سانحہ لاہور کی چھان بین کرنے والا کمیشن فوجداری کی بجائے دیوانی اختیارات استعمال کریگا

سانحہ لاہور کی چھان بین کرنے والا کمیشن فوجداری کی بجائے دیوانی اختیارات ...

  

                                 لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) سانحہ لاہور کی چھان بین کرنے والا کمیشن فوجداری کی بجائے دیوانی اختیارات استعمال کریگا۔کمیشن کے طلب کئے جانے کے باوجود حاضر نہ ہونے والے کسی بھی فرد کو بذریعہ پولیس گرفتار کرکے پیش نہیں کیا جاسکے گا۔ کمیشن کے روبرو منہاج القرآن کی انتظامیہ ومتاثرہ افراد یا ان کے لواحقین کے پیش نہ ہونے کی صورت کمیشن کے لیے حقائق کی تلاش مشکل ہوگی۔معلوم ہواہے کہ ملک میں کسی بھی حادثے ، سانحے یا واقعے کی چھان بین کے لیے انکوائری کمیشن قائم کرنے کے لیے دو الگ الگ قوانین ، دی کمیشن آف انکوائریز ایکٹ1956اور دی ویسٹ پاکستان ٹربیونلز آف انکوائریز آرڈیننس 1969موجود ہیں۔ پہلے قانون کے تحت بننے والے کمیشن کو حکومتی کمیشن یا انکوائری کمیشن قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس قانون کے سیکشن 3(1)اور سیکشن5(1)کے تحت حکومت عدالت عظمیٰ یا عدالت عالیہ کے کسی جج کو کسی حادثے ، واقعے یا سانحے کی انکوائری کے لیے مقرر سکتی ہے۔ جبکہ دی ویسٹ پاکستان ٹربیونلز آف انکوائریز آرڈیننس 1969کے تحت قائم کئے جانے والے انکوائری کمیشن کو جوڈیشل کمیشن قرار دیا جاتا ہے۔ اور کمیشن کے سربراہ یا ممبر ان کا تقرر چیف جسٹس کرتے ہیں۔ سانحہ لاہور کی انکوائری لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی کررہے ہیں۔ اور ان کا تقرر لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کیا ہے۔لیکن ذرائع سے معلوم ہواہے کہ مسٹر جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل یہ جوڈیشل کمیشن دی ویسٹ پاکستان ٹربیونلز آف انکوائریز آرڈیننس 1969کے تحت فوجداری کی بجائے ضابطہ دیوانی کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی بھی شخص کو طلب کرسکتا ہے۔ سانحے سے متعلق دستاویزات ، فوٹیج یا گواہوں کو طلب کرسکتا ہے۔ ان سے حلف لے سکتا ہے۔ اور دستاویزات وغیرہ کا معائنہ کرسکتا ہے۔لیکن کسی متعلقہ شخص کو طلبی پر مجبور نہیں کرسکتا۔قانونی و آئینی ماہر ڈاکٹر خالد رانجھا اور احمد رضا قصوری کی رائے ہے کہ لاہور جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد لاہور پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے بوکھلاہٹ کا ثبوت دیا ہے کیونکہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد ایف آئی آر درج نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ بلکہ کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں مقدمہ درج کیا جانا چاہیے تھا۔ آئینی ماہرین کا کہناتھا کہ مذکورہ کمیشن سول اختیارات استعمال کریگا۔ اور کسی شخص کی طلبی کے باوجود اس کے پیش نہ ہونے پر کمیشن اس کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں کرسکتا۔ذرائع کے مطابق منہاج القرآن کی انتظامیہ نے حکومت کی درخواست پر قائم کئے جانے والے اس جوڈیشل کمیشن کو تسلیم کرنے اور کمیشن کے روبروپیش ہونے سے انکار کردیا ہے۔ ایسی صورت میں کمیشن کے لیے حقائق کی تلاش مشکل ہوگی۔ اور کمیشن ، پولیس و سرکاری موقف اور دیگر شہادتوں کی روشنی میں ہی اپنی رپورٹ ارسال کریگا۔

 دیوانی اختیارات

مزید :

صفحہ آخر -