حج بیت اللہ...ایک مقدس سفر

حج بیت اللہ...ایک مقدس سفر
حج بیت اللہ...ایک مقدس سفر

  

حج کے لغوی معنٰی "کسی عظیم الشان چیز کی طرف قصد کرنے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں مخصوص زمانے میں مخصوص فعل سے مخصوص مکان کی زیارت کرنے کو حج کہتے ہیں امام ابن ہمامؒ فرماتے ہیں حج ان خاص افعال کا نام ہے جو حج کی نیت سے احرام باندھنے کے بعد ادا کئے جاتے ہیں اور وہ افعال فرض طواف اور وقوفِ عرفات ہیں جن کو ان مقررہ وقتوں میں ادا کرتے ہیں۔

حج بیت اللہ شریف دینِ اسلام کا اہم بنیادی رکن،ستون اور اللہ تعالی کی عظیم ترین مالی و بدنی عبادت ہے اور تمام انبیاء کرام علیھم السلام اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں کا شعار ہے،روایات میں منقول ہےکہ تمام انبیاء کرام علیھم السلام نے خانہ کعبہ مشرفہ کا حج فرمایا ہے۔

حج بیت اللہ شریف کی فرضیت و اہمیت کا ذکر قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں موجود ہے سورت آل عمران میں ارشاد ربانی ہوتا ہےکہ ترجمہ! اللہ تعالی کی عبادت کیلئے بیت اللہ شریف کا حج لوگوں پر فرض ہے اور یہ ہر اُس (عاقل، بالغ، آزاد)مرد وعورت پر فرض ہے جس کو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو اور جس شخص نے اِس کا انکار کیا تو بیشک اللہ تعالی تمام جہانوں سے بے نیاز ہے ۔ آیت مبارکہ میں حج بیت اللہ شریف کے وجوب کی تاکید اور اس کے تارک پر وعید ہے،اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کیلئے کوئی ظاہری اور واقعی مجبوری حج سے روکنے والی نہ ہو یا ظالم بادشاہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہ ہو یا ایسا شدید مرض نہ ہو جو حج سے روک دے پھر وہ بغیر حج کئے مر جائے تو اس ک اختیار ہے کہ چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے۔۔۔(مشکوہ شریف)

اسی طرح سورت حج میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں ترجمہ! آپ لوگوں میں حج کے فرض ہونے کا اعلان کر دیجیئے اس اعلان سے لوگ آپ کے پاس (یعنی آپ کی اس عمارت کے پاس حج کیلئے) پیدل چل کر بھی آئیں گے اور ایسی اونٹنیوں پر سوار ہو کر بھی آئیں گے جو دُور دراز راستوں سے چل کر آئی ہوں اور سفر کی وجہ سے دُبلی ہو گئی ہوں تاکہ یہ آنے والے اپنے منافع حاصل کریں) آیت میں منافع سے مراد موسم حج میں تجارت بھی کریں اور آخرت میں حج کا اجر وثواب بھی حاصل کریں گے۔ حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے فرمایا منافع سے مراد دنیا اور آخرت کے منافع ہیں،پس آخرت کے منافع سے مراد اللہ تعالی کی خوشنودی کا حصول اور دنیا کے منافع سے مراد قربانیوں اور ذبیحہ جانوروں کے گوشت اور تجارتیں ہیں۔

سورت مائدہ کی آیت نمبر تین میں اللہ تعالی کا ارشاد ترجمہ ! آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو ہر طرح کامل ومکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا اور تمہارے لئے دینِ اسلام کو ہمیشہ کیلئے پسند کر لیا(کہ قیامت تک تمہارا یہی دین رہے گا ) یہ آیت مبارکہ جمعہ کے روز عرفات کے میدان میں عصر کے ججتہ الوداع میں نازل ہوئی جبکہ حضور نبی کریم ﷺ عرفات کے میدان میں اپنی اونٹنی پر جس کا نام عضبا ہے تشریف فرما تھے پس وہ اونٹنی بوجھ کی وجہ سے بیٹھ گئی کھڑی نہ رہ سکی۔ام المؤمنین سیدہ طیبہ عائشہ صدیقہؓ  فرماتی ہیں کہ جب حضور نبی کریم ﷺ اونٹنی پر سوار ہوتے اور وحی نازل ہوتی تو وہ اونٹنی اپنی گردن گرا دیتی اور جب تک وحی ختم نہ ہوتی حرکت نہ کر سکتی تھی۔ 

اسی آیت مذکورہ کے متعلق بخاری ومسلم میں حضرت عمر بن خطابؓ  سے روایت ہے کہ یہود کے کسی شخص نے حضرت عمر فاروقؓ  سے عرض کیا اے امیرالمؤمنین تمہارے قرآن کریم میں ایک آیت ہے جس کو تم پڑھتے ہو اگر وہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے ارشاد فرمایا کہ وہ کونسی آیت ہے۔۔؟؟ اس شخص نے اسی آیت مذکورہ بالا کے متعلق کہا تو حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ  نےفرمایا کہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ حضور نبی کریم ﷺ پر کس دن اور کس جگہ نازل ہوئی، یہ آیت میدانِ عرفات میں جمعہ کے دن وقوفِ عرفات کے وقت نازل ہوئی ہے۔حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ  نے اس میں اشارہ فرمایا کہ یہ دن ہمارے لئے پہلے ہی عید کا دن ہے بلکہ بحمداللہ تعالی ہمارے یہاں اس وقت دو عیدیں جمع تھیں ایک جمعہ کا دن(کہ وہ بھی مسلمانوں کیلئے عید کے دن کی طرح ہے)دوسرے عرفہ کا دن(کہ وہ بھی بالخصوص حجاج کرام کیلئے عید کا دن ہے) 

حضرت ابو سعید خدریؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! اللہ تعالی نے تم پر حج فرض کیا ہی پس حج کرو۔( مسلم و نسائی و ترمذی) اسی طرح دوسری روایت بخاری شریف و ترمذی شریف و نسائی شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے وہ یہ ہیں ،اس امر کی شہادت دینا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور (سیدنا ومولانا وقائدنا) محمد رسول اللہ ﷺ  اللہ تعالی کے (آخری)رسول ہیں اور نماز پڑھنا اور زکٰوہ دینا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔ ان دو مذکورہ بالا حدیثوں سے آپ حج بیت اللہ شریف کی فرضیت و اہمیت و تاکید کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

 

حضرت ابوھریرہؓ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے محض اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے حج کیا اور رفث یعنی جماع اور اس کے تذکرے اور لغو کلام اور فسق یعنی ہر قسم کے گناہ کے کاموں سے محفوظ رہا تو وہ حج سے ایسا پاک ہو کر واپس ہوتا ہے جیسا کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن پاک تھا) (بخاری ومسلم وابن ماجہ ونسائی) یعنی تمام گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے(سوائے بندوں کے حقوق کے کیونکہ حقوق العباد کو دنیا میں ادا کرنا یا صاحبِ حق سے معاف کرا لینا ضروری ہے ورنہ وہ معاف نہیں ہوں گے۔)

حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہے کہ غزوۂ بدر کے دن کو چھوڑ کر اور کونے دن عرفہ کے دن کے علاوہ ایسا نہیں ہے جس میں عرفہ کے دن کی طرح شیطان بہت ذلیل ہو رہا ہو، بہت راندہ پھر رہا ہو، بہت زیادہ غصہ میں بھر رہا ہو اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ وہ عرفہ کے دن میں اللہ تعالی کی رحمتوں کا کثرت سے نازل ہونا اور بندوں کے بڑے بڑے گناہوں کا معاف ہونا دیکھتا ہے۔۔( مشکوہ شریف )

