" اپنے آدمیوں کو بونا بنانے والی ریاست جانے گی کہ چھوٹے آدمیوں سے عظیم کام نہیں لیا جاسکتا"

" اپنے آدمیوں کو بونا بنانے والی ریاست جانے گی کہ چھوٹے آدمیوں سے عظیم کام ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے خواجہ برادران ضمانت کیس میں برطانوی فلاسفر جوہن سٹورٹ مل کے مشہور مقولے سے اپنے تحریری فیصلے کا آغاز کیا۔

خواجہ برادران کی ضمانت کے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر نے تحریر کیا۔ 87 صفحات کے فیصلے کا آغاز برطانوی فلاسفر جوہن سٹورٹ مل کے اس مشہور مقولے سے کیا گیا۔

" ایک ریاست جو اپنے آدمیوں کو بونے بناتی ہو تاکہ وہ اس کے ہاتھوں میں، اچھے مقاصد کے لئے ہی سہی آلہ کار بنے رہیں ، بعد میں جانے گی کہ چھوٹے آدمیوں سے کوئی عظیم کام نہیں لیا جا سکتا۔"

خیال رہے کہ خواجہ برادران کی ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔ 87 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس مقبول باقر نے تحریر کیا۔ جسٹس مقبول باقر نے حبیب جالب کے شعر"ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو" کا حوالہ بھی دیا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قیصر امین بٹ کو وعدہ معاف گواہ بنانا ثابت کرتا ہے کہ نیب کے پاس ثبوت نہیں ۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ نیب تمام تر کوششوں کے باوجود خواجہ برادران کا پیرا گون سے تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ،خواجہ برادران کے نام کیسے شامل کیے گئے یہ ایک معمہ ہے، خواجہ برادران کے خلاف کیس انسانیت کی تذلیل کی بد ترین مثال ہے ۔

مزید :

قومی -