ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری (امریکہ): محمد عادل عثمانی کے مایہ ناز اور چہیتے تلمذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے پیغام میں کہتے ہیں کہ استاد سے میری نیاز مندی نصف صدی پر محیط تھی۔ پہلی ملاقات میں ان کی پرکشش شخصیت نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا اور آپ کی علمی و تحقیقی بصیرت سے متاثر ہوکر میں نے شعبہ علم کتاب داری میں داخلہ لے لیا۔ وہاں وہ میرے استاد تھے اور میں نے آپ سے علم کتاب داری اور تحقیق و جستجو کے رموز و طور طریقے سیکھے۔ میں ہی نہیں جتنے بھی طلبہ شعبہ کتاب داری میں زیر تعلیم تھے سب ہی نے آپ سے بے پناہ فیض حاصل کیا اور اپنے علمی و پیشہ ورانہ زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ انہوں نے حکیم محمد سعید اور مولانا عارف الدین کے ساتھ ”سوسائٹی فار دی پروموشن اینڈ امپورمنٹ آف لائبریریز“ کے لیے فقید المثال کارہائے نمایاں انجام دیے۔ جامعہ کراچی کی سابق طلبہ کی انجمن KULSAA کے مسلسل کئی سال صدر رہے اور سابق طلبہ کی رہنمائی کرتے رہے اور اسی انجمن سے ماہانہ ”نیوز لیٹر“ کی پہلی بار اشاعت شروع کی۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ استاد محترم کی قیادت میں لائبریری پروموشن بیورو کا قیام عمل میں آیا۔ یہ پاکستان کا پہلا ادارہ ہے جس سے ایک سہ ماہی مجلہ 1966ءسے شائع ہونا شروع ہوا جو ابھی تک مسلسل جاری ہے۔ عثمانی صاحب تقریباً 24 سال اس کے چیف ایڈیٹر رہے۔ ملک میں یہ واحد لائبریریز کا مجلہ ہے۔ یہ مجلہ دنیا کے اعلیٰ معیاری مجلات میں بھی شامل ہے جس کے ذریعے پاکستان میں شائع ہونے والے پیشہ ورانہ تحقیقی اور علمی مواد سے کل عالم کے محققین کے لیے رسائی آسان ہو گئی ہے۔

رئیس احمد صمدانی (کراچی): لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس میں ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے لائبریری پروموشن بیورو کے جھنڈے تلے محمد عادل عثمانی کی بائیو گرافی 117 صفحات پر مشتمل 2004ءمیں شائع کی ۔ وہ ابتدائیہ میں کہتے ہیں کہ عثمانی صاحب کی علمی اور تعلیمی خدمات کے بارے میں اپنے اساتذہ سے سنتا رہا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ 1960ءتک لائبریری سائنس کو کوئی توجہ نہیں دی جاتی رہی لیکن عثمانی صاحب اور ساتھیوں نے اس شعبہ کو ملک گیر اہمیت دلائی۔ انہوں نے لائبریری سائنس کی ترقی کے لیے دن میں 14، 14 گھنٹے کام کیا۔ ایسا شخص جو سی ایس پی کی تیاری میں مشغول تھا، اچانک لائبریری سائنس کا پیشہ اختیار کرنے پر کبھی پشیمان نہ ہوئے بلکہ تمام زندگی لگن اور شوق سے دنیائے کتب کے لیے خود کو وقف رکھا۔ انہوں نے امریکا میں 12 جولائی 1959ءکو ایک سوال کے جواب میں اخبار GARY POST TRIBUNE کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ”لائبریری پیشہ میں آنا میری زندگی کا خوشگوار ترین واقعہ تھا“۔

مطیع الرحمن: جدہ میں عثمانی ؒ کے ساتھی بتاتے ہیں کہ چند سعودی بڑے تاجروں نے مل کر اعلیٰ تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے 1967ءمیں جامعہ ملک عبدالعزیز (پرائیویٹ) کی بنیاد ڈالی۔ یہ یونیورسٹی صرف دو شعبوں اکنامکس اور ایڈمنسٹریشن پر مشتمل تھی۔ اس کے اور جنرل معلومات کے لیے ایک لائبریری کی بھی ضرورت تھی جس کے لیے سب سے پہلے پاکستان سے ڈاکٹر صبوح قاسمی کو لایا گیا اور یہ خود اس لائبریری کے نائب مقرر ہوئے تھے۔ قاسمی صاحب کے بعد محمد عادل عثمانی کو لایا گیا جنہوں نے اپنی محنت اور ذہانت سے اس لائبریری کو چار چاند لگا دیے۔ وہ ہمارے شعبہ کے چار سال انچارج رہے اور ایک MAN OF THE IDEAS AND IDEAS تھے۔ ان میں مٹھاس کا پہلو غالب تھا۔ ایڈمنسٹریشن چلانے کا بھی بڑا مثبت انداز تھا۔ اللہ تعالیٰ کے خوف سے مغلوب ہونے کے باعث وہ اس طرح فیصلے کرتے کہ ناخوش بھی خوش ہو جاتا۔ انہوں نے انتھک محنت کے باعث مقامی اعلیٰ افسران میں اپنے اور اپنے ملک پاکستان کی اعلیٰ بہتر صلاحیتوں کو تسلیم کرا لیا تھا۔ مکہ مکرمہ میں اس وقت دو شعبہ کالج آف ایجوکیشن + کالج آف شریعت، جامعہ ملک عبدالعزیز کے تابع چل رہے تھے جس کی لائبریری کی نگرانی بھی انہی کے ذمے تھی۔ انہوں نے ڈاکٹر حمد علی (وکیل الجامعہ) کو اس وقت لائبریری سائنس کے سرٹیفکیٹ کورس شروع کرنے کی تجویز پیش کی اور خود کو تدریس کے لیے پیش کیا جس سے وکیل الجامعہ خوش ہوئے اور اس طرح اپنے قیام کے دوران بہت سے طلبہ کو اپنا شاگرد بھی بنا گئے۔ اپنے وطن میں سخت ضرورت کے تحت انہیں واپس جانا پڑا جس کی کمی اور افسوس بہرحال اعلیٰ افسران کو رہا۔

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -