نواب مری کی سوچ نے بلوچ قوم پرست سیاست کو دو حصوں میں منقسم کردیا

نواب مری کی سوچ نے بلوچ قوم پرست سیاست کو دو حصوں میں منقسم کردیا
نواب مری کی سوچ نے بلوچ قوم پرست سیاست کو دو حصوں میں منقسم کردیا
کیپشن: chiragh afridam

  

بلوچستان کی سیاست میں بعض شخصیات کے اثرات بڑے گہرے پڑے ہیں اس حوالے سے بلوچ قوم پرست سوچ پر اثرانداز ہونے والی شخصیات میں غوث بخش بزنجو، نواب اکبر خان بگٹی، نواب خیر بخش مری، سردارعطاءاللہ خان مینگل سب سے نمایاں رہے ہیں۔ پشتون سیاست میں سب سے اہم کردار عبدالصمد خان شہید کا رہا ہے۔ ان سب کا سیاسی سفر 1954 سے شروع ہوا اور ان کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کرنے کا سب سے اہم سبب ون یونٹ کی تخلیق تھا اور یہ سیاسی شخصیات نظریات کے حوالے سے مختلف سمتوں میں سفر کررہی تھیں تضادات کا ٹکراﺅ ان کے اندر موجود تھا آپ جب نیشنل عوامی پارٹی کی ساخت اور اس میں شامل سیاسی قائدین کا تجزیہ کریں گے تو اندرونی اختلاف بڑے کھل کر سامنے آجائیں گے نیپ دراصل سیکولر ازم‘ نیشنلزم‘سوشلزم‘ شاﺅنزم کا مجموعہ تھی ان میں ٹکراﺅ موجود تھا۔ نظریات اور طبقاتی تصادم اندرونی سطح پر موجود تھا کشمکش موجود تھی مگر ون یونٹ کے جبر نے ان کو متحد رکھا تھا اس لئے یہ سب ون یونٹ کی چھتری کی وجہ سے متحد نظر آرہے تھے مگر حقیقت میں ان کے اندر تضاد اور کھچاﺅ موجود تھا سیاسی لاوا اندر موجود تھا اور مستقبل میں کسی وقت بھی اس کے پھٹنے کا احتمال موجود تھا اور وہ لمحہ جنرل یحیٰی خان نے فراہم کردیا۔ 1969ءکو ایک فوجی آرڈر کے ذریعے ون یونٹ کو ختم کردیا گیا اور نیپ کے اندر چھپے ہوئے تمام تضادات ابھر کر سیاسی سطح پر نمودار ہوگئے۔

قارئین محترم! اس کے بعد کیاہوا اس کو فی الحال صرف نظر کرتے ہوئے اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں نیپ میں تمام بلوچ سردار صاحبان شامل تھے اور نیپ میں پارلیمانی سوچ کے سب سے بڑے علمبردار غوث بخش بزنجوتھے اور یہ سردار صاحبان غوث بخش مرحوم کے فلسفہ سیاست سے متاثر تھے اندرونی سطح پر سردارصاحبان اور میر صاحب کے درمیان ایک سرد جنگ موجود تھی ایک اور جنگ نوابوں سرداروں اورقلات کے حکمران خان کے درمیان بھی موجود تھی برطانوی سامراج نے خان آف قلات کے اثرات کوختم کرنے کے لئے شاہی جرگہ تشکیل دیا یوں خان کے مقابل پر بلوچ سرداروں اور نوابوں کو منظم کیا۔ دوسری طرف سوشلسٹ لابی نے ان سرداروں اور خان قلات میں ایک اور کشمکش کو جنم دیا وہ یہ تھی کہ خان کے نظام کو درہم برہم کیا جائے تاکہ بلوچ وحدت کو پارہ پارہ کردیا جائے اس کے بعد سوشلسٹ لابی نے بلوچ نوجوانوں کو نوابوں اور سرداروں کے خلاف استعمال کیا اور بی ایس او کے نوجوان جلسوں جلوسوں میں سرداری نظام کے خلاف فلک شگاف نعرے لگاتے تھے۔

 بلوچ قوم پرست سیاست اس کشمکش اور تضادات کے سائے میں اپنا سیاسی سفر شروع کررہی تھی تینوں طاقتور نواب سرداربہت زیادہ اثر اور قوت رکھتے تھے لارڈ رابرٹ سنڈیمن نے ان سرداروں کو عدالتی اختیارات کے ذریعے دو آتشہ کردیا تھا اور یہ مزید طاقتور ہوگئے اور جب یہ نیپ میں شامل ہوگئے تو انہیں سیاسی قوت بھی حاصل ہوگئی ان سرداروں کی سوچ میں سیاست نے بہت کچھ بدل دیا اور بہت کچھ سیکھ بھی لیا میر غوث بخش بزنجو مرحوم کی سیاست نے ان سرداروں کو قبائلیت سے نکال کر سیاست کے دھارے میں داخل کردیا۔ مگر یہ ایک خاص طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اس لئے اس سے دور نہیں جاسکے۔ ذہنی طور پر ممکن ہے کہ یہ سیکولر ہوں مارکسٹ ہوں لیکن عملی طور پر جب بھی انتخابات کا مرحلہ آیا تو ان کی نگاہ اپنے بیٹوں بھائیوں اور قریبی عزیزوں پر پڑی۔ انتخابات کے مرحلے میں یہ تمام اپنے (Class) طبقہ کی طرف لوٹے وہ عملی طور پر اسی دائرے میں گھومتے رہے یہ تضادات ان کی عملی زندگی میں مسلسل موجود رہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک مرحلہ ایسا آیا کہ یہ سب اپنے سیاسی استاد میر غوث بخش بزنجو کے سامنے کھڑے ہوگئے اور انتخابات میں شکست سے دوچار کردیا۔ یہ ایک علیحدہ داستان ہے جس کے باب سیاست کے سینے میں محفوظ ہیں!۔

قارئین محترم:۔ نواب خیر بخش خان مری کی سیاست کا سفر پارلیمانی سیاست سے شروع ہوا اور اس کااختتام بالکل مختلف سمت میں تھا جب وہ پارلیمانی سیاست میں تھے تو انہوں نے اس کے تمام لوازمات ایک بااصول سیاستدان کے پورے کئے۔ انہوں نے اپنی پارلیمانی سیاست کا آغاز انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ 1956ءکا جب دستور نافذ ہوا تو اس کے تحت پہلے پارلیمانی انتخابات ہوئے اس انتخابات میں نواب خیربخش مری نے حصہ لیا اور صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے انہوں نے یہ نشست ضلع سبی سے جیتی اور سردار عطاءاللہ مینگل نے اپنی نشست ضلع قلات سے جیتی نواب مری اور سردار عطاءاللہ مینگل نے 1956ءکے دستور کے تحت حلف اٹھایا اس کے بعد ایوب خان نے مارشل لاءلگادیاپھر ایوب خان اور مس فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات میں نواب مری اورنواب بگٹی نے بھرپور حصہ لیا ان دونوں نے کراچی میں مس فاطمہ جناح سے ملاقاتیں بھی کیں۔

 یہ انتخابات ایوب خان کے نافذ کردہ دستور کے تحت ہورہے تھے بی ڈی ممبران کو حق ووٹ حاصل تھا عام لوگوں کو حق رائے دہی حاصل نہ تھا اس کے بعد نواب خیر بخش مری نے 1962ءکے انتخابات میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے نافذ کردہ دستور کے تحت حصہ لیا اور کامیاب ہوگئے اس کے بعد نواب مری نے 1970ءکے انتخابات مےں قومی اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں حاصل کیں نواب مری کوئٹہ NW-36 سے منتخب ہوئے اور قلات 38 سے میر غوث بخش بزنجو اور قلات 37 سے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ منتخب ہوئے۔ 1970ءکے انتخابات کسی آئین کے تحت نہ تھے بلکہ جنرل یحیٰی خان کے آئینی فارمولہ کے تحت ہوئے اور اس میں نیپ کی تمام لیڈر شپ نے حصہ لیا اور پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ اس فارمولے کے تحت مشرقی پاکستان کو 162 عام نشستیں دی گئیں اور 7 خواتین کی نشستیں دی گئیں باقی پنجاب (3+82) سندھ (1+27) بلوچستان (1+4) شمال مغربی سرحدی صوبہ (1+18) اور مرکزی انتظام میں قبائلی علاقے 7 نشستیں تھیں مشرقی پاکستان کی کل قومی اسمبلی میں نشستیں 169تھیں اور مغربی پاکستان کی کل نشستیں 131 تھیں پنجاب کا مقتدر طبقہ اس انتخاب کے نتائج سے خوف زدہ ہوگیا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں معاون ہوگیا۔

قارئین محترم:۔ 1970ءکے انتخابات کے نتائج نے بلوچ قوم پرست سیاستدانوں کو خوف زدہ کردیا نواب خیر بخش مری کی سوچ میں تبدیلی کا عنصر اس مرحلے میں داخل ہوگیا اور ان کی سوچ تبدیل ہونا شروع ہوگئی نواب مری نے بھٹو کے نافذ کردہ عبوری آئین کے تحت بلوچستان اسمبلی میں حلف اٹھالیا اور انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست خالی کردی بعدمیں یہ نشست پیپلزپارٹی نے دھاندلی سے تاج محمد جمالی کو دلادی اس نشست پر نوابزادہ سلیم اکبر بگٹی انتخاب لڑرہے تھے۔

قارئین محترم:۔ بھٹو نے آئین بنانے کے لئے تمام پارلیمانی لیڈروں پر مشتمل کمیٹی بنائی یوں 1973ءکا دستور 14 اگست 1973ءکو نافذ ہوگیا اور تمام ممبران پارلیمنٹ نے دوبارہ حلف اٹھالیا نیپ کے لیڈروں میں بلوچستان سے غوث بخش بزنجو ‘ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ‘ جینیفر موسی نے 1973ءکے آئین کے تحت حلف اٹھالیا بلوچستان اسمبلی بھٹو نے فروری 1973ءمیں توڑ دی اور بعد میں نیپ کے لیڈروں کو گرفتار کرلیا گیا یوں ایک نئی کشمکش شروع ہوگئی۔

بھٹو نے نیپ پر سازش کا مقدمہ قائم کیا حیدر آباد جیل میں نیپ پر مقدمات چلے جنرل ضیاءالحق نے اقتدر پر قبضہ کرلیا اور نیپ کے تمام لیڈروں کو رہا کردیا۔ حیدر آباد جیل نے نواب خیر بخش خان مری اور نیپ کے قائدین کے درمیان انمٹ خلیج حائل کردی اور نواب خیر بخش مری کے راستے جدا ہوگئے اور جیل یاترا نے انہیں پارلیمانی سیاست کی منافقانہ روش سے اتنا بدظن کردیا کہ انہوں نے اس سیاست سے کنارہ کشی اختیارکرلی جنرل ضیاءالحق کے دور میں وہ امریکہ، برطانیہ، فرانس گئے اور پھر وہ افغانستان چلے گئے افغانستان پر مارکسسٹوں کا اقتدار تھا اس لئے نواب صاحب پارلیمانی سیاست سے مزاحمتی سیاست کی طرف لوٹ گئے اور وہ بلوچ پارلیمانی سیاست سے متنفر ہوگئے اور اس قوم پرست پارلیمانی سیاست پر انہوں نے اپنے انٹرویو میں کھل کر تنقید کی اور حملہ آور ہوئے نواب خیر بخش مری مرحوم ان بلوچ قوم پرست پارلیمانی پارٹیوں اور لیڈروں کے خلاف محاذ آراءہوگئے جو بلوچوں کو پارلیمنٹ کی راہ دکھلا رہے تھے۔ اور بلوچ نوجوان نواب مری کی سوچ سے متاثر ہوگئے اور پارلیمانی سیاست سے علیحدہ ہوگئے یوں نواب مری کی اس سوچ نے بلوچ قوم پرست سیاست کو دو حصوں میں منقسم کردیا ہے اب بلوچ قوم پرست دو دھاروں میں ریل کی پٹری کی طرح ساتھ ساتھ چل رہے ہیں مگر قریب ہونے کے باوجود آپس میں نہیں مل سکتے اور راستے ریل کی پٹری کی طرح جدا ہوگئے ہیں اور ا یک دوسرے کو خوف زدہ نگاہوں سے دیکھ بھی رہے ہیں یہ خوف کہ کون کس کو ہڑپ کرتا ہے۔

مزید :

کالم -