زاہد بخاری اور سائل بابا

زاہد بخاری اور سائل بابا
زاہد بخاری اور سائل بابا

  



اخباری رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل آف پاکستان اور زاہد بخاری نے سپریم کورٹ میںزبان و کلام کے علاوہ اشارے بازی سے جج صاحبان کو مشتعل یا زچ کرنے کی کئی ناکام کوششیں کیں۔ وہ سیاق و سباق سے ہٹ کر حج صاحبان کو پٹڑی سے اُتارنے اور غصہ دلانے کے لئے سر توڑ کوشش کرتے رہے، لیکن شاید جج صاحبان حکومت کے رویے سے ولی ہو گئے ہیں، کیونکہ جب آپ کا کوئی ماتحت ، عزیز بھائی اور دوست مسلسل آپ کی عزت کے دعوے کرے اور چاپلوسی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے ، لیکن کہنا بھی کبھی نہ مانے اور آپ اختیار کے باوجود درگزر کریں، تو یہ ولایت کی نشانیوں میں سے ہے۔ ولی اللہ اپنے اندر انسانی محبت، کوتاہیوں سے درگزر، بُرائی سے نفرت، مگر بُرے سے پیار کرنے کا ہنر سیکھ لیتے ہیں۔ یوں ان سے کوئی ناراض نہیںہوتا اور اُن کی عزت چاروں طرف خوشبو کی طرح بغیر چینل اور اخبارات کی مدد کے پھیل جاتی ہے، جو کچھ لوگوں کو آدھے شہر کے لوگوں کو رشوت اور دوسرے فوائد دے کر حاصل نہیں ہو پاتی۔ یہ ازل سے خدا کا بنایا ہوا قانون ہے اور خدا کے پیروکار اس سے روگردانی نہیں کرتے ، لیکن خدا کے پیرو کاروں کے مخالفین کئی دُنیاوی دیوتاﺅں کے پجاری بن جانے کی وجہ سے اس روگردانی میں حکمت تلاش کرتے ہیں، لیکن حکمت تو حکیم کے پاس ہوتی ہے اور سب سے بڑا الحکیم و حاکم ہمیشہ سے خدا ہی رہا ہے۔

اصل میں زاہد بخاری صاحب کی حکمت اور حکمت عملی دیکھ کر مجھے ایک بابا جی کا واقعہ یاد آ گیا جن کا مقدمہ عدالت میں چل رہا تھا۔ یہ واقعہ مجھے زاہد بخاری صاحب کے ایک ہمزاد وکیل صاحب نے سنایا تھا کہ بعض اوقات ذہانت، علم و عقل اور وکالت پر فوک وزڈم، یعنی عوامی عقل غالب آ جاتی ہے۔ واقع کے مطابق بابا جی کے مقدمے کی بے شمار تاریخیں پڑ چکیں اور اُن کا وکیل حیلے بہانے سے مقدمے کو طول در طول دیتا گیا۔آخر ایک روز آخری بحث کا موقع آیا تو سائل بابا جی نے اندازہ کر لیا کہ اب وہ کیس ہار جائیں گے اور اُن کے وکیل کے پاس سوائے لفاظی کے کچھ نہیں۔ وہ پہلے اپنے وکیل کے پاس گئے اور پوچھا کہ تم تو کیس ہار رہے ہو، کیونکہ جج اور حالات کے تیور یہی بتا رہے ہیں۔ وکیل نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ مَیں نے کوشش اور تیاری تو بہت کی تھی، لیکن جج مخالف پارٹی سے ملا ہوا لگتا ہے۔ آخر سائل بابا نے کہا کہ تم کچھ کر سکتے ہو تو بتاﺅ، ورنہ مَیں ہی کچھ کروں۔ وکیل زچ ہو کر بولا کہ تم کیا کر سکتے ہو، جب مَیں ناکام نظر آتا ہوں، چنانچہ دروغ گردنِ راوی، سائل بابا مخالف وکیل کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اسے اشارے کنائے کرنے لگا۔ وکیل جب ناراض ہو کر اس کو دیکھتا تو وہ پیچھے ہٹ جاتا۔ آخر سائل بابے نے کوئی ایسی غلط حرکت کی کہ مخالف وکیل غصے میں آگیا اور بابا جی پر برس پڑا۔

 جج صاحب پہلے سے یہ غیر معمولی حرکت دیکھ رہے تھے، لیکن صبر کا مظاہرہ کر رہے تھے۔آخر جب مخالف وکیل نے زیادہ بدتمیزی کی تو جج صاحب نے کورٹ کا احترام یاد دلایا، جس پر وکیل صاحب نے مزید ناراض ہو کر کہا کہ اس بدتمیز بابا نے مجھے غلط حرکات سے پریشان کر رکھا ہے۔جج صاحب نے بابا سے پوچھا کہ کیا ماجرہ ہے، تو بابا جی معصومیت سے بولے کہ جناب مَیں تو اُن کی قابلیت کی داد دینا چاہتا تھا اور اُن کے احترام میں اُن کے پاس چلا آیا، لیکن یہ ہمیشہ ایسے ہی بدتمیزی کرتے ہیں۔ مَیں نے جب بھی اُس سے مشاورت کی کوشش کی، انہوں نے کیس مزید خراب کر دیا۔ اس پر وکیل صاحب مزید مشتعل ہو گئے اور بابا جی کو بے نقط سنائیں۔ جج صاحب نے معاملہ بگڑتا دیکھا تو مقدمے کی سماعت ملتوی کردی اور ساتھ ہی مخالف وکیل کو تنبیہ کی کہ وہ عدالت اور بزرگوں کا احترام کرے۔یوں سائل بابے کی شرارت اور تدبیر کار گر ثابت ہوئی جو اس کا عقل مند وکیل نہ کر سکا وہ اس نے اپنی بدتمیزی سے کر دکھایا۔

مجھے یقین تو نہیں، مگر شکر ہے کہ زاہد بخاری صاحب شاید اس بابے کے وکیل ہوں گے اور انہوں نے سالوں بعد عدالت کا پانسہ پلٹتے دیکھ کر سائل بابے کا نسخہ کیمیا استعمال کرنے کا سوچا ہو گا۔ دنیا داری میں اچھا ہی سوچا، کیونکہ محبت، جنگ اور سیاسی مفاد میں سب جائز ہے، جبکہ اس معاملے میں تو جنگ بھی شامل ہے اور سیاسی مفاد بھی، لیکن بُرا ہو بنچ کا کہ جس میں ایک جج نہیں تھا، کئی صاحب عقل و کردار جج شامل تھے،چنانچہ انہوں نے صبرو عقل کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا ورنہ زاہد بخاری صاحب بابے کی طرح کامیاب نظر آ رہے تھے۔

کہتے ہیں کہ ایک نوجوان کی شادی ہوئی تو اس نے دوستوں سے مشورہ کیا کہ پہلی رات ہی بیوی پر رعب جمانے کاکوئی نسخہ بتائیں۔ زاہد بخاری صاحب کے کسی محلے دار نے مشورہ دیا کہ دُلہن کے کمرے میں جانے سے پہلے ایک مریل سی بلی چھوڑ دینا۔ جب تم کمرے میں جاﺅ گے تو وہ میاﺅں میاﺅں کرے گی تم اُس کی گردن مروڑ کر مار دینا اور باہر پھینک دینا، اس سے تمہارا تمہاری بیوی پر رعب دبدبہ بیٹھ جائے گا۔ دولہا خوش ہوا۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو بلی تلاش کرنے لگا، جب کوئی آواز نہ آئی تو بیڈ کے نیچے ڈھونڈنے لگا۔ آخر دُلہن نے پوچھا آپ کیا تلاش کر رہے ہیں تو دولہا نے بتایا یہاں بلی تھی، دلہن فوراً بولی ہاں تھی، مَیں نے اُس کی گردن مروڑ کر مار دی اور باہر پھینک دی۔ یوں دولہا کی ترکیب بے کار گئی، کیونکہ دُلہن کی سہیلیوں نے دُلہن کو بھی اِس کہانی کے بارے میںبتا ر کھا تھا۔ ٭

مزید : کالم