حضرت ابوھریرہؓ  سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سوال کیا گیا کہ کونسا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا اللہ تعالی اور اُسکے رسول ﷺ پر ایمان لانا،عرض کیا گیا کہ پھر کونسا عمل افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنا ۔پھر عرض کیا گیا پھر کونسا عمل؟ آپ ﷺ نے فرمایا حج مبرور (بخاری ومسلم ) حج مبرور (حج مقبول )وہ ہے جس گناہ اور ریاکاری نہ ہو بعض حضرات کے نزدیک حج مبرور (حج مقبول ) وہ ہے جس میں کسی قسم کی معصیت (نافرمانی ) نہ ہو اور بعض حضرات کے نزدیک حج مبرور وہ ہے جس میں نہ ریا وسمعہ ( دِکھلاوا ) ہو اور نہ رفث(فحش کلامی) ہو اور نہ فسوق (نافرمانی) ہو ۔امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ حج مبرور یہ ہے کہ حج کرنے کے بعد دنیا سے بے رغبتی ہو جائے اور آخرت کی طرف رغبت پیدا ہو جائے ۔ 

حضرت ابن مسعودؓ و حضرت جابرؓ سے مرفوعا روایت ہے کہ پے در پے حج و عمرہ کرو۔یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دُور کرتے ہیں جیسا کہ آگ کی بھٹّی لوہا،سونا اور چاندی کے میل کو دور کرتی ہے۔ (ترمذی و نسائی )

علامہ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ حاجی کی دعا رد نہیں ہوتی۔ 

جس قدر عبادات ہیں سب کا مقصد اظہارِ عبودیت اور شکرِ نعمت ہے جیسا کہ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے اور حج میں یہ دونوں باتیں پوری طرح پائی جاتی ہیں کیونکہ اظہار عبودیت سے مقصود اپنے معبودِ حقیقی کے سامنے اپنی عاجزی و انکساری کا اظہار ہے حج میں یہ بات پائی جاتی ہے اس لئے کہ حاجی احرام کی حالت میں انتہائی تذلّل اور پراگندگی ظاہر کرتا ہے اس کی ہر حرکت وسکون سے عاجزی ظاہر ہوتی ہے،گھر بار ، عزیز واقارب،مال ودولت سب کو چھوڑ کر سفر کی تکالیف(بھوک،پیاس،سر چکرانے،قے ومتلی )کو برداشت کرتا ہوا دیارِ محبوب کی طرف دیوانوں کی طرح دوڑتا چلا جاتا ہے،آزمائش و زیبائش کے لباس کو چھوڑ کر ایک تہبند باندھ کر اور ایک چادر لپیٹ کر گویا کہ کفنِ کفایت ساتھ لئے ہوئے محبوب کے دروازے پر فریادی بن کر آیا کھڑا ہے،بال و ناخن بڑھے ہوئے ہیں میل کچیل بدن پر جما ہوا ہے اور زبان پر لبیک اللھم لبیک کی صدا ہے(میں حاضر ہوں اے میرے رب میں حاضر ہوں) گویا کہ محبوب اس کو پکار رہا ہے اور وہ نہایت محویت اور شوق کیساتھ زبانِ حال وقال سے جواب دے رہا ہے، محبوب کے دیار میں پہنچ کر کبھی اس کے گھر کی در ودیوار (حجر اسود وملتزم کو ) کو چومنے اور اس سے لپٹنے میں مصروف ہے۔ کبھی اس کے چاروں طرف گھومتا ہے طواف جیسی سعادتِ عظمی سے مشرف ہو کر فورا سجدہ شکر بجا لاتا ہے یعنی دوگانہ طواف ادا کرتا ہے اور اپنی غلامی کا اظہار اور اللہ تعالی کے معبودِ برحق ہونے کا اقرار کرتا ہے،آب زم زم پی کر جسمانی و روحانی طاقت محسوس کرتا ہے ،اسی طرح وقوفِ عرفات کی حالت میں گویا کہ وہ ایک نافرمان غلام کی حیثیت سے اپنے آقا ومولا کے سامنے تضرع وزاری کے ساتھ کھڑا اسکی حمد وثنا کرتا ہے اور اپنے گناہوں اور لغزشوں کی معافی مانگ رہا ہے ،اپنی غلطیوں اور تقصیرات کا اعتراف کر رہا ہے،فریضہ قربانی کی ادائیگی کے وقت سنت ابراھیمیؑ  و سنت مصطفوی ﷺ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اتباع کا جذبہ اور اپنی جان ومال کو اللہ تعالی کے راستے میں قربان کرنے کا عزم کر رہا ہوتا ہے۔

صفا ومروہ کی سعی، مزدلفہ ومنٰی میں ٹھہرنا،قصرو حلق کروانا ہو یا رمی جمرات ( شیاطین کو کنکریاں مارنا) یہ سب اللہ تعالی کے مقربین سیدنا ابراھیم و سیدنا اسماعیل علیھما السلام اور اماں ہاجرہ سلام اللہ علیھا کی اداؤں اور وفاؤں کی یادگار ہیں ۔ حاجی حرم مکہ مشرفہ میں رحمت الہیہ سے مستفید ہو کر حرم طیبہ مدینہ منورہ دیارِ حبیب خدا ﷺ میں پہنچ رحمتہ للعالمین ﷺ کے بارگاہ اقدس میں درود وسلام کا نذرانہ پیش کر کے اپنے سفر مبارک کی تکمیل کرتا ہے،

میری الفت مدینے سے یوں ہی نہیں میرے آقاﷺ کا روضہ مدینے میں ہے

میں مدینے کی جانب نہ کیسے کھینچوں میرا تو جینا مرنا مدینے میں ہے ۔

گویا حاجی بارگاہ رسالتماب ﷺ میں حاضر ہو کر شفاعت کا طلبگار ہوتا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ کے فرمان مبارک کہ جس نے میرے روضۂ مبارک کی زیارت کی اس پر میری شفاعت واجب ہو گئی یعنی شفاعت کی سعادت سمیٹنے کیلئے حرم مدینہ طیبہ کا سفرِ سعادت روضہ اقدسﷺ کی حاضری حاجی کی سب سے بڑی خوش نصیبی اور سعادت مندی ہے پھر کون بدنصیب ہو گا جو مکہ مشرقہ تو حاضر ہو مگر مدینہ منورہ کی حاضری کو چھوڑ دے ۔۔۔!!!

تیری رحمت تیری شفقت سے ہوا مجھ کو نصیب۔۔

گنبدِ خضرا کا سایہ میں تو اس قابل نہ تھا۔۔

بارگاہِ سیدِ کونین ّ ﷺ میں آ کر نفیسؒ  

سوچتا ہوں کیسے آیا میں تو اس قابل نہ تھا

اللہ تعالی بار بار حرمین شریفین کی حاضری ہمیں نصیب فرمائیں ۔(آمین)

پس حج اظہارِ عبودیت کا اعلی ذریعہ ہے اور اظہار عبودیت واجب ہے تو حج بھی واجب ہے نیز حج میں شکر نعمت بھی ہے کیونکہ عبادت کی دو قسمیں ہیں" مالی و بدنی "مالی جیسے زکوہ وصدقات اور بدنی جیسے نماز روزہ، اور حج میں یہ دونوں باتیں جمع ہیں مال بھی خرچ کرنا ہے اور بدنی مصائب و متاعب بھی برداشت کرنے ہیں اسی لئے حج بیت اللہ شریف کے وجوب کیلئے مال و صحتِ بدن شرط ہے گویا حج میں ان دونوں نعمتوں کا شکر ادا کیا جاتا ہے کیونکہ شکر نعمت یہ ہے کہ اس کو منعم کی طاعت میں صرف کیا جائے ۔۔۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو بار بار حج بیت اللہ شریف کی سعادت نصیب فرمائیں ۔ آمین یا رب العالمین۔

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -