آئی ایس آئی ایس کو ایران نے پروان چڑھایا، امریکی تجزیہ نگار

آئی ایس آئی ایس کو ایران نے پروان چڑھایا، امریکی تجزیہ نگار

  

واشگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) دو معروف امریکی تجزیہ نگاروں نے عراق کے مسئلے پر ایران کے ساتھ امریکی تعاون کی مخالفت کی ہے اور تجزیہ کرتے ہوئے پاکستان پر بھی سنگین الزامات عائد کر دیئے ہیں۔ ”بروکنگز انسٹی ٹیوشن“ کے سینئر فیلو مائیکل ڈرون اور ”کونسل اون فارن ریلیشنز“ کے سینئر فیلو میکس بوٹ کا ایک مشترکہ تجزیہ ”واشنگٹن پوسٹ“ میں شائع ہوا ہے جس میں امور مشرق وسطیٰ کے ان ماہرین نے بنیادی طور پر عراق کی تازہ صورتحال میں ایران کے کردار کا جائزہ لیا ہے اور ساتھ میں پاکستان کو بھی اپنے الزامات کی لپیٹ میں لے آئے ہیں۔ یہ تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ ”ہم پاکستان کے بیک وقت آگ لگانے اور آگ بجھانے کے دوہرے کردار کے عادی ہو چکے ہیں۔“ ان کے مطابق پاکستان نے ایک طرف اسامہ بن لادن کو پناہ دی اور جہادی گروپوں کی حمایت کی اور دوسری طرف دہشتگردی کے خلاف واشنگٹن کا اتحادی بن کر اس سے امداد بھی حاصل کرتا رہا۔ تجزیہ نگاروں کی رائے میں پاکستان کی طرح اب ایران عراق میں اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ امریکی امداد کا خواہاں نہیں ہے بلکہ اس کی بجائے ایٹمی مسئلے پر امریکی اور مغربی حمایت چاہتا ہے۔ ان تجزیہ نگاروں نے الزام لگایا ہے کہ اگرچہ ایران شیعہ عقیدہ رکھتا ہے لیکن اس نے عراق میں سنی عقیدے کی تحریک ISISکی خفیہ امداد کر کے اسے ابھرنے کا موقع دیا۔ ان ماہرین کے خیال میں ایران نے ایسا اس لئے کیا کہ عراق کے شیعہ وزیر اعظم نوری الملکی اور شیعہ آبادی کو ایران کی اہمیت کا احساس ہو اور وہ ایرانی مدد کی خواہش کریں۔ ان ماہرین کی تھیوری کے مطابق ایران کا مقصد ISISکو ابھار کر امریکہ کو خوف زدہ کرنا تھا تاکہ وہ اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لے اور اب بالکل ایسا ہی ہوا ہے کہ امریکہ نے عراقی جنگجوﺅں کی پیش رفت کو روکنے کے لئے ایران سے تعاون طلب کر لیا ہے۔مائیکل ڈرون اور میکس بوٹ اپنے مشترکہ تجزیے میں لکھتے ہیں کہ عراق کی شورش میں اضافے کے بعد ایک مرتبہ پھر امریکہ میں یہ سوال اٹھا ہے کہ صدر جارج ڈبلیو بش اور صدر اوبامہ سے عراق کے معاملے میں کیا کیا غلطیاں ہوئی ہیں اور تازہ صورتحال میں امریکہ کو کیا کرنا چاہئے۔ زیادہ تر لوگ اپنے صدور کی سابق غلطیوں کو نظر انداز کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کی ایک مثال سینیٹر لُنڈسے گراہم ہیں جو اوبامہ انتظامیہ کے مخالف ہیں لیکن انہوں نے عراق میں دہشتگرد تنظیم کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایران کا تعاون حاصل کرنے کی بھرپور حمایت کی ہے۔ اصل میں ان ماہرین نے شام کی اعتدال پسند اپوزیشن کا حوالہ دیا ہے جن کے خیال میں ISISکو ایران نے خفیہ طور پر پروان چڑھایا ہے۔ شامی حزب اختلاف کی اس رائے میں مبالغہ ہو سکتا ہے لیکن اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ امریکی انٹیلی جنس کو یقین ہے کہ ایران نے القاعدہ کے ایک ہلاک شدہ لیڈر ابوالمعصب الزر قوی کو نہ صرف پناہ دی تھی بلکہ اس کی مالی امداد بھی کی تھی۔ISISکو تشکیل دینے میں اس لیڈر کا بھی بہت ہاتھ تھا۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس وقت ایران ISISکا دشمن ہے پھر بھی امریکہ کو ایران کی انقلابی گارڈ کی حمایت حاصل نہیں کرنی چاہئے اور یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ گزشتہ تیس سال سے زائد عرصے میں اس نے متعدد بار امریکی تنصیبات پر حملے کئے ہیں۔ شام میں ایران کے حامی گروہوں نے وہاں مزاحمتی تحریک کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے جہاں خانہ جنگی میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کا اتحاد وجود میں آ جاتا ہے تو ایٹمی ایران سنی عرب دنیا کے خلاف مضبوط حیثیت میں کھڑا ہو جائے گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے اس عرب دنیا میں القاعدہ کی ایک موثر حیثیت ہے۔

مزید :

صفحہ اول -