منہاج القرآن کون کون گیا ؟کس نے تفصیل مانگ لی

منہاج القرآن کون کون گیا ؟کس نے تفصیل مانگ لی

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل جوڈیشل ٹریبونل نے ماڈل ٹاؤن آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں، افسروں کے نام اور تعداد طلب کرلی ہے، آپریشن میں شریک اہلکاروں کو احکام جاری کرنے والے پولیس افسروں کے نام بھی جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ جوڈیشل ٹریبونل کے پہلے دن اوپن کارروائی شروع کی تو آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا، ڈی سی او کیپٹن (ر) محمد عثمان اور ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے احد خان چیمہ پیش ہوئے۔آئی جی پولیس نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات میرٹ پر کی جائیں گی، ڈی سی او لاہور کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیاکہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے اردگرد کاروٹوں کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا تھا، ٹریبونل نے رپورٹ جمع نہ کرانے پر ڈی جی ایل ڈی اے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی اے کا جو بھی موقف ہے وہ ٹریبونل کے روبرو جمع کرایا جائے، ٹریبونل نے رپورٹ دیکھنے کے بعد آئی جی پولیس کو حکم دیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر جمع کرائی جائے جبکہ واقعہ کی تفتیشی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر جمع کرائی جائے، ٹربیونل نے مزید حکم دیا کہ آپریشن میں شریک تمام مسلح اور غیرمسلح اہلکاروں کے نام اور تعداد جبکہ ان اہلکاروں کی نگرانی کرنے والے پولیس افسروں کے نام اور تعداد بھی ٹربیونل میں پیش کی جائے، ٹربیونل نے آپریشن میں شریک پولیس اہلکاروں اور نگران افسروں کو احکامات دینے والے پولیس افسروں کے نام بھی طلب کئے ہیں، ٹربیونل نے ڈی سی او لاہور کو حکم دیا کہ منگل کے روز آپریشن کرنے گئے ضلعی حکومت کے اہلکاروں کے نام، تعداد جبکہ رکاوٹوں سے متعلق ضلعی حکومت اور منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے مابین ہونے تمام خط و کتابت کا ریکارڈ بھی آج2:00 بجے تک پیش کیا جائے، ٹریبونل نے مذکورہ احکامات جاری کرنے کے بعد مزید کارروائی آج تک ملتوی کر دی ہے، جوڈیشل ٹریبونل کی کارروائی میں شریک وکلاء نے ٹریبونل کے سربراہ سے کہا کہ انہیں بطور ٹریبونل یہ کارروائی بند کردینی چاہیے کیونکہ پنجاب حکومت اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے جوڈیشل ٹریبونل کے پیچھے چھپ گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ ماضی میں قائم کئے گئے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹس پر کسی حکومت نے عملدرآمد نہیں کیا اس لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا کوئی جواز نہیں۔ وکلاء نے ٹربیونل کو بتایا کہ پولیس اور پنجاب حکومت کے ایما پرسانحہ ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والے اور زخمی ہونے والے افراد کی میڈیکل اور پوسٹ مارٹم رپورٹس تبدیل کی جا رہی ہیں، وکلاء نے مزید تجویز دی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دن پولیس افسروں اور حکومت کے مابین ہونے والے موبائل کالز کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔ ، شام گئے ڈی جی ایل ڈی اے کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایل ڈی اے کا منہاج القرآن سیکرٹریٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی سیکرٹریٹ کے ارد گرد سے رکاوٹیں ہٹانے سے متعلق ان کی حکومت یا پولیس سے کوئی ملاقات ہوئی۔

مزید :

صفحہ اول -