آپریشن المیزان سے آپریشن ضربِ عضب تک

آپریشن المیزان سے آپریشن ضربِ عضب تک
آپریشن المیزان سے آپریشن ضربِ عضب تک
کیپشن: m a zaheer

  

گماں گزرتا ہے کہ انتہا پسند جماعتوں اور جتھوں کی تحریک کے تتمے کا وقت آن پہنچا۔ وحشی منگول اور اجڈ تاتاری لاکھوں انسانوں کا خون بہانے اور پینے کے بعد فسانہ ہو گئے تھے،حالات و واقعات دلالت کرنے چلے ہیں کہ بعینہ تحریک طالبان کا خونریز اور سفاک عہد تمام ہوا۔

شمالی وزیرستان کی پر خطر گھاٹیوں اور دشوار گزار وادیوں میں پہلے آپریشن المیزان پھر آپریشن راہِ نجات ہوا اور اب بات آپریشن ضرب ِعضب تک آن پہنچی۔ دہشت گرد نسل ہا نسل سے یہاں بستے چلے آتے ہیں، وہ یہاں زیر ِزمین خندقیں اور پہاڑوں میں سرنگیں کھود چکے اور اسلحہ کے بے پناہ ذخائر کے ساتھ صبح سے شام کیا کئے۔ المیزان سے ضربِ عضب تک ایک طول و طویل تاریخ ہے.... مذاکرات، سفارت، عسکریت اور ثالثیت۔ کیا کچھ نہیں کیا گیا اور کیا کیا نہیں آزمایا گیا ؟ ہر حکومت نے سو سو طرح کے جتن کئے ،روا اور نارواشرائط تسلیم کی گئیں ،وقت بے وقت لمبی لمبی داڑھیوں اور بھاری بھاری پگڑیوںوالے قبائلی عمائدین تک جرگے میں بٹھائے گئے کہ گھر کی بات گھر میں رہے اور معاملہ سدھر جائے ۔دہشت گردوں کے ایسے ایسے ناز نخرے اٹھائے گئے اور ایسے ایسے پاپڑ بیلے گئے کہ بس توبہ ہی بھلی :

 تمہارے ناز کسی اور سے تو کیا اٹھتے

خطا معاف یہ پاپڑ ہمیں نے بیلے ہیں

پاک فوج اور عوام نے بھی کمال استقامت کا مظاہرہ کیا ،حد سے زیادہ اور بساط سے بڑھ کر سنگدلانہ اور سفاکانہ کارروائیاں برداشت کیں مگر دہشت گردوں کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہا ،وہ لہو پیتے اور لہو رلاتے رہے ۔ تکلف برطرف! حکومت اور طالبان دونوں فریقوں کے پاو¿ں الٹے تھے ،سو چلتے رہے، مگر منزل نہیں ملی ،کوئی دوا کار گر نہ ہوئی ،کوئی تدبیر کامیابی سے ہمکنار نہ ہوئی اور عراق سے آئے تریاق نے بھی کام نہ کیا تاآنکہ ضربِ عضب کا نقارہ پھونکا گیا۔ ایک محتاط رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو لگ بھگ 80ملین ڈالر کانقصان ہوا ،10لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے اور 60ہزارلوگ شہید ہوئے، تو صاحب ایسے میں حکومت او رحکام کے پاس دہشت گردی کے خلاف طاقت کا آپشن استعمال کرنے کے سوا کوئی اور راستہ کیا تھا ؟ کہا جاتا ہے کہ حالیہ آپریشن ماضی کے بقیہ آپریشنوں سے مختلف ہے ،عسکری حکمت ِ عملی بھی اب کے بار جدا ہے ۔پہلے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو آبادیوں سے دور ہیں ۔ان علاقوں کو صاف کرنے کے بعد دہشت گردوں کے مراکز اور مخرج ہدف ہوں گے۔

سرحد سیل نہ ہونے کے باعث دہشت گرد افغانستان نکلنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔دہشت گردوں کی ایک چال یہ ہے کہ وہ سرکاری عمارتوں بالخصوص سکولوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں ۔شمالی وزیرستان میں زیادہ تر دہشت گردوںکا تعلق ازبکستان سے ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ خان سجنا اور شہر یار گروپ میں بھی لڑائی جاری ہے۔ درونِ خانہ کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ لوگ حکومت اور فوج کی خاص نظر میں ہیں جو فضل ا للہ مخالف گروپ میں شامل ہیں، ان کے ساتھ نرمی برتی جائے گی۔ اس معاملے کی توجیہہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایسا کرنے سے آپریشن کی وسعت سمٹ جائے گی۔حکمت ِ عملی میں تین پہلو نمایاں ہیں :آپریشن میں ہدف گروہوں کو الگ کرنا ،عسکری کارروائی کے لئے سیاسی حمایت حاصل کرنااور آپریشن کے ردِعمل میں شہروں کو محفوظ بنانا ہے۔

بنی گالہ میں عمران خان سے دو ماہ قبل ہونے والی میاں نواز شریف کی ملاقات اسی سلسلے کی کڑی تھی ۔اسی لئے خان صاحب نے بادلِ نخواستہ اور طوعاً وکرھاً یہ کہتے ہوئے حمایت کی کہ اب آپریشن شروع ہو گیا ہے سو اس کی حمایت کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ رازداری سے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے ضمن میں خواجہ سعد رفیق ،احسن اقبال اور عرفان صدیقی نے بھی سرتوڑ سعی کی۔دہشت گردی کا شجر یا پیڑ جڑ سے اکھاڑنے میں تو خیر کچھ عرصہ لگے گا۔البتہ عسکری محاذپر ان کے متداول منہج میں چیلنج کا جواب دیا جانے لگا ہے۔ طالبان کو ان کے سکوں میں ادائیگی ہو گی، تو قرض چکایا جائے گا، قرض چکے گا تو معاملہ چکتا ہو گا۔ سیاسی اور عسکری میدان میں تو پیشرفت ہو چکی البتہ نظریاتی محاذ پر سست روی کی پرچھائیاں پڑی ہیں۔ دانشوروں ،صحافیوں ،تعلیمی اداروں کے اتالیقوں اور علمائے حق کے منبر و محراب سے اب صحت مند اور تندرست وتواناآوازیں بھی دہشت گردی کے خلاف اٹھنی چاہئیںاور تکرار کے ساتھ اٹھنی چاہئیں ۔

وقت آ گیا ہے عوام حکومت اور فوج کی پشت پر کھڑی ہو جائیںکہ کشت وخون کے آگے بند باندھا جائے ،آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے رجعت پسندی کے آگے سدِسکندری کھڑی کی جائے۔جن کا حکم چلتا اور کہا کبھی نہیں ٹلتا وہ جاگ گئے ہیں (یہ الگ بات کہ دیر سے جاگے ہیں )اور جانتے ہیں کہ دہشت گردی کا عفریت ریاست اور سماج کو رفتہ رفتہ نگلنے چلا تھا اور اب اس ناسور کو نشتر سے ہی چیرنا ہو گا۔ خوشی ہے۔ خوشی سی خوشی ہے ؟کہ وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں یہ عزم ِصمیم کہ آ خری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی ،میجر جنرل عاصم باجوہ کا فرمانا کہ پاک فوج اس آپریشن میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ ےہ بہت سے دکھی دلوں پر مرہم سی رکھ گیا، بہت سی امیدیں قائم کر گیا اور دہشت گردی کی دھوپ میں برہنہ پا پڑے عوام کو یقین سا دلا گیا کہ بربریت اور وحشت کی دوپہرختم ہونے کو آئی ہے۔گماں گزرتا ہے کہ انتہا پسند جماعتوں اور جتھوں کی تحریک کے تتمے کا وقت آن پہنچا ۔وحشی منگول اور اجڈتاتاری لاکھوں انسانوں کا خون بہانے اور پینے کے بعد فسانہ ہو گئے تھے،حالات و واقعات دلالت کرنے چلے ہیں کہ بعینہ تحریک طالبان کا خون ریز اور سفاک عہد تمام ہوا۔

مزید :

کالم -