چین میں مسلمانوں کو زنجیروں میں جکڑنے کی ویڈیو چینی سفارتکار کو دکھائی گئی تو انہوں نے کیا جواب دیا؟

چین میں مسلمانوں کو زنجیروں میں جکڑنے کی ویڈیو چینی سفارتکار کو دکھائی گئی ...
چین میں مسلمانوں کو زنجیروں میں جکڑنے کی ویڈیو چینی سفارتکار کو دکھائی گئی تو انہوں نے کیا جواب دیا؟

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) چین پر طویل عرصے سے یغور مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرنے، مردوں کی نس بندی اور خواتین کو زبردستی مانع حمل ادویات اور اسقاط حمل سے دوچار کرکے نسل کشی کرنے اور حراستی مراکز میں رکھ کر جبراً ان کے مذہبی عقائد تبدیل کرانے کا موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں برطانیہ میں تعینات چینی سفیر لیو ژیاﺅمنگ ایک ٹی وی شو میں شریک ہوئے جہاں انہیں یغور مسلمانوں کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑ کر جانوروں کی طرح ٹرین میں لوڈ کرنے کی ویڈیو دکھائی گئی جس پر انہوں نے ایسا جواب دینا کہ ہر سننے والا دنگ رہ گیا۔ میل آن لائن کے مطابق لیو ژیاﺅمنگ نے یہ ویڈیو دیکھ کر کہا کہ یہ جعلی ویڈیو چین کے خلاف پراپیگنڈے کا حصہ ہے۔ یغور مسلمان امن و چین کی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں کسی طرح کے جبر کا سامنا نہیں ہے۔

میل آن لائن کے مطابق ژیاﺅ منگ نے اینڈریو مار شو میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”یغور مسلمانوں کی نسل کم کرنے کے لیے مردوں کی نس بندی کرنا اور خواتین کو زبردستی مانع حمل ادویات دینا اور ان کے اسقاط حمل کرانا چینی حکومت کی پالیسی نہیں ہے۔ یہ چین کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا ہے جس کے اپنے مقاصد ہیں۔ اس طرح کی جعلی ویڈیوز بنا کر انہیں چین سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حقیقت میں چین میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا اور یغور مسلمان باقی چینی شہریوں کی طرح امن و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔“ واضح رہے کہ عالمی ماہرین کے اندازے کے مطابق اس وقت 10لاکھ سے زائد یغور مسلمانوں کو چینی حکومت نے حراستی مراکز میں قید کر رکھا ہے جہاں ان پر ہر طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور انہیں اسلامی عقائد ترک کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

مزید :

برطانیہ -