دودہائیوں سے کشمیری عوام کامسلح فورسز کے ہاتھوںقتل عام جاری ہے، سید علی گیلانی

دودہائیوں سے کشمیری عوام کامسلح فورسز کے ہاتھوںقتل عام جاری ہے، سید علی ...

  

سرینگر(کے پی آئی)چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس (گ)سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی پالیسی کے تسلسل کوسخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے سمیت انسانیت کے دائرے میں رہ کر اقدامات شروع کرنے چاہئیں۔ گیلانی نے کہاکہ نئی دلی میں آنے والی حکومتیں سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے انسانیت کے دائرے میں کشمیر مسئلہ کاحل نکالنے میں ابھی تک ناکام ہوئے ہیں ۔حیدر پورہ میں عطیہ خون کیمپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گیلانی نے کہاکہ جب اٹل بہاری واجپائی نے مسئلہ کشمیر انسانیت کے دائرے میں رہ کر حل کرنے کی بات کہی تو اس وقت سبھی نے اس کی سراہنا کی لیکن نہ تو خود واجپائی اور نہ ہی ان کے مابعد آنے والی حکومتوں نے اپنے قول وفعل کے تضاد کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ابھی تک بھارت اپنے روایتی ہٹ دھرمی کی پالیسی پر گامزن ہے ۔حرےت چیئرمین کا کہنا تھا کہ کشمیر مسئلہ کے حل میں تاخیر کا خمیازہ کشمیری عوام کو گذشتہ کئی دہائیوں سے بھگتنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ دودہائیوں سے کشمیری عوام کو مسلح فورسز کے ہاتھوں مارا جارہا ہے-

 اور یہ خوبصورت وادی بیواوں اور یتیموں سے بھری جار ہی ہے اور بھارت کشمیر کو اپنی ہٹ دھرمی کی بنا پر یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ گیلانی نے کہاکہ کشمیر صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اور اسکے حل میں تاخیر کی وجہ سے اقتصادی،سماجی اور انسانی پہلو بھی اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خطے میں پائیدار امن کیلئے کشمیر اشو کا حل لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرارداوں اور انسانیت کے دائرے کے مطابق نکالنے کیلئے اقدامات کرے ۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ کشمیر کوئی فرقہ واریت کا مسئلہ ہے اور نہ ہماری بھارت یا یہاں کے باشندوں کے ساتھ کوئی دشمنی ہے۔ انسانیت کا احترام کرنا ہمارے دین کا لازمہ ہے اور ہم ہر مذہب کے ماننے والوں، یہاں تک کہ ملحدوں کو بھی انسانی رشتے کے اپنے بھائی مانتے ہیں۔ انسانی زندگی ہمارے نزدیک سب سے محترم شئے ہے اور کسی بھی انسان کی ناحق جان لینا ہم پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف جرم مانتے ہیں، اس موقعے پر گیلانی نے پاکستان کا کشمیراشو کے حوالے سے اپنے تعلق اور سنجیدگی دکھانے پر شکریہ ادا کیا۔سید علی گیلانی بلڈ بینک قائم کرانے کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ 2008اور 2010 کی عوامی تحاریک کے دوران سینکڑوں لوگ ہلاک، جبکہ ہزاروں زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کےلئے اسپتالوں میں وافر مقدار میں خون دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اسپتالوں میں داخل عام بیماروں کے تیمارداروں کا ضرورت پڑنے پر خون کے لےے ہمارے دفتر کا رخ کرنا وہ بنیادی اسباب تھے، جن کے بعد ہم نے ایک بلڈ بینک قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس بلڈبینک کا قیام محض انسانی بنیادوں پر عمل میں لایا گیا ہے اور ہمارا ہدف ہے کہ ہر کسی ضرورت مند چاہے وہ کسی بھی مذہب، کسی بھی قوم اور کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو، کی مدد کی جائے اور قیمتی انسانی زندگیاں بچانے میں تعاون کیا جائے۔اس دوران میں حریت ترجمان کے مطابق سینکڑوں نوجوانوں نے جوق در جوق حیدرپورہ آکر خون عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کی، البتہ اسپتال عملے کے پاس اتنی گنجائش نہیں تھی اور اس مجبوری کے سبب کل ملاکر 70،72نوجوان ہی اس کارخیر میں شرکت کرسکے۔عیدالفطر کے فورا بعد خون عطیہ کرنے کا ایک بہت بڑا کیمپ لگانے کی کوشش کی جائے گی۔

مزید :

عالمی منظر -