نااہلی حکومت کی اورسزا قوم کو؟

نااہلی حکومت کی اورسزا قوم کو؟
نااہلی حکومت کی اورسزا قوم کو؟

  

 لاہور، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ سولہ گھنٹے ،جبکہ دیہات میں بائیس گھنٹے تک پہنچ گیا، گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے لوگ سڑکوں پر نکل آئے،ٹائر جلائے،توڑ پھوڑ کی اور حکومت کے خلاف شدیداحتجاج کیا،لوڈشیڈنگ سے سرکاری ہسپتال بھی محفوظ نہ رہے، کئی مریض آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ گئے، شدید گرمی کی وجہ سے کئی طلباءبے ہوش ہوگئے، کئی افراد جاں بحق ہوگئے، بدترین لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کے نرخ بڑھا دیئے گئے۔فلاں فلاں ماہ کے لئے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اتنا اضافہ کردیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ سرخیاں ہیں جو ہر روز اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں اور پیپلزپارٹی حکومت کی نااہلی، کرپشن اور پاکستانی قوم کے ساتھ چنگیز خان جیسے سلوک کی داستان اپنی زبان سے سنا رہی ہیں، لیکن آفرین ہے حکومت پر جوٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں اور ہر صورت میں پاکستانی قوم کو ناکردہ گناہوں کی سخت ترین سزا دینے پر تلی ہوئی ہے، جبکہ یہ اطلاعات لوگوں کے زخموں پر مزید نمک چھڑک دیتی ہیں کہ صدر یا وزیراعظم ملکی بحران کو نظر انداز کرکے خود غیر ملکی دورے پر روانہ ہوگئے۔

عوام کے ایک بہت بڑے حصے کو بڑی شدت سے یہ احساس ہوگیا ہے کہ اس نے کم از کم ایک سنگین جرم تو کیا ہے، گزشتہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے کا جرم....جس کی سزا آج انہیں سولہ سولہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، کراچی میں روزانہ درجنوں افراد کی ہلاکت، بلوچستان میں انارکی، تاریخ کی بدترین کرپشن، آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی، بجلی ، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بھاری اضافوں کی صورت میں مل رہی ہے۔کس قدر افسوس کیا جائے اس پر کہ صدر، وزیراعظم اور وزراءو مشیران اپنی اس کارکردگی پر فخر کرتے ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی کا شریک چیئرمین، جوبیرون ملک پُرتعیش زندگی گزار رہا ہے اور کبھی کبھارچھٹیاں منانے پاکستان آجاتا ہے، وہ باہر بیٹھا ہی روٹی کپڑے اور مکان کے نعرے لگائے جارہا ہے۔جس ملک میں لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ جیسے دیگر بڑے صنعتی شہروں میں سولہ سولہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہو،وہاں صنعتی شعبے کی بقاءکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

صنعتی یونٹس بطور ایندھن یا تو بجلی استعمال کرتے ہیں یا پھر گیس ،لیکن حکومت کی مہربانی اور طوطا چشمی کی بدولت یہ دونوں صنعتی شعبے کو نہ ہونے کے برابر میسر ہیں، جس کی وجہ سے پیداوار اپنی کم ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ بطور ایک صنعتکار مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ اس سے صرف صنعتی شعبے ہی نہیں، بلکہ ملک کو کس قدر بھاری نقصان پہنچ رہا ہے،جبکہ عوام کی حالت ہمیں خون کے آنسو رلا رہی ہے، کیونکہ اس کا حال ان مہاجرین سے قطعاً مختلف نہیں، جو 1947ءمیں لُٹے پُٹے پاکستان آئے تھے اور بے سروسامان اللہ تعالیٰ کے آسرے پر بیٹھے تھے۔تب بھی لوگ شدید مشکلات سے دوچار تھے اور چونسٹھ سال گزر جانے کے بعد آج اس سے بھی زیادہ سنگین حالات سے دوچار ہیں۔مریض تڑپ رہے ہیں، معصوم بچے بلک رہے ہیں، جنہیں دیکھ کر ان کی مائیں ایک ناقابل بیان کرب کا شکار ہیں،کاروبار زندگی عملی طور پر معطل ہے، لیکن روٹی،کپڑے، مکان اور سو دن کے اندر ملک کی تقدیر بدل دینے کے نعرے لگا کر برسرِ اقتدار آنے والی پیپلزپارٹی کی حکومت کو اس کی کوئی پروا نہیں اور وہ ہر قاعدے قانون کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے ، ملک و قوم کے مفادات کو اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا رہی ہے۔

پیپلزپارٹی سے ہمدردی رکھنے والے ایک صاحب نے میرا ایک کالم پڑھ کر مجھ سے پوچھا کہ اگر مسلم لیگ(ن) برسراقتدار ہوتی تو وہ موجودہ حالات میں کیا کرتی؟مَیں نے جواب دیا کہ اگر مسلم لیگ(ن) ہوتی تو آج ایسے حالات ہوتے ہی نہیں۔آپ مسلم لیگ(ن) کے گزشتہ ادوار حکومت پر نظردوڑالیں، تب اتنی بدترین لوڈشیڈنگ کا کوئی تصور نہیں تھا، اتنی مہنگائی نہیں تھی، دہشت گردی نہیں تھی،ڈرون حملے نہیں ہوتے تھے، غیر ملکی قوتیں ملک کی خود مختاری کا مذاق اُڑانے کی جرات نہیں کرتی تھیں،ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوتی تھی، بلوچستان میں انارکی نہیں تھی، صوبائیت اور تعصب نہیں تھا، کرپشن کا ناسور نہیں تھا، کمیشن کھانے اور عوام کا پیسہ لوٹنے کے لئے رینٹل پاور پلانٹس قوم پر مسلط نہیں کئے گئے تھے اور آج بھی ایسا کچھ نہ ہوتا ، اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت میں ہوتی۔

یہ میاں محمدنوازشریف ہی تھے، جنہوں نے عالمی دباﺅ اور لالچ کو نظر انداز کرکے ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستانی قوم کا سرفخر سے بلندکردیا، اگر اس وقت بھی پیپلزپارٹی برسراقتدار ہوتی تو ایٹمی دھماکے تو ہرگز نہ ہوتے، البتہ کئی لوگوں کے سوئس بینک اکاﺅنٹ مزید دولت سے ضرور لبریز ہوجاتے....چونکہ اس وقت بدترین لوڈشیڈنگ کا مسئلہ صنعتکاروں، تاجروں اور عوام کے لئے سوہانِ روح ہوا ہے، لہٰذا مَیں فی الوقت اسی کے حل کا ذکر کرتا ہوں۔بدترین لوڈشیڈنگ کی اگرچہ بہت سی وجوہات ہیں، لیکن ان میں سرفہرست ملک میں ڈیموں کی قلت، بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ فرنس آئل کے ذریعے پیدا کرنا، متعلقہ عملے کے تعاون سے بجلی کی وسیع پیمانے پر چوری اور حکومت کی بدترین کرپشن شامل ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے فوری حل کے لئے ضروری ہے کہ پاور یونٹس کو فرنس آئل اور گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے، کیونکہ اگر یہ یونٹس اپنی پوری استعدادکار کے مطابق کام کرنا شروع کردیں تو لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے کرپشن کا خاتمہ بہت ضروری ہے،جس کو فروغ دینے کے لئے موجودہ حکومت نے اپنی تمام توانائیاں صرف کررکھی ہیں۔ اس ناسور کی وجہ سے سینکڑوں میگاواٹ بجلی چوری ہورہی ہے،جس کا خمیازہ ساری قوم کو بھگتنا پڑرہا ہے۔

 ملک میں کالاباغ ڈیم سمیت مزید ڈیموں کی تعمیر اب زندگی موت کا مسئلہ بن چکی ہے، لیکن یہ حکومت دیگر شعبوں کی طرح اس شعبے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔دنیا بھر میں روایتی ذرائع سے ہٹ کر دیگر ذرائع یعنی کوئلے، ہوا اور سورج سے توانائی کے حصول کی جانب اب خاص توجہ دی جارہی ہے۔پاکستان کوئلے کی دولت سے مالامال ملک ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں 184ملین ٹن سے زائد کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔دنیا بھر میں کوئلے کے ذریعے توانائی کا حصول روز بروز فروغ پا رہا ہے ۔ تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق 2020ءتک دنیا بھر میں اس مد میں کوئلے کا استعمال سات ارب ٹن سے زائد ہو جائے گا، لیکن وسیع ذخائر ہونے کے باوجود پاکستان میں صرف ایک فیصد کے لگ بھگ بجلی کوئلے سے پیدا کی جارہی ہے اور زیادہ انحصار تیل کے ذریعے بجلی کی پیداوار پر ہے۔دو ٹن کوئلہ ایک ٹن تیل کے برابر توانائی پیدا کرتا ہے، لہٰذا کوئلے کے ذریعے بجلی حاصل کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جانے چاہئیں۔اسی طرح پاکستان میں سورج اور ہوا کے ذریعے بھی وافر بجلی حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن یہ سب کچھ کرے گا کون؟ پیپلزپارٹی حکومت تو کسی اور ہی ہدف کے تعاقب میںہے، جس کا قومی خوشحالی کے ساتھ دور دور کا کوئی واسطہ نہیں، لیکن مسلم لیگ(ن) ملک کی باگ ڈور ہاتھوں میں آنے کے بعدفوراً یہ اقدامات ضرور اٹھائے گی۔

ہمارا ماضی گواہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی ذاتی مفادات کو ترجیح نہیں دی۔اٹھارہ فروری کے قومی انتخابات کے بعد میاں نوازشریف نے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں پیپلزپارٹی کی حکومت سے تعاون کا فیصلہ کیا تھا،تاکہ ملک کو طویل آمریت کے بدترین اثرات سے باہر نکالا جا سکے۔ہمیں وزارتیں بھی مل رہی تھیں،پُرکشش عہدے بھی مل رہے تھے، میاں محمد نوازشریف کو ملک کی صدارت بھی پیش کی گئی، لیکن انہوں نے یہ دیکھتے ہوئے کہ پیپلزپارٹی ملک کی خدمت کرنے کے بجائے کچھ اور ہی ایجنڈا رکھتی ہے ،اقتدار کو ٹھوکر ماری اور قوم کے مفادات کے تحفظ کے لئے سینہ سپر ہو گئے۔اگر میاں صاحب ایسا نہ کرتے توپیپلزپارٹی اور اس کے اتحادی آج ملک کو بیچ کر کھا گئے ہوتے۔گو موجودہ حکومت کے دور اقتدار کے ساڑھے چار سال قوم پر بہت بھاری بن کر گزرے ہیں، لیکن مستقبل یقیناً روشن ہوگا، کیونکہ آئندہ پیپلزپارٹی کی حکومت بننے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔پیپلزپارٹی نے ہاتھوں سے جو گرہیں لگائی ہیں، انہیں وہ دانتوں سے بھی نہیں کھول سکتی۔عام لوگ تو ایک طرف، پیپلزپارٹی سے دیرینہ وابستگی رکھنے والے کارکنوں کی اکثریت بھی اپنی قیادت کی نااہلی اور ملک وعوام دشمن پالیسیوں سے نالاں ہے،جس کا ثبوت آئندہ قومی انتخابات میں مل جائے گا....[پرویز ملک مسلم لیگ(ن) لاہور کے صدر اور رکن قومی اسمبلی ہیں۔]  ٭

مزید :

کالم -