گلو بٹ کا عمل واضح، گلو بٹ کے ساتھ سلوک سوالیہ نشان؟

گلو بٹ کا عمل واضح، گلو بٹ کے ساتھ سلوک سوالیہ نشان؟
گلو بٹ کا عمل واضح، گلو بٹ کے ساتھ سلوک سوالیہ نشان؟
کیپشن: ch khadim hussain

  

چوہدری خادم حسین

شمالی وزیرستان میں آپریشن ”ضرب عضب“ جاری ہے۔ پاک فوج نے فضائیہ کی مدد سے شدت پسندو ں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور ان کو گھیرے میں لے رکھا ہے ، اس اثناءمیں ڈرون پھر نمودار ہوا اور گزشتہ روز میزائل برسا کر چلا گیا۔ شمالی وزیرستان کے حوالے سے پاک فوج کا شعبہ اطلاعات (آئی ایس پی آر) روزانہ کی بنیاد پر خبر فراہم کر رہا ہے اور تقاضہ ملی بھی یہی ہے کہ جب تک معرکہ جاری ہے انحصار آئی ایس پی آر پر ہی کیا جائے۔ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں زمینی دستوں کو چوکس کرتے ہوئے فضا سے کارروائی میں تعطل پیدا کیا گیا اور بتایا گیا کہ تین روز کے لئے کرفیو میں نرمی کی گئی تاکہ پرامن شہری آسانی سے نقل مکانی کر سکیں ان کے لئے بنوں میں کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔ جہاں وفاقی حکومت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے علاوہ حکومت خیبرپختون خوا بھی ان بے گھر ہونے والوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ کرفیو صبح پانچ بجے سے رات سات بجے تک نرم ہو گا، اس اثناءمیں شدت پسندوں کے خلاف زمینی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

شمالی وزیرستان میں ایک بڑا آپریشن جاری ہے تو لاہور میں افسوسناک سانحہ کے بعد گلو بٹ آپریشن شروع ہو گیا کہ ایک طرف تو پولیس تشدد کی مذمت ہو رہی ہے، صوبائی حکومت اور پاکستان عوامی تحریک آمنے سامنے ہیں، دوسری طرف گلوبٹ کو پولیس کی تحویل میں ہوتے ہوئے بہت بری طرح سے زد و کوب کیا گیا اوراسے ہسپتال لے جانا پڑا۔ یہ تشدد اس وقت کیا گیا جب گلو بٹ کو عدالت میں پیشی کے لئے لایا گیا اور اسے ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ مشتعل حضرات میں باریش نوجوان، ادھیڑ عمر اور وکلاءکی معقول تعداد بھی تھی۔

یہ صورتحال قطعاً خوشگوار نہیں ہو سکتی۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کا رجحان عرصہ سے جاری ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ جب سے سابق چیف جسٹس کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک چلی تب سے وکلاءکے بعض گروہوں نے اپنا طرز عمل لاٹھی اور بھینس والا بنا لیا ہوا ہے۔ حالانکہ وکلاءقانون کے محافظ ہیں، ایک پرانا واقعہ عرض کریں کہ اس لاہور میں ایک بیرسٹر کی جرمن بیوی کی عزت پر حملہ کیا گیا (نام جان بوجھ کر نہیں لکھے کہ بہت دیرینہ ہے) وکلاءنے احتجاج کیا مقابلے میں بریگیڈیئر(ر) کا صاحبزادہ ملزم تھا، ان کو کوئی وکیل نہ ملا اور گجرات سے وکیل لا کر مقدمہ لڑنا پڑا۔ ملزموں کو سزا ہوئی، حالانکہ بقول وکلاءمقدمہ میں بعض خامیاں بھی تھیں ۔گلوبٹ کا ”کارنامہ“ ٹی وی فوٹیج کے ذریعے دنیا نے دیکھا، لوگ نفرت کا اظہار کر رہے تھے۔ یہ بھی ایک ثبوت ہے لیکن یہ سب گلو بٹ اور ملوث پولیس کے خلاف قانونی طور پر استعمال ہونا چاہئے۔ گلو کو شدید زد و کوب کرنے سے کسی کے مشتعل جذبات کی تسکین تو یقینا ہو سکتی ہے لیکن اس سے معاشرتی اور عدالتی فائدہ نہیں ہو گا۔ بہتر عمل جذبات کو قابو رکھ کر صحیح سیاسی اور قانونی طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔

اس وقت جو حالات ہیں، ان کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں سخت دباﺅ میں ہیں اور اس دباﺅ کو انتظامی اور سیاسی اعتبار سے کم یا ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، میاں شہباز کی طر ف سے منہاج القرآن جا کر تعزیت کی خواہش ان کا اپنا بہتر اقدام تو منہاج القرآن کی طرف سے مہذب پیرائے میں منع کر دینا بھی بہتر عمل ہے۔

حکومت کی درخواست پر چیف جسٹس نے جوڈیشل کمشن تشکیل دیا جس نے کام شروع کر دیا۔ اگر عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری نے بائیکاٹ کیا۔ عمران خان نے مسترد کر دیا تو جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاءکی طرف سے وکلاءپیش ہو سکتے ہیں کہ عدالتی تحقیقات یکطرفہ رخ اختیار نہ کرے۔ حکمت عملی تو یہ ہے کہ کوئی محاذ خالی نہ چھوڑا جائے اگر مکمل بائیکاٹ کیا جائے تو جن پر الزام ہے وہ اپنی صفائی کا اہتمام کریں گے ۔

جہاں تک سیاسی صورتحال کا تعلق ہے تو وہ ابھی بہت زیادہ واضح نہیں، مسلم لیگ (ق) کے راہنمایان چوہدری برادران تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین نے برے حالات میں بھی کسی سے بگاڑی نہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے وزیر داخلہ کی حیثیت سے آصف علی زرداری کو بلاول ہاﺅس اسلام آباد میں رکھنے کے لئے بلاول ہاﺅس کو سب جیل قرار دے دیا تھا۔ اب محترم چوہدری شجاعت حسین حکومت مخالف وسیع تر سیاسی اتحاد بنانے کے لئے سرگرم ہیں کہ لندن میں عوامی تحریک کے ساتھ دس نکات پر متفق ہو کر پہلا قدم اٹھا چکے ہوئے ہیں۔ ابھی کل ہی انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی جو بیک وقت حکومتی حلیف بھی ہیں اور روٹھے روٹھے بھی رہتے ہیں، یہ درست ہے کہ چوہدری شجاعت حسین جس سے بھی ملنا چاہیں گے، مل لیں گے کوئی انکار نہیں کرے گا۔ لیکن پالیسی اور مفادات سب کے اپنے ہیں یہ 1977ءنہیں۔ یوں بھی جب پی این اے بنا تو بہت سی قوتیں کام کر رہی تھیں۔ آج وہ صورتحال بھی نہیں۔ اس لئے چوہدری شجاعت کی کاوش ہم خیال(عوامی تحریک، عوامی مسلم لیگ ، تحریک انصاف) جماعتوں تک محدود رہے گی۔ ان میں بھی عمران خان اپنی جماعتی حیثیت اور برتری پر مُصرہوں گے۔ اس لئے اتحاد بن تو سکتا ہے لیکن وسیع تر نہیں، اس کے لئے واضح کرنا پڑے گا کہ اتحاد حاصل کیا کرنا چاہتا ہے۔ کیا ڈاکٹر طاہر القادری کا انقلاب، مڈٹرم انتخابات یا پھر تحریک کا نتیجہ؟

گلو بٹ

مزید :

تجزیہ -