خوشگوار زندگی کے نسخے 

خوشگوار زندگی کے نسخے 
خوشگوار زندگی کے نسخے 

  

اور سناؤ! تمہاری جوانی قائم ہے؟… مَیں نے ایک بھرپور معنی خیز قہقہہ لگایا اور کہا۔ جی بالکل قائم ہے… میرے اس جواب پر دوسری جانب فون پر بات کرنے والے میرے سکول ڈائریکٹر جناب اسامہ درانی نے کہا کہ میرا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھے بلکہ میرا نقطہء نظر یہ ہے کہ اگر تم زندگی کے مسائل کے ساتھ مسکراتے ہو، دوستوں کے پاس جاتے ہو، ان سے گپ مارتے ہو، چائے پیتے ہو، کافی پیتے ہو، رشتہ داروں کے ساتھ رابطہ رکھتے ہو، ان کی خوشی، غمی میں شریک ہوتے ہو… تو سمجھو تمہاری جوانی قائم ہے…اور تمہاری زندگی خوشگوار ہے. 

میرے لئے جوانی قائم رکھنے کا اور خوشگوار زندگی کا یہ ایک نیا زاویہ تھا۔ ورنہ ہماری سوچ ایک مخصوص دائرے سے باہر نہیں نکلتی۔اس نئے فارمولے نے گویا زندگی کا ایک نیا زاویہ دیا۔ اس زاویے سے یہ محسوس ہوا کہ جب ہم مسکراتے ہیں تو دراصل سامنے والا بھی مجبوراً ہی سہی، مسکرائے گا ضرور… ہم کھلکھلا کر ہنستے ہیں تو سامنے والا آپ کا ساتھ دے گا… گویا ہم کسی کو مسکرانے پر اور ہنسنے پر مجبور کرکے خوشی دیتے ہیں … خوشی دے کر ہم خود بھی خوشی دیکھتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ وقت گزار کر ہم اپنے بچپن میں لوٹ جاتے ہیں۔ بچپن کی خوشیاں کس کو یاد نہیں؟ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو رب تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوگی۔ صلہ رحمی رب تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ صلہ رحمی تو عمر میں اضافے کا باعث بنتی ہے. جب ہم رب تعالیٰ کی پسند کا کام کریں گے تو وہ ہمیں خوشیاں دے گا۔ ہم جوان، توانا اور خوش رہیں گے۔

افراتفری، بے سکونی اور بالخصوص کرونا کے دور میں ہر شخص کسی نہ کسی مسئلے میں الجھا ہوا ہے۔ ہماری سیاست نے ہی ہمیں ایک دوسرے سے اتنا دور کردیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگ گئے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ زندگی میں مشکلات، مسائل اور چیلنجز نہیں تو یہ مبالغہ ہوگا۔ زندگی چیلنجز، مسائل اور مشکلات سے بھری پڑی ہے۔ گوتم بدھ کا یہ کہنا کہ ''دنیا دکھوں کا گھر ہے'' کچھ غلط نہیں۔ شیکسپیئر کا یہ کہنا کہ غم ایک نہیں بلکہ کثیر تعداد میں آتے ہیں، سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر دنیا میں مسائل نہ ہوتے تو پیغمبر نہ بھیجے جاتے۔ آسمانی کتابیں نازل نہ کی جاتیں۔ تمام پیغمبروں نے اور آسمانی کتابوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی مینجمنٹ کا نام ہے، جو اس کو اچھا مینیج (Manage) کرگیا وہ کامیاب ٹھہرا۔ یہ کامیابی دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔ جوانی میں انسان زیادہ باہمت، توانا، پرجوش اور انتھک رہتا ہے اور ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹتا چلا جاتا ہے، وہ کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ اس کی نظریں آسمان کی بلندیوں تک چلی جاتی ہیں مگر جونہی وہ جسمانی طور پر کمزور ہونے لگتا ہے، شکست خوردگی اس کو دیمک کی طرح چاٹ کھاتی ہے۔ مایوسی اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے. ان حالات میں جناب اسامہ درانی کا نسخہ کامیاب ہوسکتا ہے۔

بقول غالب جب" قویٰ مضمحل" ہوجائیں تو ہم اپنی زندگی سے لفظ ''پرابلم'' اور ''بڑھاپا'' نکال دیں۔ پرابلم کی جگہ سیچوایشن (Situation)  اور چیلنج لے آئیں اور بڑھاپے کی جگہ تجربہ لے آئیں تو کامیابی یقینی ہے. لفظ ''پرابلم''ایک ایسا سیاہ سانپ ہے جو ہمیں ناامیدی کے دائرے میں بند کرکے صلاحیتوں کو نِگل جاتا ہے جبکہ چیلنج اور سیچوایشن سوچوں، حالات اور صلاحیتوں کو نیا زاویہ اور نئے رخ دیتا ہے۔ لفظ تجربہ انسان کو اس بات پر اکساتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا نچوڑ نئی نسل تک پہنچائے۔ یہی چیز انسان کو زندہ رکھتی ہے۔

ایک اور کام یہ کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں جذبات اور غصہ مینیج (Manage) کرنا سیکھ لیں۔ اس کے لئے شعوری کوشش کرنی پڑے گی. اگلا کام، اپنا ہاتھ دینے والا رکھیں، لینے کی اْمید صرف اللہ سے رکھیں۔ دینا صرف پیسے کا صدقہ نہیں … مسکرانا، دوستوں سے ملنا، رشتہ داروں سے اچھا سلوک، کسی کو اچھا مشورہ دینا، اچھا اخلاق، یہ سب صدقہ ہیں … ایک اور بڑا کامیاب نسخہ ہے جو ہم نہیں کرتے. اگر آپ شادی شدہ ہیں تو  اپنے زندگی کے ساتھی سے محبت کرنا شروع کر دیں... یعنی میاں بیوی کا شادی کے بعد ایک دوسرے سے محبت کرنا.  صرف زندگی نہ گزاریں، محبت میں زندگی گزارنا شروع کر دیں. ایک دوسرے کو تحفے دیں، ایک دوسرے کے لئے کوالٹی ٹائم نکالیں، یقین کریں راحت دل و جاں ملے گی.

اگر ہم یہ سب کرلیں تو ہماری زندگی میں امید کا سفر جاری رہے گا، خوشیوں کے جذبات امڈ کر آئیں گے، ہماری جوانی قائم رہے گی اور زندگی خوشگوار ہو جائے گی. 

مزید :

رائے -کالم -