شمالی وزیرستان کے متاثرین کی دیکھ بھال

شمالی وزیرستان کے متاثرین کی دیکھ بھال

  

شمالی وزیرستان میں پاک فوج نے چار روز کے بھرپور آپریشن کے بعد دہشت گردوں کے 60فیصد سے زائد ٹھکانے تباہ کر دیئے ہیںاور ان سے 40فیصد سے زائد علاقہ کلیئر کرا لیا ہے۔ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ جرمن نژاد ابو عبدالرحمن مانی سمیت 18 ازبک اور8 چیچن دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ دہشت گردوں کو سرنڈر کے لئے 60گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے۔ پاک فوج نے دتہ خیل،مکیل، طور خیل اور میرانشاہ کو مکمل طور پر اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ دہشت گردوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے سرنڈر نہ کیا تو انہیں کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فوجی حکام کے مطابق عام شہریوں کا انخلاءمکمل ہو گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے ایجنسی میں تمام سرحدی علاقوں کا چارج بھی سنبھال لیا ہے اور پوسٹیں قائم کر لی ہیں۔ ماموند قبائل نے فوج کی کامیابی پر زبردست جشن منایا ہے اور فورسز کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں تمام تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیئے گئے ہیں۔ معمول کے مطابق موسم گرما کی چھٹیاں 30جون سے ہونا تھیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں 30 روز کے لئے دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے۔ وزیرستان سے ملنے والی افغانستان کی سرحد سیل کر دی گئی ہے۔ سیکرٹری داخلہ بلوچستان کے مطابق وزیرستان کے متاثرین کی رجسٹریشن ژوب اور شیرانی میں کی جائے گی، جبکہ تمام اہم تنصیبات پر ایف سی تعینات کردی گئی ہے۔ شمالی وزیرستان کے علاقوں میں کرفیو کی نرمی کے بعد 30 ہزار کے قریب متاثرین میرالی قصبہ سے پناہ کے لئے بنوں پہنچ گئے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے والے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ اب تک کل 92ہزار کے قریب افراد شمالی وزیرستان سے پناہ کے لئے مختلف دوسرے علاقوں میں آ چکے ہیں۔ ان سے زیادہ تر خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پہنچے ہیں۔ ان افراد کی رہائش اور خوراک کے انتظام کے لئے مختلف مقامات پر ان کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔

دنیا بھر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی بناءپر خطرناک ترین علاقہ قرار دیئے گئے شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی کارروائی اور کارکردگی انتہائی اہم اور اس کی کامیابیاں قابل رشک ہیں۔ یہ سب کچھ ان حالات میں ہو رہا ہے، جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے ماڈل ٹاﺅن لاہور میں ایک کارروائی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب اس واقعہ پر انتہائی دُکھ کا اظہار کر چکے ہیں اور ذمہ دار پولیس افسروں اور دوسرے اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف اس بڑے آپریشن کے باوجود ملک میں سیاسی احتجاج اور سیاسی تناﺅ کا عمل جاری ہے۔ تاہم یہ غنیمت ہے کہ ایک آدھ غیر اہم جماعت کے علاوہ ملک کی تمام سیاسی اور دینی جماعتیں اس آپریشن میں افواج پاکستان کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دِلا چکی ہیں اور ان کی قیادت اس سلسلے میں یکسو نظر آ رہی ہے۔ قوم کو منتشر اور مایوس کرنے اور بعض طاقتوں کی طرف سے اس کے تعمیر و ترقی کے تمام کاموں میں لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانیوں کے ذریعے رکاوٹ ڈالنے اور قوم کو مایوس کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود مجموعی طور پر قوم کا اپنی سلامتی اور دفاع کے لئے عزم بے مثل ہے، جن لوگوں نے عوامی تائید و حمایت سے محروم ہونے اور لوگوں کی طرف سے خود کو مسترد کرنے کا انتقام دہشت گردوں کی سرپرستی اور تائید و حمایت کے ذریعے لینے کا پروگرام بنایا تھا، ان کے یہ پروگرام بھی خاک میں مل گئے،جن طاقتوں نے عوام کو ہر طرف سے مایوسیوں سے دوچار کر کے بے دل کرنا چاہا وہ بھی عوامی عزم کے سامنے شرمندہ ہوئے۔ پاک فوج پر مختلف طرح سے اعتراضات کرنے اور بیرونی طاقتوں کے اشارے پر اسے بدنام کرنے کی ذمہ داری اٹھانے والوں کو بھی مُنہ کی کھانی پڑی ہے۔ اس وقت دہشت گردی کی اس فیصلہ کن جنگ میں پاک فوج تیزی کے ساتھ اپنے اہداف حاصل کر رہی ہے۔

شمالی وزیرستان کے علاقوں سے متاثرین جنگ، جس بڑی تعداد میں صوبہ خیبر پختونخوا اور دوسرے علاقوں میں پہنچے ہیں ان کی دیکھ بھال حکومت کے علاوہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ ایسے افراد کو رجسٹر کرنے کے بعد خیمہ بستیوں میں عارضی طور پر آباد کیا جاتا ہے، حکومت کی طرف سے اتنے فنڈز مہیا کئے جاتے ہیں کہ اگر ان کی درست اورمنظم طریقے سے تقسیم ہو تو ایسے متاثرہ خاندانوں کو ان خیمہ بستیوں میں کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑ سکتا، لیکن ہمارے شمالی وزیرستان کے متاثرین کا معاملہ بے حد اہم اور حساس ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے سالہا سال تک دہشت گردوں کے جبر کے تحت زندگی بسر کی ہے۔ انہیں دہشت گردوں کی سرگرمیوں کی تائید و حمایت پر بھی مجبور کیا جاتا رہا، اس آپریشن سے پہلے دہشت گردوں کی بعض تنظیموں کی طرف سے ان متاثرین کو وزیرستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں چلے جانے کو کہا جاتا رہا ہے، تاکہ ان کی وہاں خیمہ بستیاں قائم کرکے یہ بتایا جا سکتا کہ یہ لوگ ظلم وستم کا شکار ہو کر یہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں، لیکن ان کی بھاری اکثریت نے افغانستان کے بجائے پاکستان میں آنا پسند کیا۔ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے، جنہوں نے آپریشن کے فوراً بعد دہشت گردوں کے خوف سے آزاد ہو کر اپنے گھروں پر دوبارہ پاکستان کا جھنڈا لہرایا، فوج کے آنے پر جشن منایا۔ تاہم ان میں وہ گھرانے بھی ہو سکتے ہیں، جن کے نوجوانوں کو بہلا پھسلا کر دہشت گرد اپنے ساتھ لے گئے یا جو اپنی سادگی میں مذہب کے نام پر دہشت گردوں کے ہتھے چڑھے رہے۔ تاہم وزیرستان کے متاثرین جنگ اپنے ہی وطن کے لوگ ہیں ،جو اپنے ہی لوگوںکے درمیان پہنچے ہیں۔ ان کی رجسٹریشن اور خیمہ بستیوں میں عارضی آبادکاری کے سلسلے میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

(1) گرمیوں کے سخت موسم میں اچھے موسم سے آئے ہوئے لوگوں کو موسم کی سختی سے محفوظ رکھنے اور ان کے اپنے علاقوں جیسے موسم والے علاقے میں رہائس دینے کا پورا خیال رکھا جائے۔ (2)ایک محلے،ایک گاﺅں اور ایک کنبے کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کے قریب رہائش دینے کی کوشش کی جائے۔ (3) مجبوری کی صورت میں بہت سے لوگ اپنے مقامی رشتہ داروں کے گھروں میں جا نے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کے بعد ان کی رجسٹریشن ہو سکتی ہے نہ انہیں مناسب سہولتیں مل سکتی ہیں۔ اس لئے ان کے آنے سے پہلے ان کے لئے خیموں اور تمام ضروری سہولتوں کا انتظام کیا جانا چاہئے۔(4) امدادی اداروں کے لوگوں کی طرف سے متاثرین کے خیموں کے معائنے کے بہانے بار بار آنے والے افسروں اور سرکاری کارندوں کا اس طرح سے تانتا بندھ جاتا ہے کہ باپردہ اور غیور لوگ اپنے خیموں میں رہتے ہوئے اپنے خاندان اور خواتین کو گلی میں بیٹھے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ اشیائے ضرورت کی سپلائی اور دوسرے معاملات میں متاثرین سے رابطہ کرنے والوں کو ہر خاندان کے افراد کو رجسٹر کرنے کے بعد ان کے سربراہ کو ایک خصوصی کارڈ جاری کرنا چاہئے اور پھر ہر معاملے میں خاندان کے اس سربراہ ہی سے رابطہ قائم کرنا مناسب ہے۔ دوسری صورت میں خاندان کے بالغ مردوں سے رابطے کی اجازت ہونی چاہئے۔ اس سے ان لوگوں کی عزت نفس محفوظ ہوگی اور وہ اپنے وطن میں اپنے لوگوں میں موجود ہونے کا احساس کریں گے۔(5) ان متاثرہ خاندانوں سے اچھے سلوک اور ان کو تمام اشیائے ضرورت کی بہتر سپلائی اور علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کی طرف سے ان کے علاقے میں کئے جانے والے آپریشن کے سلسلے میں ان کی مکمل تائید و حمایت حاصل کر سکیں گے۔ (6) اس کے ساتھ ہی ساتھ اگر فاضل اور جید علماءکی طرف سے ان بستیوں میں پنجگانہ نماز کے ساتھ واعظ کا انتظام کرکے ان کے اذہان میں دہشت گردی اور جہاد کا فرق واضح کر دیا جائے اور انہیں خودکشی کے بدترین گناہ ہونے کا یقین دِلا دیا جائے گا، پاکستان میں رائج جمہوری نظام کے فیوض و برکات اور عوام کے خود اپنی حکومت منتخب کرنے کے عمل سے ہر طرح کے فساد سے محفو ظ رہنے کی خوبیوں سے آگاہ کر دیا جائے، تو ان کے اذہان جمہوری نظام اور پاکستان کی اسلامی اور ایٹمی طاقت کے متعلق واضح ہو جائیں گے۔ اس طرح یہاں قیام کے دوران خود سے ہونے والے بہترین سلوک کے ساتھ ساتھ ایک طرح یہ لوگ ریفریشر کورس کر رہے ہوں گے، ایسا کورس جو کہ ان کے اذہان و قلوب کو پاکستان اور اسلام کی سچی محبت سے بھر دے گا۔ اس کے بعد ایک دو ماہ کے بعد جب وہ اپنے علاقوں میں واپس جائیں گے، تو اس وقت تک ان کے علاقے جسمانی و ذہنی ہر دو لحاظ سے ہر طرح کی دہشت گردی سے پاک ہو جائیں گے اور کسی دہشت گرد کو آئندہ شمالی وزیرستان کا رخ کرنے کی جرا¿ت نہیں ہو گی۔

فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ ان لوگوں سے بہتر حالات میں موثر ترین ابلاغ کے ذریعے ان کے مسخ خیالات میں روشن ضمیری پیدا کر کے ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی سمت میں ایک فکری انقلاب لانا سب سے اہم معاملہ ہے، جس پر حکام ، فوج اور پوری قوم کو توجہ دینی چاہئے۔ بجائے اس کے کہ دہشت گرد اپنے خاندانوں کو خیمہ بستیوں میں بھجوا کر بے فکر ہوکر ملک کے دوسرے حصوں میں پھیل جائیں اور اپنی کارروائیاں جاری رکھیں، کم از کم ان کے خاندانوں کے جو معصوم بچے، خواتین اور بزرگ رابطے میں آتے ہیں ان کے اذہان میں انقلاب لانا بے حد ضروری ہے۔ دہشت گردوں نے اسی صورت حال کے ڈر سے اپنے علاقے کے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں جانے کے بجائے فوجی آپریشن کے وقت افغانستان میں جائیں تاکہ وہاں ”را“ اور دوسری پاکستان دشمن طاقتوں کے کیمپوں میں ان کے ذہن میں پاکستان کے خلاف زہر بھر کر انہیں عالمی طاقتوں کو بھی پاک فوج کے مظالم کے شکار کے طور پر دکھایا جائے اور مناسب وقت پر واپس بھیج کر دہشت گردی کے ان کاموں کو جاری رکھنے میں ان کی معاونت حاصل کی جائے۔ پاکستان دشمنوں کے بجائے پاکستان کے یہ لوگ اگر اپنے پاکستانی مسلمان بھائیوں کے پاس آئے ہیں، تو ان کے ساتھ بہترین سلوک کے علاوہ ان کے بچوں اور جوانوں اور بزرگوں کی تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام بھی ہونا ضروری ہے۔

مزید :

اداریہ -