یوکرائنی صدرکی جنگ بندی کی پیشکش باغیوں نے مسترد کر دی

یوکرائنی صدرکی جنگ بندی کی پیشکش باغیوں نے مسترد کر دی

  

 کیف (آن لائن)یو کرا ئن کے علا قے ڈونیٹسک میں باغیوں کے اہم کمانڈر نے نئے یوکرائنی صدر پورو شینکو کی جا نب سے مشرقی یوکرائن میں جنگ بندی کی پیشکش کو بے معنی قراردیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق صدر پیٹرو پوروشینکو نے اعلان کیا تھا کہ مشرقی یوکرائن میں اْن کی فوج جلد ہی یک طرفہ طور پر جنگ بندی پر عمل شروع کر دے گی۔ تا ہم ڈونیٹسک علاقے کے باغیوں کے ایک اہم کمانڈر ڈینس پْشلِن نے یوکرائنی صدر کی پیشکش کے حوالے سے روسی ٹیلی وژن پر گفتگو کرتے ہوئے اِسے بے معنی قرار دیتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

پْشلِن کا شک کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اْن کے ساتھی ہتھیار پھینک دیں اور پھر جنگ بندی کے دوران انہیں بغیر ہتھیاروں کے قابو کر لیا جائے۔

اْدھر سابقہ سوویت جمہوریہ آذربائیجان کے دورے پر گئے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے صدر پوروشینکو کی جنگ بندی کی پیشکش پر محتاط انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عارضی نہیں بلکہ جامع اور مستقل بنیاد پر ہونا ضروری ہے۔ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مشرقی یوکرائن کے باغیوں کے بعض لیڈران نے رواں ہفتے کے دوران ماسکو کا دورہ کیا اور اس دورے میں انہوں نے اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کے علاوہ اراکین پارلیمنٹ سے ملاقاتیں بھی کیں۔ اسی دوران باغیوں اور حکومتی فوج نے مشرقی قصبے کارلیوکا میں کچھ دیر کے لیے جنگ بندی پر عمل کیا۔

مزید :

عالمی منظر -