رانا ثناءاللہ کے معاملے پر نواز لیگ بھی دو دھڑو ں میں تقسیم ہو گئی

رانا ثناءاللہ کے معاملے پر نواز لیگ بھی دو دھڑو ں میں تقسیم ہو گئی

  

لاہور(انویسٹی گیشن سیل)منہاج القرآن سیکرٹریٹ آپریشن پر حکومت پر کڑی تنقید کے بعدتوپوں کا منہ رانا ثناءاللہ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔وزیر قانون کو معاشرے کے تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ جہاں اپوزیشن جماعتیں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناءاللہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں وہاں مسلم لیگ(ن)بھی رانا ثناءاللہ کی سے استعفیٰ لے کر معصومیت کا مظاہر ہ کر سکتی ہے جبکہ ذرائع سے معلوم ہو ا ہے رانا ثناءاللہ کے معاملے پر نواز لیگ بھی دو دھڑو ں میں بٹ چکی ہے ایک دھڑارانا ثناءاللہ کے مستعفی ہونے کے حق میںہے تو دوسرا کسی صورت میں بھی وزیر قانون کو حکومت سے الگ نہیں دیکھنا چاہتا۔رانا ثناءاللہ کی گفتگو نے سانحہ لاہور کے حوالے سے جلتی پر تیل کا کام کیا جس سے حکومت مخالف جذبات مزیڈ بھڑکنے لگے بلکہ بعض اخبارات میں خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ منہاج سیکرٹریٹ آپریشن کا فیصلہ اور فائرنگ کر کے طاہر القادری کے کارکنوں کا قتل اور زخمی کرنے کا حکم بھی رانا ثناءاللہ کا تھا۔پنجاب حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے رانا ثناءاللہ کی وزارتوں کے حوالے سے اگلے دو سے تین دن نہایت اہمیت اختیار کر گئے ہیں جن میں وزیر قانون و بلدیات کو وزارتوں سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -