قومی اسمبلی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر اپوزیشن ارکان کی حکومت پر کڑی تنقید

قومی اسمبلی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر اپوزیشن ارکان کی حکومت پر کڑی تنقید

  

                                    اسلام آباد(اے این این) قومی اسمبلی میں وزارت پانی و بجلی کے مطالبات زر پر کٹوتی کی تحریکوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن اراکین نے لوڈشیڈنگ پر حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومتی انتخابی دعوے ٹھس ہوگئے ہیں۔ پی پی کے غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ آئی پی پیز کی ریاستی ضمانت واپس لے لی گئی ہے اور منشاءگروپ کا اہم کردار ہے۔ گردشی قرضہ پھر 300 ارب پر آگیا ہے ملک میں سولہ سولہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ شارٹ فال بہت زیادہ ہوگیا ہے ۔ پی پی حکومت نے جو بجلی منصوبے لگائے تھے براہ کرم اسکا کریڈٹ تو ہمیں دیا جائے ۔زچ اور گدو پاور پراجیکٹ ہم نے شروع کیے تھے ۔ عابد شیر علی غصیلے آدمی ہیں انہیں مزاج میں نرمی لانی چاہیے ۔ جاوید احمد خان نے کہا کہ دہشت گردی کے بعد سب سے بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ کا ہے ۔ لوڈشیڈنگ ایک دو سال میں ختم نہیں ہوسکتی بجلی پانی کے وزیر، وزیر مملکت اور مشیر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آتے ۔ شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ اگر لوڈشیڈنگ ختم نہ کردوں تو نام بدل دینا! ہم سوچ رہے ہیں کہ ان کا کیا نام رکھا جائے؟ حکومت دعوے کرتی ہے کہ 2000 میگاواٹ سسٹم میں شامل کر دی ہے مگر پھر بھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوئی۔ کے پی کے کے اضلاع میں بجلی چوری ثابت ہو جائے میں استعفیٰ دے دوں گا ورنہ عابد شیر علی مستعفی ہوں ۔ ہم سب سے زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں مگر لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ملتی ہے ۔ پی پی کی بیلم حسنین نے تجویز دی کہ حکومت لوڈشیڈنگ تو ختم نہیں کرسکی بہتر ہے دستی پنکھوں کی صنعت لگا کر رمضان المبارک میں گھر گھر” دستی پکھیاں“ تقسیم کی جائیں تاکہ روزے تو آسانی سے گزر جائیں ۔ انتخابات میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوےٰ کہاں گئے؟ دوست ممالک کے اربوں ڈالر کے تحفے بجلی کی پیداوار پر خرچ کیوں نہیں کیے جاتے؟۔ ایم کیو ایم کے محبوب عالم نے کہا کہ اگلی جنگ عظیم پانی پر ہوگی ۔ پانی کے ذخائر میں کمی ہورہی ہے ٹینکر مافیا کا شہروں میں راج ہے ۔ بجلی کے متبادل ذرائع پر توجہ دی جائے ۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ظلم ہے ۔ وزیر صاحب کو صرف عوام ہی بجلی چور نظر آتے ہیں خود اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ یہی عوام انکو ایوانوں میں پہنچاتی ہے ۔ پی پی کے منور علی تالپور نے کہاکہ ملک میں پانی کا یہ عالم ہے کہ مجھے شعر یاد آگیا ہے ۔ ” پانی آنے کی بات کرتے ہو، دل جلانے کی بات کرتے ہو ہم نے چھ دن سے منہ نہیں دھویا، تم نہانے کی بات کرتے ہو“۔ انہوں نے کہا کہ ارسا میں سندھ کا ممبر نہیں ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بند بنا رہا ہے ہم بنجر ملک بن جائیں گے ۔ چشمہ جہلم لنک کینال بند کی جائے ۔ عوام لوڈشیڈنگ سے بے حال ہیں اور وزیراعظم صاحب ٹھنڈے ملکوں کے ٹور کررہے ہیں ۔ سندھ میں ( آر بی او ڈی) منصوبہ بحال کیا جائے لگتا ہے ملک میں گلوبٹ کی حکومت ہے ۔ نفیسہ عنایت اللہ نے کہا کہ صوبوں میں پانی منصفانہ تقسیم کی جائے ۔1991ءکے پانی معاہدے پر عمل کیا جائے ۔ وزارتوں کو اخراجات کم کرنے چاہئیں۔ نذیر بگھیو نے کہا کہ بھاشا ڈیم منصوبے پر کام تیز کیا جائے ۔ میٹرو بس یا ٹرین کے بجائے بجلی کے منصوبے شروع کیے جائیں ۔ کراچی لاہور موٹروے کی فی الحال ضرورت نہیں ہے ۔ موٹروے تو امیروں کی گاڑیوں کیلئے ہوتی ہے غریب کو روٹی اور چلتا ہوا پنکھا چاہیے ۔ وسیم حسین نے کہا کہ لگتا ہے کہ پاکستان کی لوڈشیڈنگ صرف آسمانی بجلی ہی دور کرسکتی ہے حکمرانوں سے تو کوئی امید نہیں خدا سے ہی دعا ہے کہ آسمانی بجلی اتار دے ۔ جمشید دستی نے کہا کہ کوئی حکومت کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکی ۔ کالا باغ ڈیم نہ بنانے کی سزا لوڈشیڈنگ کی صورت میں مل رہی ہے ۔ مظفر گڑھ3200 میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے مگر پھر بھی بائیس بائیس گھنٹے لوڈشیڈنگ ہے ۔ واپڈا اہلکار چوری میں ملوث ہیں حکومت بجلی چوری روکتی تو آج طاہر القادری سے خوفزدہ نہ ہوتی ۔ نندی پور کا ٹربائن ٹھس کرگیا ہے ۔ بجلی کے حمام میں سب ننگے ہیں۔ فرنس اور کول پلانٹ شہروں میں نہ لگائے جائیں ۔ شاہدہ رحمانی نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پیپلز پارٹی کو لے ڈوبی تھی اب ن لیگ کو لے ڈوبے گی۔ کراچی میں آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی نہیں آتی۔ پانی کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ ن لیگ کے انتخابی وعدے کہاں گئے۔ عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم اختلافات کی وجہ سے نہیں بن سکا۔ بھاشا ڈیم کی اراضی کے حصول کیلئے رقم مختص کردی ہے ۔ بھاشا ڈیم ہر صورت بنائیں گے ۔ اس سے تربیلا کی زندگی میں 35 سال اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تھرکول منصوبہ سندھ حکومت کے ماتحت ہے۔ چینی کمپنیاں پاکستان میں ٹرانسمیشن لائنوں کی اپ گریڈیشن پر 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرینگی۔ ٹرانسمیشن لائن کی بہتری سے لائن لاسز کم ہونگے۔ کے ای ایس سی کو قومی گرڈ سے 650 میگاواٹ بجلی ملتی ہے۔ کراچی کی لوڈشیڈنگ ہمارے دائرہ کار میں نہیں ہے امید ہے تھر سے اگلے تین سال میں بجلی کی پیداوار کا آغاز ہو جائے گا۔ سندھ حکومت کو تھر منصوبے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ آئی پی پیز کا منصوبہ پی پی کے دور میں لگا اس وقت تیل سستا تھا ۔ تیل مہنگا ہونے سے یہ بوجھ بن گیا ۔ ہماری توجہ پن بجلی پر ہے ۔ نیلم جہلم منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔ آزاد کشمیر میں ایک ہزار میگاواٹ کے چھوٹے چھوٹے پن بجلی منصوبے شروع کیے جارہے ہیں۔ تربیلا نورتھ اور ففتھ سے 2018ءمیں 2800 میگاواٹ بجلی آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ 10 کروڑ روپے کی رشوت کی خاطر نندی پور منصوبہ روکا گیا ۔ رشوت مانگنے والے دندناتے پھر رہے ہیں ۔ نندی پور تاخیر کی وجہ سے قومی معیشت کو 113 ارب روپے سالانہ نقصان ہوا۔ نندی پور منصوبہ اپریل 2011ءمیں شروع ہوا تھا۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -