کرکٹ بورڈ غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان لانے کیلئے مشکلات کا شکار

کرکٹ بورڈ غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان لانے کیلئے مشکلات کا شکار
کرکٹ بورڈ غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان لانے کیلئے مشکلات کا شکار
کیپشن: afzel

  

پاکستان کرکٹ بورڈ کی غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان لانے کی کوششوں کو ایک مرتبہ دوبارہ مشکلات کا سامنا درپیش ہے کراچی ائرپورٹ پر ہونے والے حملہ کے بعد اب غیر ملکی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کردیا ہے بورڈ کے مطابق آئرلینڈ اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کو ورلڈ کپ سے قبل پاکستا ن آکر کھیلنے کےلئے آمادہ کیا جارہا تھا اور اگر یہ حادثہ پیش نہ آتا تو امید تھی کہ یہ دونوں ٹیمیں اس سال پاکستان کا دورہ کرکے یہاں پر انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کردیتی لیکن اب جب ملک میں حالات ایک مرتبہ دوبارہ پر امن نہیں ہیں تو ان ٹیموں کی وطن واپسی کی تمام امیدیں اب دم توڑ گئیں ہیں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی اب تو خواب بن کر رہی گئی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی بھی اسوقت شدید مایوسی کا شکار ہیں انہوں نے بلاشبہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لئے آواز بلند کی جب ان کی کوششوں کو کامیابی ملنے والی ہوتی ہے تو اس وقت ایسا کوئی واقعہ پیش آجاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی کوششوں کو دھچکہ لگتاہے اور سب بہت پیچھے چلا جاتا ہے اسوقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے سب سے بڑا چیلنج پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہے ہر ملک میں کھلاڑی آجارہے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں تین سال سے زائدعرصہ گزر گیا لیکن اس حوالے سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور اس وقت دو ر دور تک اس کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آرہا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس حوالے سے ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کیا ہے بہرحال اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کو یقنی بنایا جائے کیونکہ شائقین کرکٹ اور اس کے ساتھ ساتھ کرکٹ ٹیم کی بھی یہ درینہ خواہش ہے چاہے کوئی بھی ٹیم پاکستان آکر کھیلے اب یہ کارنامہ سر انجام ہونا چاہئیے پاکستان کرکٹ ٹیم اب طویل عرصہ کے بعد سری لنکا کا دورہ کررہی ہے اور اس دورہ سے شائقین کرکٹ کو بہت امیدیں وابستہ ہیں اور اس ایونٹ کےلئے پاکستان کی ٹیم نے بہت محنت بھی کی ہے لیکن اب ٹیم کیسی پرفارمنس دیتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس بھی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے والے ہیں اور ان کے لئے بھی یہ ایک بہت بڑا امتحان ہوگا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کواب کس طرح سر انجام دیتے ہیں وقار یونس نے اس سے قبل بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کےلے کام کیا ہے اور ان کی کارکردگی پہلے تو اتنی متاثر کن نہیں رہی لیکن اب امیدہے کہ وہ اب پہلے سے زیادہ محنت کریں گے کیونکہ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج کرکٹ ورلڈ کپ ہے اورا س ورلڈ کپ کےلئے ٹیم کو تیار کرنا ان کے لئے سب سے بڑا ٹارگٹ ہے اور اب وہ کس طرح اس حوالے سے اپنا کام کرتے ہیں اور کس طرح کھلاڑیوں کی تربیت کرتے ہیں یہ بھی ایک چیلنج ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے ورلڈ کپ میں عمدہ پرفارمنس بھی ایک چیلنج ہے جبکہ اس سے قبل سری لنکا کے خلاف اس نے دورہ کرنا ہے اور ورلڈ کپ سے قبل اس دورہ میں بھی پاکستان کی کارکردگی کھل کر سامنے آجائے گی جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے گا کہ وہ میگا ایونٹ میں کس طرح کی پرفارمنس دے سکتی ہے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -