جمہوریت کی غلطیاں اور فوج کی نگرانیاں

جمہوریت کی غلطیاں اور فوج کی نگرانیاں
جمہوریت کی غلطیاں اور فوج کی نگرانیاں
کیپشن: nasira atique

  

کراچی ایئرپورٹ کی دہشت گردی نے فوج کو آپریشن کرنے پر مجبور کر دیا،اگر کسی جگہ دہشت گردی ہوتی ہے تو جس پارٹی کے پاس حکومت ہوتی ہے اُسے فوراً ذمہ دار افسران کو فارغ کرنا چاہئے، انکوائری ٹیمیں افسران کو فارغ کرنے کے بعد بنائی جاتی ہیں، یہ غلطیاں حکومت سے جب بار بار ہوتی ہیں تو مجبوراً سیاسی پارٹیاں میدان میں آتی ہیں اور اپنا اپنا رنگ جمانے کی کوشش کرتی ہیں مگر ملک کے رکھوالے باز کی آنکھ سے سب کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، ویسے تو جمہوریت برقرار رہے تو اچھا ہے مگر ہماری قوم کو جمہوریت راس نہیں آتی، حکمران حکومت چند ہاتھوں میں رکھتے ہیں، چند ہاتھوں میں حکومتیں دیرپا نہیں رہتیں، کراچی ایئرپورٹ دہشت گردی کے واقعہ نے پوری دنیا میں تھرتھلّی مچا دی حکومت کا آپریشن میں 6 ماہ انتظار کرنا دہشت گردوں کو پاکستان کے کونے کونے میں پھیلنے کا موقع دے گیا، جس سے ملکی سالمیت کو بھاری نقصان سے بچانے کے لئے فوج نے جلد آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے حکم پر وزیرستان میں آپریشن شروع ہو گیا، جنرل راحیل شریف وفادار سپاہی ہیں اور ملکی سالمیت کے لئے بہادری کا ایک انمول تحفہ بھی ہیں، جو سپاہی ہوتا ہے ساری فوج اس کے ساتھ ہوتی ہے، اس میں دوسری رائے نہیں کہ جنرل شریف ایک بہادر اور نڈر سپاہی ہیں، ویسے تو جنرل شریف نے امریکہ کے ساتھ مل کر وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف قدم اُٹھایا کیونکہ وزیرستان ایک ایسی خطرناک جگہ ہے جہاں پتھروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور دہشت گردوں نے وہاں پر اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں، ان کو مسمار کرنے کے لئے اور تباہ کرنے کے لئے بہتر فیصلہ کیا۔

شہادتوں کے بھی پھول مہک رہے ہیں مگر دہشت گردوں کا بھی خاتمہ ہو رہا ہے، خدا کا شکر ہے آج فوج کی مخالفت کرنے والے بھی ترانے گنگنا رہے ہیں یہ زمین اور یہ آسمان فوج کے ہمرکاب ہیں، ہر بشر فوج کے لئے دعائیں کر رہا ہے کہ خدا انہیں کامیاب کرے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے دہشت گردی ختم ہونے کے بعد اس ملک میں جمہوریت آئے گی، اگر آئے گی تو پھر کیسے سنبھال پائے گی، کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ ہماری قوم کو فوج ہی کنٹرول کر سکتی ہے، جمہوریت نہیں، ہر طرف شور ہے کہ منی مارشل لاءلگ چکا ہے۔ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور اپیل دائر کر دی گئی ہے ۔

 ہر بڑے ادارے پر فوج تعینات کر دی گئی ہے، بعض جگہ تو دہشت گردی کے حوالے سے فوج بھیجی گئی ہے مگر بعض جگہ جیسا کہ جیلوں پر فوج کا کیا کام یہ بات ذرا سوچنے والی ہے کہ کیا موجودہ حکومت بے بس ہو چکی ہے یا پھر ان کی مرضی شامل ہے، دہشت گردی کا خوف انسانیت کو لپیٹ رہا تھا اور دہشت گرد کہیں کہیں فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، ابھی کل کی بات ہے کہ لاہور کے اندر لال مسجد کا واقعہ ہونے سے بچا لیا گیا، ایک طرف لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا اس میں عمل دخل نہیں اور ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ سپاہی انہی کے تھے مگر میں یہ کہوں گی کہ اس واقعہ سے کسی دشمن نے فائدہ اٹھایا ہے، صوبہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان پہلے ہی دہشت گردی کی زد میں ہیں اور پنجاب کو بھی زخمی کر دیا گیا کیونکہ پنجاب میں ترقیاتی کام بھی ہو رہے ہیں اور امن بھی تھا، ظالموں نے ادھر بھی اپنے لوگ بھیج کر سکون برباد کر دیا، ہر کوئی خوف زدہ ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ فوج ہی آ جائے تو اچھا ہے۔

 ہمسایہ ممالک سے دوستی کرنا بھی ہمیں مہنگا پڑا، دشمن کبھی دوست نہیں ہوا کرتے دوست بن کر ہی ڈسنے کا طریقہ جانتے ہیں، کراچی اور لاہور میں بھی دوست دشمن نے وار کرائے، دیکھنا یہ ہے کہ حکومت لاہور کے واقعہ کو کس طرف لے جاتی ہے، میرے خیال میں تو اعلیٰ افسران اور جنہوں نے اِن کو حکم دیا سب سے پہلے اُنہیں فارغ کر دینا چاہئے، انہوں نے جو جوڈیشل کمیٹی بنائی ہے وہ فیصلہ کرنے میں کتنی دیر لگاتی ہے۔ ایسے واقعات انتظار نہیں مانگتے اور گر انتظار مانگتے ہیں تو اس سے پہلے ایف آئی آر نہیں کاٹتے وہ بھی جس جگہ واقعہ ہو اُنہی کے خلاف ، یہ شیر سپاہی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اپنے ملک میں ہی لڑ رہے ہیں، جمہوریت زندہ قوموں کی نشانی ہوتی ہے، مگر ہم زندہ قوم فوج کو لا کر بننے کی کوشش کرتے ہیں، پچھلے پانچ سال جس کرب سے عوام نے گزارے ہیں اب وہ سکھ کا سانس مانگتے ہیں مگر سیاسی پارٹیاں مل کر جمہوری حکومت کو کمزور اور ختم کرنا چاہتی ہیں، جمہوری حکومت سے جو غلطیاں ہو رہی ہیں اُنہیں اگر درست کر لے تو جمہوریت بھی قائم رہے گی اور فوج بھی جمہوری حکومت سے دور رہے گی کیونکہ جنرل شریف، سیاسی نہیں دفاعی سپاہی ہیں، اُنہیں ملک و سنبھالنا خوب آتا ہے۔

مزید :

کالم -